متحدہ عرب امارات پر حملے کے بعد تیل کے دام آسمان پر

Updated: January 20, 2022, 11:25 AM IST | Agency | Dubai

گزشتہ ۷؍ سال میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اپنی سب سے اونچی سطح پر ، ماہرین کے مطابق روس اوریوکرین کے درمیان جاری کشیدگی مزید دقت پیدا کر سکتی ہے

As oil prices began to fall, the situation worsened again.Picture:INN
تیل کی قیمتیں گرنے ہی لگی تھیں کہ دوبارہ حالات بگڑ گئے۔ تصویر: آئی این این

 جیسا کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھاکہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ایک روز قبل متحدہ عرب  امارات کے آئل ٹینکروں پر ہونے والے ڈرون حملے کے بعد تیل کی قیمت آسمان پر پہنچ گئی ہیں۔ اطلاع کے مطابق  عرب ممالک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات براہ راست تیل کی قیمتوں پر بھی پڑنے لگےاور قیمتیں  ۷؍سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ روز ابوظہبی ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کی جانب سے ڈرون حملہ کیا گیا تھا جس میں دو ہندوستانی اور ایک پاکستانی جاں بحق ہوگیا تھا۔ اس حملے کے بعد تیل کی رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر قیمت میں ایک ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جو سال رواں میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں تیل کے داموں میں مسلسل گراوٹ آ رہی تھی جس کا اثر مختلف ممالک سمیت ہندوستان  میں بھی نظر آ رہا تھا۔ یہاں  ۳؍ ماہ قبل پیٹرول اور ڈیزل کے دام میں کمی کی گئی تھی اور اس دوران کسی ایک روز بھی ان داموں میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ لیکن اب متحدہ عرب امارات پر ہوئے حملے کے بعد ہندوستانی تیل ڈیلروں میں بھی  تشویش پائی جا رہی ہے۔    اس حوالے سے ماہرین  کا کہنا ہے کہ  نئی  جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث پوری مارکیٹ میں مشکل صورتحال کے آثار سامنے آئے ہیں اوربرینٹ خام کی قیمت بڑھ کر ۸۵؍ سینٹ یا ایک فیصد بڑھ کر ۸۷ء۳۳ء  ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، اس سے قبل ایسا ۲۹؍ اکتوبر ۲۰۱۴ءکو ہوا تھا جب ایک روز میں تیل کے دام  ۸۷ء۵۶؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے تھے۔  اسی طرح یو ایس ویسٹ انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں ۱ء۱۳؍ یا ۱ء۱۴؍  فیصد تک اضافہ دیکھا گیا جو کہ دو ماہ کی بلند ترین سطح ہے جبکہ پیر کے روز امریکہ میں عام تعطیل کی وجہ سے تجارت معطل رہی۔ یاد رہے کہ امریکہ میں گزشتہ دنوں بڑھتی مہنگائی کو قابو کرنے کی غرض سے جو بائیڈن حکومت نے تیل کے ریزرو کوٹے کو مارکیٹ میں اتارا تھا جس کی وجہ سے تیل کے دام گرنے لگے تھے لیکن متحدہ عرب امارات پر حملے کے بعد داموں میں پھر اضافہ ہونے لگا ہے۔ حالانکہ   امارات کی تیل کمپنی ایڈناک ( اے ڈی این او سی) نے کہا ہے کہ حملے کے بعدتیل کی ترسیل میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کر لیا گیا ہے اور اس بات کی کوشش جاری ہے کہ تیل کے مقامی اور عالمی گاہکوں کیلئے تیل کی سپلائی میں کوئی دقت نہ آئے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جاری کشیدگی کے سبب بھی تیل کے داموں پر بڑے پیمانے پرا ثر پڑ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ روس کی طرف سے ایک گیس پائپ لائن  یورپ کی طرف جاتی ہے ۔ حالیہ کشیدگی کے دوران اس کے بلاک ہونےکا خدشہ ہے۔ اگر ایسا ہوا تو  ادھر تیل کے داموں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ تیل کی قلت کا سامنا کرنا  پڑ سکتا ہے۔   دوسری طرف تیل پیدا کرنے والے کچھ ممالک نے گزشتہ  دنوں طے کیا تھا کہ وہ ہر ماہ روزانہ  ۴؍ لاکھ بیرل تیل پیدا کریںگے۔ اس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی آنے کی امید تھی لیکن ان کا یہ منصوبہ سرمایے کی کمی کے سبب پورا نہیںہو سکا۔  حالانکہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اومیکرون کے سبب مارکیٹ میں تیل کی مانگ میں کمی آنے کا جو خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے  حقیقت میں تیل کی مانگ میں اتنی کمی نہیں آئے گی۔  دوسرے لفظوں میں عالمی وبا کے باوجود   تیل کے داموں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔   یاد رہے کہ حوثیوں باغیوں کی جانب سے ڈرون اور میزائل کی مدد سے آئل ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بھی خبردار کیا گیا  ہےکہ وہ مزید اہداف کو بھی نشانہ بنائیں گے جبکہ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے کہا کہ وہ ان دہشت گرد حملوں کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اگر ان میں کوئی چھوٹی موٹی لڑائی بھی چھڑ جاتی ہے تو مارکیٹ میں دقت بڑھ جائے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK