Inquilab Logo Happiest Places to Work

تیل کے بحران کا اثر، جنوب مشرقی ایشیا میں دفاتر بند اور سفر محدود

Updated: March 13, 2026, 10:21 AM IST | Mumbai

کچھ دنوں کیلئے کل وقتی طور پر ’ورک فرام ہوم ‘کواپنانے پر زور، قلت کے سبب بڑھتی قیمتوں پر لگام لگانے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔

Manilla: Motorcyclists stand at a petrol pump to refuel. Photo: INN
منیلا : پیٹرول پمپ پر موٹر سائیکل سوار ایندھن بھروانے کیلئے کھڑے ہیں۔ تصویر: آئی این این

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات کے باعث آبنائے ہرمز اب بھی بحری آمدورفت کےلئے بند ہے۔ خلیج سے ہزاروں کلومیٹر دور واقع ممالک میں اس کے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق  فلپائن میں سرکاری دفاتر کو ہفتے میں چار دن کام کرنے کے نظام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ تھائی لینڈ اور ویتنام میں حکام کو گھر سے کام کرنے اور سفر کم کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ میانمار کی حکومت نے گاڑیاں چلانے کے لئے باری باری دن مقرر کر دیے ہیں۔ تھائی لینڈ کے وزیر اعظم انوتین چارن ویراکول نے ڈیزل کی قیمت پر عارضی حد مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ویتنام نے اپنے ایندھن قیمت استحکام فنڈ سے رقم استعمال کرنا شروع کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایرانی حملہ سے برج خلیفہ بھی دہل گیا

سنگاپور میں قائم تحقیقی ادارے ایشیا ڈی کوڈیڈ  کی ڈائریکٹر اور ماہرِ معاشیات پریانکا کشور کے مطابق اگر آبنائے ہرمز بند رہی تو یہ اقدامات صرف آنے والے ممکنہ بحران کی ایک جھلک ہیں۔ انہوں نے الجزیرہ سے بات چیت میں کہا کہ حکومتیں پہلے ہی سپلائی کی صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ بحران شدت اختیار نہ کرے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق ۲۰۲۴ء میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے خام تیل کا تقریباً۸۴؍ فیصد اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی ) کا۸۳؍فیصد ایشیا کیلئے تھا۔چین، ہندوستان، جاپان اور جنوبی کوریا تقریباً۷۰؍ فیصد تیل کی ترسیل کے خریدار تھے، جبکہ تقریباً۱۵؍ فیصد تیل باقی ایشیائی ممالک کو جاتا تھا۔جکارتہ میں قائم ای آر آئی اےکے ماہرِ معاشیات الویسیس جوکو پروانٹو کے مطابق فلپائن، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور برونائی وہ معیشتیں ہیں جو خام تیل کی سپلائی میں رکاوٹ سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ چاروں ممالک اپنے خام تیل کی۶۰؍ سے ۹۵؍ فیصد ضرورت درآمدات سے پوری کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ تیل پیدا کرنے والا ملک انڈونیشیا بھی اپنی ایک تہائی سے زیادہ ضرورت کیلئے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔سپلائی چین کے اس جھٹکے نے خطے کے محدود توانائی ذخائر کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی ہے، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ دباؤ میں آ رہے ہیں۔ویتنام نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ دیگر ممالک سے تقریباً۴۰؍ لاکھ بیرل خام تیل خریدنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK