مہاراشٹر کے پروجیکٹوں کی گجرات منتقلی پر سرپھٹو ّل

Updated: September 16, 2022, 10:00 AM IST | Mumbai

آدتیہ ٹھاکرے نے اب یہ الزام لگایا کہ ویدانتا کے ساتھ ساتھ ’دواپارک ‘ کا پروجیکٹ بھی ہاتھ سے چلاگیا ، فرنویس کا جوابی حملہ ، ویدانتا کے چیف کا ٹویٹ ری ٹویٹ کیا

Yava Sena leader Aditya Thackeray and Maharashtra Deputy Chief Minister Devendra Farnavis are having a verbal spat.
یوا سینا لیڈر آدتیہ ٹھاکرے اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس میں لفظی جھڑپیں ہو رہی ہیں

مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے حکومت بھلے ہی تشکیل پا چکی ہے، لیکن اتھل پتھل اور اندیشوں کا دور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ریاست میں ترقیاتی سرگرمیاں میں بھی ابھی تک صحیح انداز میں شروع نہیں ہو پائی ہیں۔ گزشتہ دنوں سابق وزیر اور ادھو ٹھاکرے کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے نے شندے حکومت کو  ویدانتا معاملے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اب انہوں نے دوا پارک کے معاملے میں حکومت مہاراشٹر کی ناکامی کو عیاں کیا ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر کی شندے  حکومت پر فاکس کان کے بعد بڑے  دوا پروجیکٹ سے بھی ہاتھ دھونے کا الزام عائد کیا ہے۔ دراصل ویدانتا اور الیکٹرانکس مینوفیکچرر فاکس کون کے ذریعہ گجرات میں سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے ایف اے بی مینوفیکچرنگ یونٹ لگانے پر اب سیاست تیز ہو گئی بلکہ سر پھٹول کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ 
 شیوسینا لیڈر آدتیہ ٹھاکرے نے شندے حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ مہا وکاس اگھاڑی حکومت رائے گڑھ ضلع میں ایک دوا پارک قائم کرنا چاہتی تھی لیکن مرکز نے ہماچل پردیش، گجرات اور آندھرا پردیش میں دوا پارکس کو منظوری دی مگر مہاراشٹر کے معاملے کو تعطل میں ڈال دیا۔ آدتیہ ٹھاکرے  نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو پتہ ہونا چا ہئے کہ ہم مزید ایک پروجیکٹ سے محروم ہو گئے ہیں۔سابقہ ایم وی اے حکومت نے اس پروجیکٹ کو تقریباً آخری شکل دے دی تھی لیکن موجودہ حکومت نے ممکنہ سرمایہ کاروں کا اعتماد گنوا دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایکناتھ شندے نے نہ صرف شیوسینا قیادت بلکہ مہاراشٹر کے نوجوانوں کو بھی ان ۲؍ پروجیکٹوں کے ذریعہ روزگار کے اچھے مواقع کی امید کو لے کر دھوکہ دیا ہے۔  آدتیہ ٹھاکرے کے مطابق ویدانتا سے جہاں ڈیڑھ لاکھ روزگار ملنے کا موقع تھا وہیں اس دوا پارک کی وجہ سے ریاست میں کم از کم ۸۰؍ ہزار روزگارکے براہ راست مواقع ملتےجبکہ دیگر طریقے مزید ۲۵؍ ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا امکان تھا لیکن شندے سرکار نے اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے اسے گنوادیا۔ 
 آدتیہ ٹھاکرے نے مزید کہا کہ مہاراشٹر فارما بزنس اور انڈسٹری کے معاملے میں ملک کی سب سے بڑی او ر اہم ریاست ہے۔ یہاں پر فارما آئوٹ پٹ بہترین ہے کیوں کہ ریاست میں فارمیسی کے کالجوں کی بڑی تعداد ہے جہاں سے کمپنیوں کو ریسرچر مل جاتے ہیں۔ ایسے میں یہ پروجیکٹ بھی  حکومت کے ہاتھوں سے چلاگیا۔
  دوسری طرف اس معاملے میں ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ فرنویس نے ویدانتا کے مالک انل اگروال کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو جواب دیا ۔ فرنویس جو اس وقت روس کے دورے پر ہیں ، نے ٹویٹ کے ذریعے اپوزیشن پر تنقید کی اور کہا کہ ’’انل اگروال نے ٹویٹ کرکے مہاراشٹر میں نئے پروجیکٹ کیلئے ہامی بھری ہے ۔ وہ ہزاروں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ اس لئے جو اپوزیشن لیڈران گزشتہ کچھ دنوں سے چیخ چیخ کا مہاراشٹر کی ترقی رک جانے کے دعوے کررہے ہیں وہ اس ٹویٹ کو پڑھ لیں ۔‘‘ فرنویس نے اس کے بعد ایک اور ٹویٹ کیااور دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت مہاراشٹر کی ترقی اور معاشی حالت بہتر بنانے کے لئے پر عزم ہے۔ دوسری جانب بی جے پی کے مہاراشٹر کے صدر آشیش شیلار نےکہا کہ ان کا وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے مطالبہ ہے کہ وہ کسی سبکدوش جج سے تفتیش کروائیں کہ ’ویدانتا‘ اور ’فاکس کان‘ کا مشترکہ پروجیکٹ مہاراشٹر کے بجائے گجرات جانے کی کیا وجوہات ہیں۔ آشیش شیلار نے کہا کہ ریٹائرڈ جج کو یہ معلوم کرنے کی ذمہ داری دی جائے کہ ’ایم وی اے‘ حکومت نے اس پروجیکٹ کو حاصل کرنے کے لئے کیا کوششیں کی تھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK