Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’کوئی بھی عمارت شہری انتظامیہ کے علم میں لائے بغیر نہیں بن سکتی ‘‘

Updated: July 11, 2026, 12:38 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ہائی کورٹ نے نوی ممبئی شہری انتظامیہ کو۴؍ ہزار سے زائد غیر قانونی عمارتیں بننے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ نوی ممبئی جھوپڑپٹیوں پر مشتمل علاقہ نہیں ہے بلکہ اسے شہری ترقیاتی پلان کے مطابق بسایا اور بنایا گیا ہے ۔

Bombay High Court.Photo:INN
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر:آئی این این
نوی ممبئی میں ۴؍ہزار سے زائد غیر قانونی تعمیرات کے خلاف عدالت کے حکم کے باوجود کارروائی نہ کرنے پر بامبے ہائی کورٹ میں داخل کی گئی عرضداشت پر ہونے والی شنوائی کے دوران کورٹ نے خاطی افسران کے خلاف جاری کی گئی شوکاز نوٹس پر بے اطمینانی کا اظہار کیا ۔ عدالت نے اس معاملہ میں کئے گئے مشاہدہ کے بعد یہ بھی کہا کہ کوئی بھی غیر قانونی تعمیرات بی ایم سی کے بد عنوان افسر کی ملی بھگت یا اس کے علم میں لائے بغیر ممکن نہیں ہے۔
 
 
نوی ممبئی میں ۴؍ ہزار۹۴۶؍عمارتوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے ۔ مذکورہ عمارتوں سے متعلق داخل کردہ عرضداشت پر کورٹ نے نہ صرف غیر قانونی عمارتوں پر کارروائی کا حکم دیا تھا بلکہ ان عمارتوں کی تعمیرات کے ذمہ دار خاطی افسران کے خلاف بھی محکمہ جاتی جانچ اور سخت ایکشن لینے کا حکم دیا تھا - تاہم مذکورہ معاملہ میں عدالت کے حکم کی تعمیل نہ ہونے پر توہین عدالت کے تحت دوبارہ عرضداشت داخل کی اور درخواست گزار کشور سندر شیٹی نے عدالت کے حکم کی تعمیل نہ ہونے کی اطلاع دی  جس پر نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن کے وکیل انل انتورکر نے نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن کا دفاع کرتے ہوئے کورٹ کو بتایا کہ اس سلسلہ میں عدالت کے روبرو جو۶؍سو صفحات پر مشتمل حلف نامہ داخل کیا گیا ہے، اس میں نوی ممبئی کمشنر کیلاش شندے کی جانب سے ملازمت سے سبکدوش ہونے والے اور موجودہ افسران و ملازمین کے خلاف محکمہ جاتی جانچ کا سلسلہ شروع کئے جانے کی تفصیلات موجود ہے۔  اس کے علاوہ ان ۴۰۰؍ افسران و ملازمین کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیاگیا ہے  جن کی موجودگی میں   نوی ممبئی کے مختلف علاقوں میں تقریباً۵؍ ہزار غیر قانونی عمارتیں تعمیر ہوئی ہیں ۔ انہوں یہ بھی کہا کہ بہت سے افسران و ملازمین جو ریٹائرڈ ہوچکے ہیں،  ان کے خلاف کارروائی کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم   موجودہ  افسران میں بھی بعض کا تبادلہ ہوچکا ہے اور بعض کو ریاستی حکومت نے ڈپوٹیشن خدمات پر مامور کیا ہے ۔
اس پر کورٹ نے جہاں ریاستی حکومت کو مذکورہ افسران کے خلاف نوی ممبئی کی جانب سے کی جانے والی جانچ میں مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی  وہیں یہ بھی کہا کہ نوی ممبئی شہرجھوپڑپٹیوں پر مشتمل نہیں ہے بلکہ اسے شہری ترقیاتی پلان کے تحت آباد کیا گیا ہے ۔ اگر یہاں تقریباً۵؍ ہزار غیر قانونی عمارتیں تعمیرکی گئی ہیں تو یہ شہری انتظامیہ کے افسران و ملازمین کی ملی بھگت، بڑے پیمانے پر کی گئی بد عنوانی اور ان کے علم میں لائے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کورٹ نے  محض شوکاز نوٹس جاری کئے جانے پر بھی بے اطمینانی کا اظہار کیا۔
 
 
دو رکنی بنچ نے عرضداشت گزار کی درخواست پر سڈکو کو بھی فریق بنانے کی اجازت دی اور نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن کو سبکدوش اور موجودہ۴؍ ہزار سے زائد افسران کے خلاف کی جانے والی ٹھوس اور سخت کارروائی سے متعلق حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا اورسماعت کو۱۴؍ جولائی تک کیلئے ملتوی کردیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK