• Wed, 16 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وردھا: احتجاج میں شامل ہونے پر لوگوں کے گھروں پر رات کو نوٹس چسپاں

Updated: September 16, 2026, 1:09 PM IST | Ali Imran | Wardha

احتجاج کے مقام پر آنے پر کارروائی کا انتباہ۔ شیر کے حملے میں کسان کی موت پر اہل خانہ اور گاؤں والے انصاف اور مناسب مدد کا مطالبہ کررہے ہیں۔

MP Amar Kale and MLA Rohit Pawar with the protesters. Photo: INN
رکن پارلیمان امر کالے اور رکن اسمبلی روہت پوار مظاہرین کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

سیلو تعلقہ کے رائے پور میں شیر کے حملے میں کسان بھگوان چندر بھان دھوروے کی موت کے بعدگاؤں والوں کا مہلوک کے اہل خانہ  کیلئے انصاف اور مناسب مدد کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج جاری ہے جبکہ اس احتجاج میں رکن پارلیمان امر کالے خود بھی گزشتہ چھ دنوں سے  حصہ لے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ کسان بھگوان دھوروے کی موت کے بعد شروع ہونے والا یہ ٹھیّا آندولن اب مزید جارحانہ ہو گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھگوان دھوروے کی آخری رسومات گزشتہ چھ دنوں سے ادا نہیں کی گئیں اور لاش اب بھی سیلو دیہی اسپتال کے مردہ خانے میں رکھی ہوئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:مروڈ جنجیرہ میں سی سی ٹی وی کیمرے کئی مہینوں سے بند

جنگلی جانوروں کے حملہ کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدام اور مالی امداد کا فیصلہ نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اہل خانہ اور گاؤں والوں نے لاش  لینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس دوران منگل کو رکن اسمبلی روہت پوار نے احتجاجی مقام کا دورہ کیا۔ روہت پوار کی موجودگی نے اس تحریک کو مزید تقویت بخشی۔ گزشتہ چھ دنوں سے ضلعی انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان مطالبات پر بات چیت اور مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم ان مذاکرات سے مطلوبہ حل نہ نکلنے کی وجہ سے احتجاج اب جارحانہ شکل اختیار کر گیا ہے۔ اس دوران جبکہ احتجاج جاری ہے، رات کے وقت انتظامیہ کی کارروائیوں سے گاؤں والوں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ گاؤں والوں نے الزام لگایا ہے کہ احتجاج میں شریک ہونے کی صورت میں کارروائی کی وارننگ کا نوٹس ان کے گھروں پر رات گئے چسپاں کیا گیا ہے۔ 

یاد رہے کہ بھگوان دھوروے کی شیر کے حملے میں موت کے بعد گاؤں والوں نے متوفی کے اہل خانہ کو مناسب امداد کے مطالبہ اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے ٹھوس اقدامات کے لئے گزشتہ کئی دنوں سے احتجاج کررہے ہیں۔ تاہم الزام ہے کہ پیر کی رات رائے پور میں گاؤں والوں کے گھروں پر احتجاج میں شریک ہونے پر ان کے خلاف دفعہ ۱۶۸ ؍کے تحت کارروائی کرنے کا نوٹس چسپاں کیا گیا ہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ مظاہرین سے بات چیت کرنے کے بجائے کارروائی کی دھمکی دے کر   ڈرا رہی ہے۔ گاؤں والوں کا یہ احساس ہے کہ انصاف کیلئے احتجاج کرنے پر اگر دباؤ ڈالا گیا تو صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ اس لئے انتظامیہ تحمل سے کام لے اور گاؤں والوں سے بات چیت کرکے ان کے مطالبات کا حل نکالے۔ 

یہ بھی پڑھئے:سنبھل کےمسلم ٹیچر کو بڑی راحت،ہائی کورٹ نےمعطلی کے حکم پر روک لگائی

دوسری جانب ضلع کلکٹر نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انتظامیہ نے شیر کے حملے میں ہلاک ہونے والے کے خاندان کو قواعد کے مطابق مدد فراہم کرنے اور گاؤں کی سطح پر حالات کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کئے ہیں۔ گاؤں کی سطح کی کمیٹی، مقامی شہریوں، رشتہ داروں اور سماجی تنظیموں کے ساتھ بات چیت کرکے گاؤں والوں کے مطالبات کو حکومت تک پہنچایا گیا ہے۔ محکمہ جنگلات نے کنٹریکٹ ڈرائیور یا فارسٹ لیبر کے طور پر کنبہ کے کسی ایک فرد کو ملازمت دینے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ ضلع کلکٹر نے یہ بھی کہا کہ قومی انسانی حقوق کمیشن کے رہنما خطوط کے مطابق مزید مناسب کارروائی کی جائے گی۔ تاہم احتجاج ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔ پریس کانفرنس میں انتظامیہ نے آخری رسومات جلد از جلد انجام دینے کی اپیل بھی کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK