انتظامیہ کی مبینہ لاپروائی اور رکشا ڈرائیوروں کی من مانی کی وجہ سے ٹریفک کے سنگین مسائل کا سامنا۔
EPAPER
Updated: February 16, 2026, 11:44 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
انتظامیہ کی مبینہ لاپروائی اور رکشا ڈرائیوروں کی من مانی کی وجہ سے ٹریفک کے سنگین مسائل کا سامنا۔
کلیان ریلوے اسٹیشن کے اطراف سمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کے درمیان انتظامیہ کی مبینہ لاپروائی اور آٹو رکشا ڈرائیوروں کی من مانی نے ٹریفک کے سنگین مسائل کو جنم دیا ہے۔ اسٹیشن کے باہر جاری ٹریفک جام کی صورتحال نے پیدل چلنے والوں اور مسافروں کے لئے عذاب کی شکل اختیار کر لی ہے۔ حیران کن طور پر کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن(کے ڈی ایم سی )، آر ٹی او اور ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام اس صورتحال کو معمول کے مطابق محض میٹنگوں تک محدود رکھے ہوئے ہیں اور اب تک ٹریفک جام کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی ٹھوس یا سخت کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے جس کے نتیجے میں اسٹیشن کے اطراف بدنظمی کا دور دورہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اقتدار سنبھالتے ہی بی جے پی فرقہ پرستانہ ایجنڈے پر گامزن
سڑکوں کی حفاظت اور ٹریفک کے مسائل کے حل کے لئے مسلسل کوشاں بیدار شہری یوگیش دلوی نے کلیان آر ٹی او آفس میں باضابطہ شکایت درج کرائی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹیشن پر رکشا اسٹینڈ کی موجودگی کے باوجود ڈرائیور سڑک کے عین بیچ میں گاڑیاں کھڑی کر کے سواریاں بٹھاتے ہیں نیزانتظامیہ کی جانب سے منظور شدہ شیئر کرایوں کے بجائے من مانی رقم وصول کی جا رہی ہے اور اکثر مسافروں کو لے جانے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ دلوی کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے آر ٹی او افسر آشوتوش بارکل نے میونسپل کمشنر ابھینو گوئل کو خط لکھ کر اسٹیشن پر منظور شدہ کرایوں کے بورڈ لگانے کی ہدایت دی۔ تاہم دلوی کا الزام ہے کہ جب انہوں نے میونسپل کارپوریشن سے رابطہ کیا تو افسروں نے خط موصول ہونے سے انکار کر دیا اور یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے پلہ جھاڑ لیا کہ کرایوں کے بورڈ لگانا ان کا کام نہیں ہے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں اہم اداروں کے درمیان کسی بھی قسم کا تال میل نہیں ہےجس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او افسر آشوتوش بارکل نے دلوی کی شکایت پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی جس میں اندرجیت آمتے، ساگر پاٹل اور پرنب بھوسے شامل تھے۔ اس ٹیم کو اسٹیشن کے علاقے میں رکشا ڈرائیوروں کے کاغذات، گاڑیوں کی فٹنس اور دیگر تکنیکی جانچ پڑتال کے احکامات دئیے گئے تھے لیکن شکایات کے مطابق ان احکامات پر کوئی عملی کارروائی نہیں ہوئی اور ٹریفک کی صورتحال جوں کی توں ہے۔