Updated: July 11, 2026, 10:22 PM IST
| Bosnia
سریبرینیکا نسل کشی کے ۳۱؍ مکمل ہونے پر اس کے متاثرین کو یاد کیا گیا، جبکہ تین دہائی گزرنے کے بعد بھی متاثرین اپنوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں،اس دوران مزید ۱۰؍ متاثرین کی تدفین انجام دی گئی، ااقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے۲۰۲۴ء میں ۱۱؍ جولائی کو۱۹۹۵ء کی سریبرینیکا نسل کشی کی یاد کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔
سریبرینیکا میں نسل کشی متاثرین کے سوگوار اہل خانہ ۔ تصویر: ایکس
جولائی۱۹۹۵ء میں بوسنیائی سرب افواج نے اقوام متحدہ کے محفوظ علاقے سریبرینیکا پر قبضہ کرنے کے بعد ۸۰۰۰؍سے زیادہ بوسنیائی مرد اور لڑکوں کا قتل عام کیا تھا۔بین الاقوامی عدالت انصاف نے۲۰۰۷ء میں فیصلہ دیا کہ یہ قتل نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔پوٹوچاری میموریل سینٹر میں ۶۷۰۰؍ سے زیادہ متاثرین کو دفن کیا جا چکا ہے، جبکہ۱۰۰۰؍ سے زیادہ افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔متاثرین کی باقیات۵۷۰؍ سے زیادہ مقامات سے برآمد کی گئی ہیں، جن میں بوسنیا اور ہرزیگووینا بھر میں متعدد بنیادی اور ثانوی اجتماعی قبریں شامل ہیں، جن میں سے بیشتر کو قتل کو چھپانے کی کوشش میں دوبارہ دفن کیا گیا تھا۔
ہزاروں افراد سریبرینیکا میں نسل کشی کی ۳۱؍ ویں یاد منانے کے لیے جمع ہوئے، جبکہ مزید۱۰؍ متاثرین کو سپرد خاک کیا گیا۔ واضح رہے کہ یہ اجتماعی جنازہ، جو ہرسال۱۱؍ جولائی کو منعقد ہوتا ہے، بوسنیا اور ہرزیگووینا کی سب سے پرغمگین یادگاری تقریبات میں سے ایک ہے، کیونکہ خاندان اپنے عزیزوں کو دفن کرتے رہتے ہیں جن کی باقیات اجتماعی قبروں سے برآمد ہوتی ہیں اور مارے جانے کی دہائیوں بعد ان کی شناخت ہوتی ہے۔امسال ۱۰؍ متاثرین کو ملا کر نسل کشی کے متاثرین کی کل تعداد ۶۷۸۲؍ ہوگئی۔بہت سے خاندان تدفین کو ملتوی کر رہے ہیں کیونکہ صرف جزوی باقیات برآمد ہوئی ہیں، انہیں امید ہے کہ نئی دریافت شدہ اجتماعی قبروں میں مزید ہڈیاں ملیں گی۔
بعد ازاں اس یاد گاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، بوسنیا اور ہرزیگووینا کی صدارت کے چیئرمین ڈینس بیسیروویچ نے سریبرینیکا کو نفرت، غیر انسانی بنانے اور جرائم کے بڑھنے سے پہلے ان کا مقابلہ کرنے میں ناکامی کے خلاف عالمی انتباہ قرار دیا۔بیسیروویچ نے کہا کہ’’ اجتماعی قتل بے ساختہ تشدد کے واقعات نہیں تھے، بلکہ بین الاقوامی برادری کی آنکھوں کے سامنے جان بوجھ کر منصوبہ بند طور پر انجام دئے گئے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسپین: غزہ امدادی بحری قافلے پر حملہ،اسرائیلی فوجی حکام کے خلاف تحقیقات کا آغاز
تقریب میں ترکی کے خاندان اور سماجی خدمات کے وزیر ماہینور اوزدیمیر گوکتاش کے ذریعہ پڑھے گئے ایک پیغام میں، صدر رجب طیب اردگان نے سریبرینیکا نسل کشی کو جدید تاریخ کے تاریک ترین اور شرمناک ابواب میں سے ایک قرار دیا۔انہوں نے بوسنیا اور ہرزیگووینا کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آئینی نظام کے لیے ترکی کی حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اس نسل کشی کو "انسانیت کے خلاف جرم" قرار دیتے ہوئے مارے گئے بوسنیائی مردوں اور لڑکوں اور سریبرینیکا کی ماؤں کو خراج تحسین پیش کیا اور بوسنیا اور ہرزیگووینا کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
البانیہ اور مونٹینیگرو کے عہدیداروں نے کہا کہ نسل کشی سے متعلق حقائق بین الاقوامی عدالتوں کے ذریعہ حتمی طور پر قائم کیے گئے ہیں اور انہیں سیاسی تشریح تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے خبردار کیا کہ نسل کشی سے انکار اور سزا یافتہ جنگی مجرموں کی پذیرائیسچائی، انصاف اور متاثرین کے وقار پر حملہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنوبی افریقہ میں غیر قانونی تارکین وطن مخالف گروہ سرگرم
سریبرینیکا نسل کشی
1993 کے موسم بہار میں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سریبرینیکا کو ایک محفوظ "محفوظ علاقہ" قرار دیا تھا۔راتکو ملادیچ کی کمان میں بوسنیائی سرب افواج نے 11 جولائی 1995 کو ڈچ اقوام متحدہ کے امن دستوں کی موجودگی کے باوجود اس علاقے پر قبضہ کر لیا۔خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو زبردستی اس علاقے سے منتقل کر دیا گیا، جبکہ۸۰۰۰؍ سے زیادہ بوسنیائی مردوں اور لڑکوں کو حراست میں لیا گیا اور بعد میں سریبرینیکا اور اس کے ارد گرد جنگلوں، اسکولوں، کارخانوں اور گوداموں میں مار دیا گیا۔ متاثرین کی باقیات مشرقی بوسنیا بھر میں درجنوں بنیادی اور ثانوی اجتماعی قبروں سے برآمد کی گئی ہیں۔ بہت سی لاشوں کو بنیادی قبروں سے نکال کر ثانوی مقامات پر دوبارہ دفن کیا گیا تاکہ جرائم کے ثبوت کو چھپانے کی منظم کوشش کی جا سکے۔شناخت شدہ باقیات کو ہر۱۱؍ جولائی کو پوٹوچاری میموریل قبرستان میں دفن کیا جاتا رہتا ہے، جبکہ۱۰۰۰؍ سے زیادہ لاپتہ متاثرین کی تلاش جاری ہے۔
انہیں متاثرین کے اہل خانہ میں نرمینا لاکوٹا ہیں، جو گزشتہ ۳۱؍ سالوں سے اپنے بھائی اور والد کی تلاش کرہی ہیں، چنانچہ انہوں نے شاعری کا سہارا لیا تاکہ وہ اپنے عزیزوں سے بات کرتی رہیں جو ۱۹۹۵ءکی سریبرینیکا نسل کشی میں کھو گئے تھے۔نرمینا لاکوٹا کے وہ الفاظ جو انہوں نے اپنے والد اور بھائی کو لکھنے میں برسوں گزارے، دل کو چھو لینے والے ہیں۔’’میں تمہارے بارے میں کچھ نہیں جانتی، پھر بھی تمہیں لکھتی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم تم کہاں ہو، کیسے ہو، یا تمہارا کیا بنا۔ میں صرف ایک بات جانتی ہوں مجھے تمہاری بہت یاد آتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران میں دھماکے، امریکی فوج کی ملوث ہونے کی تردید
ذہن نشین رہے کہ ان کے والد سلیو ڈیلیچ اور بھائی ولیدڈیلیچ ان ہزاروں بوسنیائی مردوں میں شامل تھے جو جولائی ۱۹۹۵ءمیں سریبرینیکا کے زوال کے بعد غائب ہو گئے تھے۔انہوں نے کہا’’میرے لیے، ہر دن۱۱؍ جولائی ہے۔۳۱؍ سالوں سے، ہر دن۱۱؍ جولائی ہے۔ میں اس کے ساتھ سونے جاتی ہوں اور اس کے ساتھ جاگتی ہوں۔ لوگ کہتے ہیں وقت زخم بھر دیتا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ تم بس اس کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہو۔‘‘گواہوں کے بیانات کے مطابق، لاکوٹا کے والد سلیو ڈیلیچ، جو۷۲؍ سال کے تھے، نے سریبرینیکا کے زوال کے بعد اپنے بیٹے ولید کے بغیر جانے سے انکار کر دیا تھا۔ان میں سے کوئی بھی دوبارہ کبھی نہیں دیکھا گیا۔اگرچہ ان کے ساتھ مارے گئے دیگر مردوں کی باقیات ۱۹۹۷ءکے اوائل میں ہی برآمد کر لی گئی تھیں، لیکن ولید کی باقیات کبھی نہیں مل سکیں۔