خصوصی تقریب میںکیفی کی شاعری پر مبنی فلم ’راگ شاعری ‘ دکھائی گئی ،جاوید اختر اور شبابہ اعظمی نے مشہور ترقی پسند شاعر کی ادبی خدمات پرروشنی ڈالی۔
کیفی پر پوسٹل لفافہ کے اجراء پر جاوید اختر، شبانہ اعظمی، تنوی اعظمی، بابااعظمی اور دیگر-تصویر:آئی این این
عالمی شہرت یافتہ شاعر، ادیب اور نغمہ نگار کیفی اعظمی کی۲۴؍ ویں برسی پر اتوار کو مہالکشمی کے جی فائیو اے فاؤنڈیشن میں محکمہ ڈاک کی جانب سے ان کی یاد میں مہاراشٹر اور گوا کے چیف پوسٹ ماسٹر جنرل امتیابھ سنگھ کے ہاتھوں پوسٹل کو َر( لفافہ) کا اجراء کیا گیا، ساتھ ہی کیفی صاحب کی شاعری پرمبنی فلم ’راگ شاعری ‘ دکھائی گئی ۔اس فلم میں کیفی صاحب کی ۱۳؍ تاریخی نظمیں پیش کی گئی ہیںجنہیں معروف موسیقار شنکر مہادیون نے اپنی دلکش آوا ز میںگایا ہے۔ ان نظموںکی موسیقی بھی انہوں نے ترتیب دی ہے۔
اس موقع پر کیفی اعظمی کی شاعری سے متعلق ان کے داماد اور معروف نغمہ نگار و مصنف جاوید اختر نے کہاکہ ’’کیفی صاحب رومانی اور انقلابی شاعر تھے ۔ انہوں نے دونوں طرح کی شاعری کی اور دونوں پر ان کی برابر کی دسترس رہی ۔ انہوں نے عزت نفس سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ، ان کی شاعری اس کی غماز ہے۔ وہ عوامی شخصیت تھے ۔ ان کے گھر کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتاتھا ۔ کوئی بھی کسی بھی وقت ملاقات کیلئے آسکتا تھا، چاہے وہ گھر میں ہوں یا نہ ہوں ۔‘‘ جاوید اختر اس سلسلے میں ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ایک مرتبہ ایک فلم اداکارہ اُن کے گھر آئیں ،گھر میں کوئی نہیں تھا مگر دروازہ کھلاہوا تھا۔ وہ گھر سے ایک کیسٹ پلیئر اُٹھا کر لے گئیں تاکہ بتا سکیں کہ گھر کے لوگ کس طرح کے غیر محفوظ ماحول میں رہ رہے ہیں ۔‘‘
کیفی کی اداکارہ بیٹی شبانہ اعظمی نے اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیفی صاحب کو گزرے ہوئے ۲۴؍سال گزر گئے ہیںلیکن آج بھی ایسا لگتاہے کہ ابا ہمارے ساتھ ،ہماراہاتھ پکڑے ،ہم کو راستہ دکھا رہے ہیں، ہمارا حوصلہ بڑھا رہے ہیں کیونکہ آج کا جو ماحول ہے نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ پوری دنیا میں جو ناگوار ماحول روزبروز بنتا جا رہاہے اس میں محسوس ہوتا کہ کیا ہم ہار گئے؟ کیا ہم یہ لڑائی چھوڑ دیں ؟ ایسےمیں اباکاشعر
’ دل نااُمید تونہیں ناکام ہی توہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
بہت حوصلہ دیتاہےاورہمیں راستہ دکھاتاہے،چنانچہ ہمیں ہمت اورحوصلہ سےکام لیناچاہئے ۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حالات بدلنےکیلئے ان کے اس شعرپرعمل کرناچاہئے کہ:
کوئی توسود چکائے کوئی تو ذمہ لے
اس انقلاب کاجوآج تک اُدھار ساہے