مالی سال ۲۰۲۶ء کے آغاز سے جنوری کے آخر تک ہندوستان کا مالیاتی خسارہ ۸ء۹؍ لاکھ کروڑ روپے رہا، جو پورے مالی سال کے ہدف کا ۶۳؍ فیصد ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: February 27, 2026, 8:22 PM IST | Mumbai
مالی سال ۲۰۲۶ء کے آغاز سے جنوری کے آخر تک ہندوستان کا مالیاتی خسارہ ۸ء۹؍ لاکھ کروڑ روپے رہا، جو پورے مالی سال کے ہدف کا ۶۳؍ فیصد ہوتا ہے۔
مالی سال ۲۰۲۶ء کے آغاز سے جنوری کے آخر تک ہندوستان کا مالیاتی خسارہ ۸ء۹؍ لاکھ کروڑ روپے رہا، جو پورے مالی سال کے ہدف کا ۶۳؍ فیصد ہوتا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری ۲۰۲۶ء تک حکومتِ ہند کو۲۷۰۸۶۵۴؍کروڑ روپے موصول ہوئے، جو مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء کے لیے مقرر نظرِ ثانی شدہ تخمینے کا ۵ء۷۹؍ فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جموں اور کشمیر کا پہلی بار رنجی چیمپئن بننا طے
اس میں۲۰۹۴۲۱۸؍ کروڑ روپے ٹیکس آمدنی (مرکز کو حاصل خالص رقم)۵۵۷۳۰۷؍ کروڑ روپے غیر ٹیکس آمدنی اور ۵۷۱۲۹؍ کروڑ روپے غیر قرضہ جاتی سرمایہ جاتی وصولیاں شامل ہیں۔ اس مدت کے دوران حکومتِ ہند نے ریاستی حکومتوں کو ٹیکسوں میں ان کے حصے کی منتقلی کے طور پر۱۱۳۹۷۶۷؍ کروڑ روپے ادا کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں۶۵۵۸۸؍ کروڑ روپے زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اہان پانڈے میں ہے اولڈاسکول رومانوی ہیرو جیسی دیانتداری ہے: علی عباس ظفر
اسی مدت میں حکومتِ ہند کا کل خرچ۳۶۹۰۰۶۱؍ کروڑ روپے رہا، جو مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ءکے نظرِ ثانی شدہ کل اخراجاتی تخمینے کا ۳ء۷۴؍ فیصد ہے۔ اس میں سے۲۸۴۷۷۸۰؍ کروڑ روپے محصولات کے مد میں اور۸۴۲۲۸۱؍ کروڑ روپے سرمایہ جاتی مد میں خرچ کیے گئے۔ کل محصولات کے اخراجات میں سے۹۸۸۳۰۲؍ کروڑ روپے سود کی ادائیگی پر اور۳۵۴۸۶۱؍ کروڑ روپے بڑی سبسڈیوں پر خرچ کیے گئے۔وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کے لیے مالیاتی خسارے کو مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے ۳ء۴؍ فیصد تک مزید کم کرنے کا تخمینہ ظاہر کیا ہے۔