Inquilab Logo Happiest Places to Work

پمپری چنچوڑ: راحت کے کام میں مصروف این ڈی آر ایف کے جوانوں کو سانس لینے میں دقت

Updated: July 12, 2026, 10:17 AM IST | Pune

پمپری چنچوڑ کے موشی کچرا ڈپو میں پیش آنے والے خوفناک حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن جنگی بنیادوں پر جاری ہے لیکن تکنیکی اور قدرتی رکاوٹیں ریسکیو ٹیموں کیلئے مشکلات کھڑی کر رہی ہیں۔

The effort is still ongoing. Photo: INN
کوشش اب بھی جاری ہے۔ تصویر: آئی این این

پمپری چنچوڑ کے موشی کچرا ڈپو میں پیش آنے والے خوفناک حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن جنگی بنیادوں پر جاری ہے لیکن تکنیکی اور قدرتی رکاوٹیں ریسکیو ٹیموں کیلئے مشکلات کھڑی کر رہی ہیں۔ عمارت پر گرنے والے کچرے کے ڈھیر کی وجہ سے بلڈنگ میں پھنسے لوگ تو مشکل میں  ہیں ہی اب ریسکیو کے کام میں  مصروف نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس کے جوانوں کی صحت پر بھی اس کا برا اثر پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے راحتی کام سست پڑ گیا ہے۔ 
اطلاع کے مطابق کچرے سے پیدا ہونے والی میتھین گیس اور آکسیجن کی کمی نے ریسکیو ٹیم کے اہلکاروں کا سانس لینا مشکل کر دیا ہے۔ عمارت ایک طرف جھکی ہوئی ہے اور مکمل طور پر غیر مستحکم ہے، اس لئے اس کے کسی بھی وقت گرنے کا خطرہ ہے۔ مکمل طور پر بند سیڑھیاں، تنگ داخلی راستہ، اندھیرے اور بدبو کی وجہ سے این ڈی آر ایف کے اہلکاروں کو محدود جگہ میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔ اندر پھنسے ہوئے لوگ کنکریٹ کے بیم کے نیچے ہیں جہاں سے ان کا ہلنا مشکل ہے۔ ملبہ ہٹانے کیلئےجے سی بی کے زیادہ استعمال سے پوری عمارت کے گرنے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نروتم مشرا کو ٹکٹ نہ ملنے پرحامیوں کا پرتشدد احتجاج

لوگ شکایت کر رہے ہیں کہ راحت کا کام بڑی سست رفتاری سے ہو رہا ہے۔ اس تعلق سے وضاحت کرتے ہوئے کمشنر ڈاکٹر وجے سوریہ ونشی نے کہا کہ این ڈی آر ایف ملک کی بہترین تربیت یافتہ تنظیم ہے۔ انہیں جو خالی جگہ چاہئے وہ اب دستیاب ہے، اور وہ ستونوں کو ہٹا کر پھنسے ہوئے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بنیادی مقصد لوگوں کی جان بچانا ہے۔ ‘‘
چونکہ رات ہونے پر اندھیرے کے پیش نظر کام روک دیا جاتا ہے اس لئے بھی متاثرین کے اہل خانہ ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اندھیرا ہونے پر کام روکنے کے بجائے متبادل انتظام کیا جائے۔ اہلکاروں کو شفٹوں کے مطابق مامور کیا جائے۔ 
ریسکیو آپریشن میں بڑی پوکلین مشینوں کا استعمال خطرناک ہو سکتا تھا اس لئے چھوٹی مشینوں کی ضرورت محسوس کی گئی لیکن یہ مشینیں وہاں نہیں تھیں۔ لہٰذا جمعہ کی دوپہر میونسپل انتظامیہ کو عین وقت پر ان مشینوں کی تلاش کیلئے دوڑ بھاگ کرنی پڑی۔ معلوم ہوا کہ ہنگامی صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی مشینری پہلے سے تیار نہیں رکھی گئی تھی جو ایک کوتاہی ہے۔ 
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ کچرے کے پہاڑ کے گرنے کے سبب پیش آیا۔ پہاڑ کی چوٹی پر پانی جمع ہو گیا تھا جس سے کچرا پوری طرح نم ہو گیا اور کھسک کر نیچے گر پڑا۔ یہ پہاڑ ۵۰؍ میٹر لمبا تھا، اس پہاڑ اور بلڈنگ کے درمیان ۱۸؍ میٹر کی سڑک اور درمیان میں ۷؍ میٹر کی جگہ تھی اس کے باوجود وہ بلڈنگ پر گر پڑا۔ یاد رہے کہ بدھ کے روز پمپری چنچوڑ کے مورشی علاے میں واقع کچرا پلانٹ کے دفتر کی عمارت پر قریب ہی موجود کچرے کو ڈھیر گر پڑا تھا جس کے سبب بلڈنگ منہدم ہو گئی جس میں ۲۳؍ لوگ پھنس گئے تھے جن میں سے ۱۴؍ لوگوں کو نکالا گیا، جبکہ ۹؍ اب بھی اندر ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK