• Mon, 05 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۲۵ء کے دوران سمندروں نے ہر سیکنڈ ہیروشیما کے ۱۲ ایٹم بموں کے برابر حرارت جذب کی

Updated: October 05, 2026, 3:00 PM IST | Washington

انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی اضافی حرارت کا تقریباً ۹۰ فیصد حصہ سمندر جذب کر لیتے ہیں، لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سمندروں کے گرم ہونے کی رفتار دوگنی ہو چکی ہے۔ سطح سمندر کا درجہ حرارت ۲۰۲۳ء، ۲۰۲۴ء اور ۲۰۲۶ء میں ریکارڈ بلند ترین سطح تک پہنچ گیا ہے اور صرف ۲۰۲۵ء میں سمندروں نے مزید ۲۳ زیٹاجولز (zettajoules) حرارت جذب کی۔ یہ مسلسل نویں سال کا نیا سالانہ ریکارڈ ہے، یہ ایک سال تک ہر سیکنڈ میں ہیروشیما پر گرائے گئے ۱۲ ایٹمی بموں سے خارج ہونے والی توانائی کے برابر ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بدھ کو شائع ہوئی ’کوپرنیکس اوشین اسٹیٹ رپورٹ‘ کے دسویں ایڈیشن کے مطابق، دنیا کے سمندر تیزی سے تشویشناک حد تک گرم ہو رہے ہیں۔ اس رپورٹ کو ۱۰۰ سے زائد بین الاقوامی سائنسدانوں نے سیٹیلائٹ، بوائی (buoy) اور سمندری سینسرز کے چار دہائیوں کے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیا ہے۔ رپورٹ تیار کرنے والے ادارے ’مرکیٹر اوشین انٹرنیشنل‘ کے ڈائریکٹر جنرل پیئر باہوریل نے کہا کہ ”سمندر ہماری آنکھوں کے سامنے تبدیل ہو رہا ہے: حدت میں اضافہ، سطحِ سمندر کا بلند ہونا اور ماحولیاتی نظام کی تنزلی، یہ سب نمایاں اور طویل مدتی تبدیلیوں کی باہم جڑی ہوئی نشانیاں ہیں۔“

واضح رہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی اضافی حرارت کا تقریباً ۹۰ فیصد حصہ سمندر جذب کر لیتے ہیں، لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سمندروں کے گرم ہونے کی رفتار دوگنی ہو چکی ہے۔ سطح سمندر کا درجہ حرارت ۲۰۲۳ء، ۲۰۲۴ء اور ۲۰۲۶ء میں ریکارڈ بلند ترین سطح تک پہنچ گیا ہے اور صرف ۲۰۲۵ء میں سمندروں نے مزید ۲۳ زیٹاجولز (zettajoules) حرارت جذب کی۔ یہ مسلسل نویں سال کا نیا سالانہ ریکارڈ ہے، یہ ایک سال تک ہر سیکنڈ میں ہیروشیما پر گرائے گئے ۱۲ ایٹمی بموں سے خارج ہونے والی توانائی کے برابر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان: بھکشو نے ۱۲؍ سال کیلئے گوشہ نشینی اختیار کی، ۲۰۳۸ء تک دنیا سے رابطہ منقطع

یہ اضافی حرارت سطحِ سمندر کے بلند ہونے کے عمل کو تیز کر رہی ہے۔ سطح سمندر میں ۱۹۹۹ء کے بعد سے اوسطاً ۸ء۳ ملی میٹر سالانہ اضافہ دیکھا گیا ہے جو مجموعی طور پر تقریباً چار انچ بنتا ہے۔ ۲۰۱۲ء کے بعد سے اس رفتار میں مزید تیزی آئی ہے۔ سمندر ۱۹۸۵ء کے مقابلے تقریباً ۱۷ فیصد زیادہ تیزابی بھی ہو چکے ہیں، جس کے باعث سیپ، لابسٹر اور مونگے کی چٹانوں جیسے جانداروں کیلئے اپنے خول اور ڈھانچے بنانا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ایسا مظہر ہے جسے سائنسدان موسمیاتی تبدیلی کا ”اتنا ہی برا جڑواں بھائی“ قرار دیتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے علاقائی اثرات پہلے ہی شدید شکل اختیار کر چکے ہیں۔ بحیرہ روم اور بحیرہ اسود میں ۲۰۲۴ء میں سمندری گرمی کی بے مثال لہریں ریکارڈ کی گئیں، جن میں سے بعض ۳۰ دنوں سے زیادہ جاری رہیں اور درجہ حرارت اوسط سے ۶ء۴ ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ رہا۔ آرکٹک کا خطہ ۴۰ سالوں میں تقریباً ۲ء۴ ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہو چکا ہے، جہاں سمندری برف کا رقبہ تقریباً ایک لاکھ ۹۰ ہزار مربع میل فی دہائی کی شرح سے سکڑ رہا ہے۔ انٹارکٹیکا میں، ۲۰۲۲ء میں سمندری برف کی تاریخی کمی ایمپرر پینگوئنز (شہنشاہ پینگوئن) میں افزائشِ نسل کی پہلی ریکارڈ شدہ بڑے پیمانے پر ناکامی کے ساتھ پیش آئی۔

یہ بھی پڑھئے: سنگاپور: مگرمچھ کی اے آئی سے بنی جعلی تصویر شیئر کرنے پر پر ایک شخص کو ۱۰ سال تک قید کا سامنا

چھوٹے جزائر پر مشتمل ممالک کو سمندر کی سطح میں اضافے، شدید طوفانوں اور مونگے کی چٹانوں کے خاتمے سے فوری خطرات کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان تیز تر ہوتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں اور عالمی سطح پر سمندروں کی مسلسل نگرانی کا نظام برقرار رکھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK