جین ایکس (۱۹۶۵ء سے ۱۹۸۰ء کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) مالی سال ۲۰۳۰ء تک اشیاء اور خدمات کی کھپت میں ۵۰۰؍ ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس کھپت میں پریمیم مصنوعات کا حصہ بڑھنے کی توقع ہے۔
EPAPER
Updated: February 27, 2026, 9:06 PM IST | Mumbai
جین ایکس (۱۹۶۵ء سے ۱۹۸۰ء کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) مالی سال ۲۰۳۰ء تک اشیاء اور خدمات کی کھپت میں ۵۰۰؍ ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس کھپت میں پریمیم مصنوعات کا حصہ بڑھنے کی توقع ہے۔
جین ایکس (۱۹۶۵ء سے ۱۹۸۰ء کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) مالی سال ۲۰۳۰ء تک اشیاء اور خدمات کی کھپت میں ۵۰۰؍ ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس کھپت میں پریمیم مصنوعات کا حصہ بڑھنے کی توقع ہے۔ یہ بات جمعہ کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
مارکیٹ ریسرچ فرم ریڈسیر اسٹریٹیجی کسنلٹنٹس کی رپورٹ کے مطابق، فی کس کھپت میں مسلسل اضافہ مجموعی کھپت کی ترقی کو سہارا دے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جین ایکس کی جانب سے صحت کی دیکھ بھال پر کیا جانے والا خرچ مالی سال ۲۰۳۰ء تک ۱۷؍فیصد کی مرکب سالانہ شرح نمو (سی اے جی آر) سے بڑھ کر۷۳؍ ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ نیوٹراسیوٹیکلز پر اخراجات مالی سال ۲۰۳۰ء تک ۲۰؍ ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جو ۲۵؍فیصد سالانہ شرح نمو سے بڑھ رہے ہیں۔ یہ صحت اور روزمرہ فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کے نتائج پر مبنی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، جین ایکس کی بیوٹی اور پرسنل کیئر مصنوعات پر خرچ مالی سال۲۰۳۰ء تک ۸؍ ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے کیونکہ ان کی ترجیحات محض رجحانات کی پیروی سے ہٹ کر علاج اور مؤثر مصنوعات کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ جین ایکس اب سست رفتار، زیادہ آرام دہ اور سہولیات پر مبنی سفر کو ترجیح دے رہے ہیں۔ متبادل رہائش اور بوتیک ہوٹلوں میں قیام کی طلب میں سالانہ ۲۵؍فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ نسل تفریحی سفر کے لیے پریمیم کیبن اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام کو ترجیح دیتی ہے۔ تعلیم اب بھی جین ایکس والدین کے لیے ایک روایتی خرچ ہے۔ شہری خاندان فی بچہ سالانہ ۱۰؍ سے ۲۰؍ لاکھ روپے تک خرچ کر رہے ہیں، جبکہ کیمبرج اور آئی بی اسکولوں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک تعلیمی پروگراموں کو بھی تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جموں اور کشمیر کا پہلی بار رنجی چیمپئن بننا طے
مریگینک گٹگٹیا پارٹنر، ریڈسیر اسٹریٹیجی کنسلٹنٹس نے کہاکہ ’’جین ایکس شاید ہندوستان کے صارفین کے منظرنامے میں اب تک کی سب سے کم اندازہ لگائی گئی قوت ہے۔ وہ معاشی طور پر مستحکم، ڈیجیٹل طور پر بااعتماد اور اپنی اقدار کے بارے میں واضح ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:اہان پانڈے میں ہے اولڈاسکول رومانوی ہیرو جیسی دیانتداری ہے: علی عباس ظفر
انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ ایک ایسی نسل ہے جو اب صوابدیدی اخراجات کے تجربات سے آگے بڑھ کر بہتر صحت، گہرے سفری تجربات، بہتر ڈیزائن والے گھروں اور پائیدار معیار کی اشیاء پر سوچ سمجھ کر خرچ کر رہی ہے۔‘‘
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کا تنخواہ دار طبقہ، خاص طور پر نوجوان پیشہ ور افراد، ملک کی کنزیومر ڈیوایبل اشیاء کی مارکیٹ کی ترقی کو تیز کریں گے، جس کی متوقع سالانہ شرح نمو ۱۱؍ فیصد ہے اور جو ۲۰۲۹ء تک۳؍ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔