تھار ریگستان سے آئل انڈیا کی ریکارڈ پیداوار نے ایک اہم اشارہ دیا ہے۔ نئی تکنیک اور بڑھتی ہوئی صلاحیتیں ملک کی توانائی کی حفاظت کو نئی سمت دے رہی ہیں۔ جانیں کیا اب ہندوستان کا تیل کی درآمد پر انحصار کم ہوگا۔
EPAPER
Updated: April 05, 2026, 10:12 PM IST | Jaipur
تھار ریگستان سے آئل انڈیا کی ریکارڈ پیداوار نے ایک اہم اشارہ دیا ہے۔ نئی تکنیک اور بڑھتی ہوئی صلاحیتیں ملک کی توانائی کی حفاظت کو نئی سمت دے رہی ہیں۔ جانیں کیا اب ہندوستان کا تیل کی درآمد پر انحصار کم ہوگا۔
مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور تیل کی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے درمیان ہندوستان کے لیے ایک خوشخبری آئی ہے۔ آئل انڈیا لمیٹڈ نے راجستھان کے تھار ریگستان سے خام تیل کی پیداوار کافی بڑھا دی ہے اور نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس سے غیر ملکی تیل پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ریکارڈ پیداوار اور بڑی
حکام کے مطابق،جودھپور سینڈ اسٹون فارمیشن سے کمپنی نے ۱۲۰۲؍ بیرل فی دن کی ریکارڈ پیداوار حاصل کی ہے۔ یہ پچھلے سال کے ۷۰۵؍ بیرل فی دن کے مقابلے میں تقریباً ۷۰؍ فیصد زیادہ ہے۔ اسے ملک میں گھریلو پیداوار بڑھانے اور توانائی کی حفاظت مضبوط کرنے کی سمت میں ایک بڑی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔
تیل کہاں سے کہاں پہنچتا ہے
جیسلمیر کے باغیوالہ فیلڈ سے نکلا ہوا خام تیل ٹینکروں کے ذریعے گجرات کے مہسانہ میں موجوداو این جی سی کی سہولیات تک پہنچایا جاتا ہے۔ وہاں سے اسے پائپ لائن کے ذریعے آئی او سی ایل کی کویلی ریفائنری بھیجا جاتا ہے۔
سی ایس ایس تکنیک نے کھیل بدل دیا
آئل انڈیا کی اس کامیابی کے پیچھے جدید تکنیکوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس میں سائکلیک سٹیم اسٹیمولیشن (سی ایس ایس ) شامل ہے، جو ایک تھرمل اینہانسڈ آئل ریکوری تکنیک ہے۔یہ تکنیک خاص طور پر ایسے تیل کو نکالنے میں مدد کرتی ہے جو بہت زیادہ گاڑھا ہوتا ہے اور عام طریقوں سے آسانی سے باہر نہیں آتا۔
مشکل حالات میں بھی بڑی کامیابی
حکام کا کہنا ہے کہ تھار علاقے کی زمین اور جیولوجیکل حالات کافی چیلنجنگ ہیں۔ اس کے باوجود اتنی پیداوار حاصل کرنا بڑی بات ہے۔ اس سے یہ بھی صاف ہوتا ہے کہ اگر صحیح تکنیک استعمال کی جائے تو ایسے وسائل سے بھی تیل نکالا جا سکتا ہے، جنہیں پہلے مشکل سمجھا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:لیزا مشرا نے۲۰۲۲ء میں ۶؍ ماہ تک آواز گنوا دینے کا انکشاف کیا
تیز رفتار آپریشن اور ڈرلنگ
باغیوالہ فیلڈ راجستھان بیسن کے بیکانیر-ناگور علاقے میں واقع ہے اور یہ ہندوستان کے چند منتخب ہیوی آئل فیلڈز میں سے ایک ہے۔ اس سال کمپنی نے ۱۹؍ کنویں میں سی ایس ایس آپریشن مکمل کیے، جو پچھلے سال سے تقریباً ۷۲؍فیصد زیادہ ہیں۔ ساتھ ہی۱۳؍ نئے کنویں بھی کھودے گئے، جبکہ پچھلے سال یہ تعداد ۹؍ تھی۔
یہ بھی پڑھئے:مصر کی ۱۸؍سالہ حنا گودا کی تاریخ ساز کارکردگی،افریقہ کے لیے تاریخ رقم
نئی تکنیکوں کا استعمال
آئل انڈیا نے پیداوار بڑھانے کے لیے کئی نئی تکنیکوں کا استعمال کیا ہے۔ ان میں فش بون ڈرلنگ اور بیئر فٹ کمپلیشن جیسی تکنیکیں شامل ہیں، جو ہندوستان کے ہیوی آئل سیکٹر میں پہلی بار استعمال ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ الیکٹرک ڈاؤن ہول ہیٹرز، ہائیڈرولک سکور راڈ پمپس اور ہائی ٹیمپریچر تھرمل ویل ہیڈز کا بھی استعمال کیا گیا ہے، جس سے پیداوار اور بہتر ہوئی ہے۔