• Tue, 24 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اریب مجید کو مقدمہ واپس لینے کی پیشکش!

Updated: February 24, 2026, 3:02 PM IST | Ejaz Abduilghani | Kalyan

داعش میں شمولیت کا معاملہ۔ ۲؍ مشکوک افراد گھر پہنچے ۔ملزم این آئی اے عدالت سے رجوع۔

Nia Officer.Photo:INN
این آئی اے افسر۔ تصویر:آئی این این
 تقریباً ۱۱؍ برس سے داعش میں شمولیت معاملے کے مقدمے کا سامنا کرنے والے اریب مجید نے ممبئی کی خصوصی عدالت میں ایک سنسنی خیز درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ۲؍ روز قبل ایک مرد اور ایک خاتون جنہوں نے خود کو انڈین آرمی سے وابستہ افسران ظاہر کیا ان کے گھر پہنچے اور مبینہ طور پر یہ پیشکش کی کہ اگر وہ ان کے لئے ایک’ خصوصی کام‘ انجام دیں تو ان کے خلاف برسوں سے جاری مقدمہ ختم کرا دیا جائے گا۔
 
 
این آئی اے کیس کا سامنا کرنے والے اریب مجید نے ایک سنسنی خیز دعویٰ کرتے ہوئے پولیس اور ایجنسیوں کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات کھڑے کئے ہیں۔ اریب مجید کے مطابق ۲۱ ؍فروری کو ان کی غیر موجودگی میں ایک نامعلوم مرد اور خاتون ان کے گھر میں داخل ہوئےاور خود کو فوج کا اعلیٰ افسر ظاہر کرتے ہوئے انہیں ایک نئی سازش میں پھنسانے کی کوشش کی۔ اس ضمن میں اریب مجید نے این آئی اے کی خصوصی عدالت کو ایک درخواست دی ہے۔اس درخواست کے مطابق جب وہ گھر پر موجود نہیں تھے ایک جوڑا ان کے گھر پہنچا اور اندر رکنے کی ضد کرنے لگا۔ فون پر بات کرنے کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ انڈین آرمی سے وابستہ ہیں۔ اریب کے مطابق جب وہ گھر پہنچے تو ان افراد نے انہیں ایک خصوصی موبائل فون دینے کی پیشکش کی اور کہا کہ وہ اس کے ذریعے بیرون ملک مقیم بعض افراد سے بات کریں جس کے عوض این آئی اے کی خصوصی عدالت میں زیر سماعت ان کا کیس ختم کروا دیا جائے گا۔ شک ہونے پر جب اریب مجید نے جوڑے سے شناختی کارڈ طلب کیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ بعدازاں اریب مجید نے موبائل سے ان کی تصاویر لیں اور مقامی بازار پیٹھ پولیس کو طلب کر لیا۔ پولیس دونوں مشکوک افراد کو پولیس اسٹیشن لے گئی تاہم اریب کا الزام ہے کہ سینئر انسپکٹر نے انہیں اپنے کیبن میں بلا کر دباؤ ڈالا کہ وہ ان افراد کی لی گئی تمام تصاویر فوری طور پر ڈیلیٹ کر دیں۔
 
 
اریب کو بتایا گیا کہ مذکورہ شخص ملٹری انٹیلی جنس کا بڑا افسر ہے اور اس کی شناخت پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔اریب مجید نے مزید انکشاف کیا کہ اسی دوران انہیں این آئی اے کے تفتیشی افسر کی فون کال بھی موصول ہوئی جس نے انہیں سختی سے ہدایت کی کہ ان افراد کے خلاف کوئی بھی قانونی کارروائی نہ کی جائے۔ اریب نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ انہیں کسی نئے جال میں پھنسانے کی سوچی سمجھی کوشش تھی۔ اریب مجید نےواضح کیا کہ میرا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے اور مجھے صرف عدالت پر بھروسہ ہے۔ کوئی بھی سرکاری افسر عدالت سے بالا تر نہیں ہو سکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK