مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال بیلاپور میں پارٹی کارکنان کی جانب سے جاری بھوک ہڑتال کی حمایت کرنے پہنچے۔
EPAPER
Updated: July 12, 2026, 10:16 AM IST | Mumbai
مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال بیلاپور میں پارٹی کارکنان کی جانب سے جاری بھوک ہڑتال کی حمایت کرنے پہنچے۔
مدھیہ پردیش میں ’ویاپم‘ بھرتی گھوٹالہ ہوا تھا، لیکن مہاراشٹر میں جو ایم پی ایس سی بھرتی گھوٹالہ ہوا ہے وہ اس سے بھی بڑا ہے۔ ایم پی ایس سی کا پورا نظام بدعنوانی کا شکار ہو چکا ہے اور طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو چا ہئے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے آن لائن امتحانی نظام اور نارملائزیشن کو فوراً منسوخ کریں، بصورت دیگر کانگریس ریاست گیر تحریک شروع کرے گی۔ یہ انتباہ مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے دیا ہے۔ ایم پی ایس سی کے سی بی ٹی اور نارملائزیشن نظام کے خلاف کانگریس کا غیر معینہ مدت کا سلسلہ وار بھوک ہڑتال اور دھرنا بیلاپور میں گزشتہ تین دن سے جاری ہے۔ سنیچر کو ہرش وردھن سپکال نے احتجاجی مقام کا دورہ کیا۔ اس موقع پر مہاراشٹر کانگریس کے نائب صدر آبا دلوی، روزگار و خود روزگار شعبہ کے سربراہ دھننجے شندے، جنرل سیکریٹری اور نوی ممبئی انچارج مونیکا جگتاپ، گروچرن بچھر، ترجمان سید ناصر حسین، سنتوش شیٹی، ریاستی سیکریٹری آنند سنگھ سمیت متعدد عہدیداران موجود تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کوئی بھی عمارت شہری انتظامیہ کے علم میں لائے بغیر نہیں بن سکتی ‘‘
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بی جے پی۔ مہایوتی حکومت گونگی، بہری اور اندھی بن چکی ہے۔ ایسے میں اس سے بات کیسے کی جائے، یہی سب سے بڑا سوال ہے۔ یہ حکومت ایک امتحان بھی دیانت داری اور منظم طریقے سے منعقد نہیں کروا سکتی۔ نیٹ کا پرچہ لیک ہوا، لیکن یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اب تک ۷۷؍ مرتبہ پرچے لیک ہو چکے ہیں۔ ہر شعبے میں بدعنوانی پھیلی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا ’’ایم پی ایس سی کے امتحانات کا ٹھیکہ نجی کمپنیوں کو دے کر آن لائن امتحانات کروائے جا رہے ہیں، جس کی طلبہ شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ کانگریس نے طلبہ کے مفاد میں یہ تحریک شروع کی ہے اور یہ تحریک پورے مہاراشٹر میں جاری ہے۔ جب تک طلبہ کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، کانگریس پیچھے نہیں ہٹے گی۔ حکومت فوری طور پر مطالبات تسلیم کرے، ورنہ احتجاج کی یہ چنگاری پورے مہاراشٹر میں پھیل جائے گی۔
سپکال نے مزید کہا کہ آن لائن امتحانی نظام میں سنگین بے ضابطگیاں موجود ہیں۔ امتحانات آف لائن اور مکمل شفاف طریقے سے کروائے جانے چاہئیں۔ آن لائن امتحانات کا ٹھیکہ چند مخصوص نجی کمپنیوں کو دیا گیا ہے۔ پیسے لے کر نوکریاں دینے کا کھیل جاری ہے۔ پوری کارروائی میں شفافیت کا فقدان ہے اور یہ نیا نظام بدعنوانی کے ایک منظم ریکیٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ نجی کمپنیوں کے ذریعے منعقد کئےجانے والے آن لائن امتحانی نظام پر طلبہ کا اعتماد باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا’’ چار دن سے احتجاج جاری ہے، لیکن نہ حکومت کا کوئی نمائندہ اور نہ ہی ایم پی ایس سی کا کوئی افسر مظاہرین سے ملنے آیا ہے۔ یہ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے۔ ممکن ہے وہ اسلئے نہیں کہ وہ اس مبینہ بدعنوانی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں یا پھر ان کے پاس طلبہ کے سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ‘‘ کانگریس لیڈر کے مطابق ’’حکومت اس تحریک کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن احتجاج جاری رہے گا۔ ‘‘ایک سوال کے جواب میں ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ رام مندر میں مبینہ چوری کا معاملہ حکومت کیلئے مسلسل باعث پریشانی بنتا جا رہا ہے، اس لئے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے سدھی ونایک مندر میں مبینہ چوری کا معاملہ سامنے لایا جا رہا ہے۔ اگر سدھی ونائک مندر میں ہوئی چوری کی تحقیقات کرنی ہے تو ضرور کی جائے، لیکن رام مندر میں مبینہ چوری کی بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئے۔ تاکہ اس معاملےکے اصل خاطیوں کو عوام کے سامنے لایا جا سکے۔