Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی ایشیاء بحران: کمل ہاسن نے فلم انڈسٹری سے فضول اخراجات کم کرنے کی اپیل کی

Updated: May 16, 2026, 6:05 PM IST | Chennai

معروف اداکار کمل ہاسن نے ہندوستانی فلم انڈسٹری سے اپیل کی ہے کہ مغربی ایشیا کے جاری بحران اور بڑھتے معاشی دباؤ کے پیش نظر غیر ضروری پروڈکشن اخراجات میں کمی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فلمی بجٹ پہلے ہی حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں جبکہ مارکیٹ کی بحالی اب بھی غیر یقینی ہے۔ ہاسن نے غیر ضروری غیر ملکی شوٹس، بڑھے ہوئے وفود، تاخیر اور فضول خرچی پر سوال اٹھاتے ہوئے صنعت کو زیادہ ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کا مشورہ دیا۔

Photo: INN
تسویر: آئی این این

کمل ہاسن نے ہندوستانی فلم انڈسٹری کو درپیش بڑھتے معاشی دباؤ کے درمیان ایک اہم اپیل جاری کرتے ہوئے فلم سازوں، اداکاروں اور پروڈکشن ہاؤسز سے کہا ہے کہ وہ غیر ضروری اخراجات کم کریں اور زیادہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کریں۔ کمل ہاسن کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے اور ایندھن سمیت متعدد شعبوں میں اخراجات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی شہریوں سے پیٹرول، ڈیزل اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے محتاط استعمال کی اپیل کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے : واشو بھگنانی نے ڈیوڈ دھون کی اگلی فلم روکنے کے لیے قانونی لڑائی شروع کر دی

اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز پر ’’مائی اپیل‘‘ کے عنوان سے ایک تفصیلی خط شیئر کرتے ہوئے ہاسن نے کہا کہ ہندوستانی فلم انڈسٹری پہلے ہی بڑھتے بجٹ اور غیر مستحکم مارکیٹ ریکوری کے دباؤ سے گزر رہی ہے، جبکہ موجودہ عالمی بحران اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’ہندوستانی فلم انڈسٹری کے لیے یہ بحران ایسے وقت میں آیا ہے جب بجٹ پہلے ہی مسلسل بڑھ رہے ہیں اور مارکیٹ کی بحالی ناہموار ہے۔ بڑھتے اخراجات صرف فلم سازی کو متاثر نہیں کریں گے بلکہ مہنگائی کے باعث تفریح پر عوامی خرچ کے انداز بھی بدل سکتے ہیں۔‘‘
اداکار اور سیاست داں نے خاص طور پر فلمی پروڈکشن میں ہونے والی فضول خرچی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے غیر ضروری غیر ملکی شوٹنگز، بڑے وفود، ناقص منصوبہ بندی اور پروڈکشن میں تاخیر کو انڈسٹری کے لیے سنگین مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا، ’’آخر ہر محبت کی کہانی صرف سوئزرلینڈ یا نیوزی لینڈ میں ہی کیوں فلمائی جانی چاہیے؟‘‘ ہاسن نے کہا کہ اصل اصلاح فلموں کے معیار یا تخلیقی صلاحیت میں نہیں بلکہ ان اخراجات میں ہے جو بغیر کسی واضح ضرورت کے مسلسل بڑھائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق فلمی صنعت کو موجودہ حالات میں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

انہوں نے اس موقع کو فلمی صنعت کے تمام اہم فریقین — جن میں پروڈیوسرز، اسٹوڈیوز، اداکار، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، نمائش کنندگان، یونینز اور سرمایہ کار شامل ہیں — کے درمیان ایک وسیع معاشی مکالمے کے آغاز کے لیے موزوں قرار دیا۔ ہاسن کی اپیل کو فلمی حلقوں میں مثبت ردعمل ملا ہے۔ Vyjayanthi Movies نے ان کے بیان کی کھل کر تعریف کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’’ناقابلِ یقین انسان، ناقابلِ یقین الفاظ۔ سنیما انڈسٹری کے لیے نہایت اہم وقت پر مسٹر کمل ہاسن ذمہ دارانہ اقدامات اور اخراجات کو کنٹرول کرنے کی بات کر رہے ہیں۔‘‘
یہ پروڈکشن ہاؤس ’’کالکی‘‘ جیسی بڑی فلموں کے لیے جانا جاتا ہے اور اسے ہندوستانی سنیما کے اہم بینرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ہاسن کے مؤقف کو کافی سراہا جا رہا ہے۔ متعدد صارفین نے کہا کہ موجودہ حالات میں فلمی صنعت کو بڑے بجٹ، غیر ضروری لگژری پروڈکشنز اور مہنگی بیرونِ ملک شوٹنگز پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ہاسن کی یہ اپیل صرف ایک فلمی بیان نہیں بلکہ ہندوستانی سنیما کے معاشی ماڈل پر ایک اہم سوال بھی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، بدلتی ناظرین کی ترجیحات اور عالمی معاشی دباؤ پوری انڈسٹری کو نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK