فضائیہ کےمطابق سپر رافیل امریکی ایف ۳۵؍اور روس کے سخوئی ۵۷؍کے مقابلے اگلی نسل کے لڑاکا طیارے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 16, 2026, 10:53 AM IST | New Delhi
فضائیہ کےمطابق سپر رافیل امریکی ایف ۳۵؍اور روس کے سخوئی ۵۷؍کے مقابلے اگلی نسل کے لڑاکا طیارے ہیں۔
ہندوستان فرانس کے ساتھ۳ء۲۵؍لاکھ کروڑ روپے کے ۱۱۴؍رافیل لڑاکا طیاروں کے معاہدے پر دستخط کرنے والا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا ہندوستان کا تین روزہ دورہ۱۷؍ فروری سے شروع ہو رہا ہے۔ اس دوران ڈیل کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ان۱۱۴؍ طیاروں میں سے۲۴؍ سپر رافیل ہوں گے جنہیں فرانسیسی طیارہ ساز کمپنی ڈسالٹ ایوی ایشن نے’ ایف ۵‘ کے نام سے تیار کیا ہے۔
فی الحال، فضائیہ کے پاس ’ایف ۳‘ رافیل ہیں جو۴ء۵؍جنریشن کے لڑاکا طیارے ہیں۔ ان میں اسٹیلتھ اور جوہری ہتھیاروں کو فائر کرنے کی صلاحیت ہے۔ تاہم، نئے طیارے’ ایف ۴‘ جنریشن کے ہیں، اس لئےاسے ۵؍ ویں جنریشن کہا جا رہا ہے۔ یورپی معیار کے مطابق ایف ۵؍ رافیل دراصل چھٹی نسل کے جیٹ طیارے ہوں گے۔ ہندوستانی فضائیہ کے پاس فرانس کے بعد دوسرے نمبر پر ایسے طیارے ہوں گے۔ ایف ۵؍ فی الحال تعمیرکے مرحلے میں ہے۔ ایف۴؍ کی ترسیل۲۹-۲۰۲۸ء میں شروع ہوگی۔ ۲۰۳۰ء کے بعد حاصل ہونے والا کوئی بھی طیارہ ایف ۵؍ کلاس سپر رافیل ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’فہیم خان کا مکان بنا کر دو یا ہرجانہ ادا کرو‘‘، ناگپور کارپوریشن کوکورٹ کا حکم
سپر رافیل طیارے کیسے ہوں گے؟
فضائیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سپر رافیل امریکی ایف ۳۵؍اور روس کے سخوئی ۵۷؍کے مقابلے اگلی نسل کے لڑاکا طیارے ہوں گے۔ اس معاہدے میں ۸۸؍ سنگل سیٹر رافیل اور۲۶؍ ڈبل سیٹر شامل ہوں گے جو تربیت اور جنگی دونوں کرداروں میں استعمال ہونے کے قابل ہوں گے۔
۹۶؍رافیل ہندوستان میں بنائے جائیں گے
ڈسالٹ ایوی ایشن۱۸؍ طیارے پرواز کیلئے تیار حالت میں فراہم کرے گی۔ باقی ۹۶؍ہندوستان میں تیار کیے جائیں گے۔ ان کے۶۰؍فیصد پُرزے دیسی ہوں گے۔ اسے ہندوستان کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ بتایا جارہا ہے۔