Updated: May 16, 2026, 7:29 PM IST
| New Delhi/Amsterdam
ان تختیوں پر کندہ تحریریں شہنشاہ راج راجا چولا اول اور ان کے بیٹے راجیندر چولا اول کے دورِ حکومت کی ہیں۔ سنسکرت تحریر چولا حکمرانوں کا شجرہ نسب بتاتی ہے جبکہ تمل تحریر میں ناگاپٹِّنم میں ایک بدھ خانقاہ کی مدد کیلئے راج راجا چولا کی طرف سے دی گئی زمین اور محصول کی اجازت کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔
نیدرلینڈس نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورے کے دوران ۱۱ ویں صدی کے چولا خاندان کی ’انائی منگلم تانبے کی تختیاں‘ (Anaimangalam Copper Plates)، جنہیں ’لیڈن پلیٹس‘ (Leiden Plates) بھی کہا جاتا ہے، ہندوستان کو واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کو بیرونِ ملک موجود ہندوستانی ثقافتی فن پاروں کی واپسی کیلئے حکومت کی کوششوں میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
چولا خاندان کے دور سے تعلق رکھنے والی یہ تانبے کی تختیاں ۳۰۰ سال سے زائد عرصے سے لیڈن یونیورسٹی (Leiden University) میں موجود ہیں۔ ان فن پاروں کا وزن تقریباً ۳۰ کلو گرام ہے۔ یہ تختیاں تعداد میں کل ۲۱ ہیں جو کانسے کی ایک انگوٹھی سے آپس میں جڑی ہوئی ہیں، جس پر بادشاہ راجیندر چولا اول (Rajendra Chola I) کی شاہی مہر لگی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے امریکی پابندیوں کے باوجود ہندوستان پر چابہار میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کیلئے زور دیا
ان تختیوں پر کندہ تحریریں شہنشاہ راج راجا چولا اول (۹۸۵ء سے ۱۰۱۴ء عیسوی) اور ان کے بیٹے راجیندر چولا اول کے دورِ حکومت کی ہیں۔ سنسکرت تحریر چولا حکمرانوں کے شجرہ نسب بتاتی ہے جبکہ تمل تحریر میں ناگاپٹِّنم میں ایک بدھ خانقاہ کی مدد کیلئے راج راجا چولا کی طرف سے دی گئی زمین اور محصول کی اجازت کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ یہ خانقاہ شری وجیہ سلطنت کے مالائی حکمران نے تعمیر کروائی تھی، جو بحرِ ہند کے پار چولا سلطنت کے بحری اور ثقافتی روابط کی عکاسی کرتی ہے۔
چولا خاندان نے جنوبی ہندوستان اور سری لنکا کے بڑے حصوں پر حکومت کی اور جنوب مشرقی ایشیا میں بحری مہمات چلائیں۔ ان کا دورِ حکومت بڑے مندروں کے طرزِ تعمیر، انتظامی نظام اور تمل ادب و فن کی سرپرستی کیلئے جانا جاتا ہے، جس میں برہدیشور مندر (Brihadeeswara Temple) بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایک اور دھچکا، ایک اور بابری، دھار کی کمال مولیٰ مسجد بھی ’’ہاتھ سے نکلی‘‘
رپورٹ کے مطابق، یہ تختیاں ۱۷۰۰ء عیسوی کے آس پاس ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ناگاپٹنم پر کنٹرول کے دوران ڈچ مشنری فلورینٹیئس کیمپر نے انہیں حاصل کرکے نیدرلینڈس بھجوا دیا تھا۔ بعد میں یہ تختیاں لیڈن یونیورسٹی لائبریری کے ذخیرے کا حصہ بن گئیں۔ ہندوستان نے ۲۰۱۲ء کے بعد ان فن پاروں کی واپسی کیلئے کوششیں تیز کیں۔ ۲۰۲۳ء میں، یونیسکو (UNESCO) کی بین الحکومتی کمیٹی نے ہندوستان کے ان تختیوں کے اصل ملک ہونے کے دعوے کو تسلیم کیا اور نیدرلینڈس کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی۔ ان تختیوں کی واپسی کے بعد چولا تاریخ میں محققین اور عوام کی دلچسپی کے دوبارہ پیدا ہونے کی توقع ہے۔