Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ

Updated: August 10, 2026, 6:04 PM IST | New Delhi

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کی جانے والی نئی شرائط نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام کی امیدوں کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

OIl Price.Photo:INN
تیل کی قیمت۔ تصویر:آئی این این

بین الاقوامی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت پیر کو ایک فیصد سے زیادہ بڑھ گئی۔ تہران کے اس مؤقف نے مارکیٹ میں تشویش بڑھا دی ہے کہ امریکہ کی جانب سے اہم مراعات دیے جانے تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ گرین وچ مین ٹائم کے مطابق صبح  ساڑھے ۷؍بجے اکتوبر کے لیے برینٹ خام تیل کے فی بیرل مستقبل کے سودوں کی قیمت ۱۱ء۸۴؍ ڈالر تھی، جو ۰ء۷؍ فیصد زیادہ ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد عالمی بینچ مارک کی قیمت امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً ۱۶؍ فیصد زیادہ ہو گئی ہے۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں قائم کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے الجزیرہ کو بتایا،  ٹھوس پیش رفت نہ ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی معاہدے کی عملی تفصیلات سے متعلق سوالات اب بھی موجود ہیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں خطرے کا اضافی عنصر برقرار ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر گزرتا دن جس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوتی، تاجروں کو مزید محتاط بنا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:لیونل میسی کے والد جارج میسی سپردِ خاک، نجی تقریب میں خاندان اور قریبی عزیزوں کی شرکت

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا تھا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک معاہدے کے قریب ہیں، تاہم واشنگٹن کی جانب سے تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور جنگی نقصانات کی تلافی سمیت بعض شرائط پوری کیے جانے تک یہ آبی گزرگاہ دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔ جنگ سے قبل عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی رسد آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی، لیکن فروری کے اواخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے اس آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے، جس کے نتیجے میں ریکارڈ شدہ تاریخ میں توانائی کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم میرین ٹریفک کے مطابق ۴، ۵؍ اور۶؍ اگست کو آبنائے ہرمز سے صرف ۸؍سے ۱۵؍ بحری جہاز گزرے، جبکہ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً  ۱۳۰؍ بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔ ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اسے آبنائے میں بحری آمدورفت کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے، حالانکہ بین الاقوامی بحری قانون میں سمندری راستوں سے آزادانہ آمدورفت کو بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔ ایران نے غیر منظور شدہ راستوں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر حملے کی دھمکی بھی دی ہے۔
ہفتے کے روز متحدہ عرب امارات نے تہران کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کی ملکیت والے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے خطے میں تجارتی بحری جہازوں سے متعلق کم از کم ۶۴؍ پرتشدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں ۱۷؍ افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر واقعات کا الزام ایران پر عائد کیا گیا ہے۔
توانائی کی منڈیوں میں دوبارہ بڑھتی ہوئی بے یقینی کے باوجود ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں پیر کو تیزی دیکھی گئی۔ جاپان، جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ کے اہم انڈیکس میں نمایاں اضافہ ہوا۔ جاپان کے نکی ۲۲۵؍ انڈیکس میں ۱ء۲؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس ۶۵ء۰؍ فیصد اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس ۱ء۱؍ فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں یہ تیزی جمعہ کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچنے کے بعد سامنے آئی۔ توقعات سے کمزور امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے باعث امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:اے آر رحمان کے بیٹے اے آر امین چنئی میں کار حادثے کا شکار، معمولی چوٹ آئی

کے سی ایم ٹریڈ کے تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ اس بات پر مارکیٹ کے شکوک کی عکاسی کرتا ہے کہ مذاکرات کار آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے قابلِ عمل معاہدہ کتنی جلد طے کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا،  اگر بالآخر کسی معاہدے کا اعلان بھی ہو جاتا ہے تو تاریخ بتاتی ہے کہ اس طرح کی مفاہمتیں نازک ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ معاہدہ ہونے کے باوجود دوبارہ صورتحال بدل جانے کا جو خطرہ برقرار رہے گا، اس کے باعث سفارتی پیش رفت کی صورت میں بھی تیل کی قیمتوں میں کمی محدود رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK