• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ اور ممدانی کی اختلافات کے باوجود خوشگوار ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

Updated: September 22, 2026, 3:12 PM IST | New York

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کے درمیان نظریاتی اختلافات کے باوجود خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی، جس نے سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی۔ ملاقات کے دوران رہائش کے بحران، تارکین وطن کے تحفظ، شہری ترقی اور آزادیٔ صحافت سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

Donald Trump addressing a press conference after meeting with Zohran Mamdani. Photo: X
ظہران ممدانی سے ملاقات کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کو نیویارک کے میئر کی سرکاری رہائش گاہ کا غیر معمولی دورہ کیا، جہاں انہوں نے میئر ظہران ممدانی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور اس نے سب کو حیران کر دیا، کیونکہ ممدانی ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہیں، جبکہ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کی مہم کے دوران سوشلزم پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں۔ ممدانی خود بھی ماضی میں ٹرمپ کو ’فاشسٹ‘قرار دے چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے ہفتے میں نیویارک پہنچنے کے بعد شہر میں ٹرمپ کی یہ پہلی مصروفیت تھی۔

یہ بھی پڑھئے: مائیکل جیکسن کا دستانہ، شہزادی ڈائنا کا گاؤن ابوظہبی میں نیلام ہوگا

نظریاتی اختلافات، مگر رویوں میں نرمی
سیاسی میدان کے دو مختلف سروں سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں پاپولسٹ لیڈر اپنے نظریاتی اختلافات اور اپنے حامیوں کے درمیان پائی جانے والی سخت کشیدگی کے باوجود ایک دوسرے سے خوشگوار انداز میں ملتے دکھائی دیئے۔ گزشتہ ۴۴؍برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی صدر نے نیویارک کے میئر سے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے۔ دونوں لیڈروں کے درمیان تعمیرات اور شہری ترقی کے موضوع پر خاص دلچسپی مشترک نظر آئی۔ ممدانی نے ایک بڑے ہاؤسنگ منصوبے کی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت ریلوے یارڈ کے اوپر۱۲؍ ہزار رہائشی یونٹس تعمیر کئے جائیں گے۔ 
رہائش کا بحران: نئی آبادی بسانے کا منصوبہ
ممدانی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا، ’’ہم جس معاملے پر بات کر رہے ہیں، وہ ہمارے شہر میں انتہائی نایاب موقع ہے؛ یہ ایک مکمل نئی آبادی تعمیر کرنے کا امکان ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کیلئے وفاقی حکومت کی مدد درکار ہوگی۔ ملک بھر میں رہائش کی کمی کو تسلیم کرتے ہوئے ٹرمپ بھی اس مسئلے کو کم کرنے کیلئے مختلف منصوبے پیش کر چکے ہیں۔ ممدانی نے بتایا کہ ملاقات کے دوران انہوں نے ٹرمپ کی بعض پالیسیوں، بالخصوص امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن اور ایسے ممالک کے شہریوں کو دی گئی عارضی امیگریشن حیثیت واپس لینے کے فیصلے کی مخالفت کا اظہار کیا جہاں حالات بحرانی ہیں، جن میں ہیٹی بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پیئرز مورگن کی ایڈ شیرن پر تنقید، کہا ’دباؤ میں آئی ہوئی کٹھ پتلی‘ نظر آئے

ممدانی نے کہا، ’’میں نے صدر کے سامنے اس حوالے سے اپنے انتہائی مضبوط خیالات پیش کئے کہ ہم نیویارک کے شہریوں کو، خصوصاً تارک وطن نیویارک کے باشندوں کو، کس طرح محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ ‘‘ٹرمپ نے بھی کہا کہ ممدانی اس معاملے پر ’بہت مضبوط موقف‘رکھتے ہیں۔ اختلافات کے باوجود نیویارک میں پیدا ہونے والے ٹرمپ نے کہا کہ وہ شہر کے متعدد میئرز کو دیکھ چکے ہیں، ’جن میں کچھ بہت اچھے تھے اور کچھ اتنے اچھے نہیں تھے۔ ‘انہوں نے ممدانی سے کہا’’میں یہ کہنے کے قابل ہوں کہ آپ ایک بہترین میئر ثابت ہوں گے، اور آپ نے اچھی شروعات کی ہے۔ ‘‘
میڈیا پر پابندی کا معاملہ
ایک صحافی نے ممدانی سے سوال کیا کہ ٹرمپ نے CNN، MS NOW اور Politico کے رپورٹرز کو کوریج سے روکنے کے اقدامات کئے ہیں۔ ممدانی نے جواب دیا، ’’میں نے صدر سے کہا کہ ہم یہاں لان میں تمام صحافیوں کو موجود رکھیں گے، کیونکہ میں آزادیٔ صحافت پر یقین رکھتا ہوں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اٹلی: اسکولوں میں برقع پر پابندی کی تجویز، غیر ملکی طلبہ کی تعداد بھی محدود ہوگی

میڈیا کے بائیکاٹ کی تردید
میڈیا کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’یہ دلچسپ ہے، کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ میرا بائیکاٹ کریں گے، لیکن انہوں نے کبھی میرا بائیکاٹ نہیں کیا۔ اس لئے مجھے اس حوالے سے زیادہ فکر نہیں تھی۔ دیکھیں، یہاں کتنا میڈیا موجود ہے۔ ‘‘ٹرمپ نے میڈیا پر ’’جعلی خبریں ‘‘پھیلانے کا الزام لگایا اور کہا کہ انہیں میڈیا کو دور رکھنے کی ’’ذمہ داری‘‘ محسوس ہوتی ہے۔ ممدانی اور ٹرمپ اس سے قبل فروری میں وہائٹ ہاؤس میں بھی ملاقات کر چکے ہیں، جہاں ان کے درمیان حیران کن طور پر خوشگوار ماحول دیکھنے میں آیا تھا۔ Politico کے مطابق، سوشلسٹ نظریات سے وابستگی رکھنے والے ممدانی کی اس کے بعد بائیں بازو کے سینیٹر اور ٹرمپ کے سخت ناقد برنی سینڈرز سے ملاقات بھی طے تھی۔ سینڈرز ممدانی کے سیاسی لیڈر اور سرپرستوں میں شمار ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مسجد الحرام کے مؤذن شیخ ابراہیم المدنی انتقال کر گئے

گریسی مینشن
میئر کی ۱۵؍ کمروں پر مشتمل سرکاری رہائش گاہ مشرقی دریا (East River) کے کنارے تقریباً۵ء۴؍ ہیکٹر رقبے پر واقع ہے اور اسے سرکاری طور پر گریسی مینشن (Gracie Mansion) کہا جاتا ہے۔ ٹرمپ، جو عمارتوں اور اندرونی سجاوٹ میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں، نے گریسی مینشن کو ’ایک خوبصورت جگہ‘ قرار دیا۔ انہوں نے اس سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ٹروتھ سوشل ‘ پر کہا تھا کہ صدر بننے سے پہلے بھی وہ اس حویلی کا کئی مرتبہ دورہ کر چکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK