ایک سال قبل جی ایس ٹی میں دی گئی راحت بھی مہنگائی کو قابو میں نہیں رکھ سکی ، بڑھتی قیمتوں نے ٹیکس میں تخفیف کو بے اثر کردیا۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 3:27 PM IST | Inquilab News Network/Agency | Mumbai
ایک سال قبل جی ایس ٹی میں دی گئی راحت بھی مہنگائی کو قابو میں نہیں رکھ سکی ، بڑھتی قیمتوں نے ٹیکس میں تخفیف کو بے اثر کردیا۔
ملک میں اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں نے عام صارفین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایک طرف جون سے ستمبر کے دوران پیاز کی اوسط خردہ قیمت میں۳ء۸۲؍فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ دوسری جانب اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں راحت کیلئے ایک سال قبل جی ایس ٹی کی شرحوں میں جو کمی کی گئی تھی وہ بھی گزشتہ ایک سال میں قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد بے اثر ہوگئی ہے۔ اس صورتحال میں خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں صارفین کے گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔
پیاز کی قیمتوں میں اضافہ
حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق یکم جون کو پیاز کی اوسط خردہ قیمت۵۰ء۲۹؍ روپے فی کلو تھی۔۱۷؍ستمبر کو یہ بڑھ کر۵۳ء۷۸؍ روپے فی کلو ہو گئی یعنی تقریباً ساڑھے ۳؍ماہ میں پیاز کی قیمت میں۸۲ء۳؍فیصد کا زبردست اضافہ درج کیا گیا۔ ہول سیل میں تیزی اس سے بھی زیادہ رہی۔ یکم جون کو پیاز کی اوسط ہول سیل قیمت۶۰ء۲۲؍ روپے فی کلو تھی۔۱۰؍ستمبر کو یہ بڑھ کر۴۶ء۲۰؍ روپے ہو گئی جبکہ۱۷؍ستمبر کو۶۸ء۴۵؍روپے درج کی گئی۔ جون کے مقابلے میں پیاز کی تھوک قیمتیں تقریباً دگنی ہو گئی ہیں۔
ہ بھی پڑھئے: ٹرمپ اور ممدانی کی اختلافات کے باوجود خوشگوار ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
پیاز کی مہنگائی کی وجہ
مہاراشٹر میں گرمیوں کی فصل خراب ہونے اور نئی کھیپ کی بازار میں آمد میں کمی کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کرناٹک سے بھی سپلائی کم ہوئی ہے۔ نئی خریف فصل کی آمد میں تاخیر کی وجہ سے بھی بازار میں پیاز کی قلت برقرار ہے۔ تاہم، جلد ہی قیمتوں میں کمی کی امید ہے۔
جی ایس ٹی میں کمی سال بھر میں بے اثر
جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی کو مودی سرکار نے عوام کیلئے بہت بڑی راحت کے طور پر پیش کیاتھا اوراسے ’بچت اُتسو‘کا نام دیا تھا مگر سال بھر میں ہی یہ تخفیف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے عام صارفین کیلئے بے اثر ہوکر رہ گئی ہے۔ضروری اشیاء پر جی ایس ٹی کی شرح ۱۲؍ یا ۱۸؍فیصد سے کم کرکے ۵؍ فیصد کئے جانے کے بعد ابتدائی طور پر اوسط قیمتوں میں تقریباً ۱۰؍ فیصد کمی دیکھی گئی۔ تاہم خام مال، توانائی اور لاجسٹکس کے اخراجات بڑھنے سے کمپنیوں نے قیمتوں میں۶؍ سے ۷؍فیصد تک اضافہ کیا۔
پارلے پروڈکٹس کے چیف مارکیٹنگ افسر مینک شاہ نے متنبہ کیا ہے کہ صارفین کو اب بھی ۲؍ سے۳؍فیصد کا فائدہ ہورہا ہے لیکن خام مال کی قیمتوں میں جس طرح اضافہ ہورہاہے اسی طرح ہوتا رہا تو تہواروں کے موسم میں قیمتیں اور زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: برکس ممالک کیلئے ہندوستانی برآمدات میں ۳۴؍ فیصد اضافہ
پیاز کیوں مہنگی ہوتی ہے؟
ہر سال اگست سے ستمبر کے دوران حکومت کے تمام تر احتیاطی اقدامات کے باوجود پیاز کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس کی ۳؍ بنیادی وجوہات ہیں:
رکشا بندھن، گنیش اتسو اور دیگر تہواروں کے باعث پیاز کی کھپت بڑھ جاتی ہے۔
بارش کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہوتی ہے اور منڈیوں تک مال پہنچنے میں تاخیر ہوتی ہے۔
پرانی فصل کا ذخیرہ ختم ہونے لگتا ہے اور نئی خریف فصل کی آمد میں کچھ وقت لگتا ہے۔