• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی کے بدلتے دور میں صرف منیجرز کی ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں

Updated: October 28, 2026, 4:09 PM IST | New Delhi

ایئر بی این بی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) برائن چیسکی نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے بدلتے دور میں ایسے افراد کے لیے چیلنجز بڑھ سکتے ہیں جن کا کام صرف دوسرے ملازمین کو منیج کرنا ہے یا جو نئی چیزیں سیکھنے اور تبدیلیوں کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

Artificial Inteligence.Photo:INN
آرٹیفیشل انٹیلیجنس۔ تصویر:آئی این این

ایئر بی این بی  کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) برائن چیسکی نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے بدلتے دور میں ایسے افراد کے لیے چیلنجز بڑھ سکتے ہیں جن کا کام صرف دوسرے ملازمین کو منیج کرنا ہے یا جو نئی چیزیں سیکھنے اور تبدیلیوں کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پوڈکاسٹ ’اِنویسٹ لائک دی بیسٹ‘   میں گفتگو کرتے ہوئے چیسکی نے کہا کہ اے آئی کے دور میں دو طرح کے افراد کے لیے اپنی ملازمتوں اور پیشہ ورانہ اہمیت کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو صرف دوسروں کو منیج کرتے ہیں، جبکہ دوسری قسم ان ملازمین کی ہے جو تبدیلی کی مخالفت کرتے ہیں اور نئی مہارتیں سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
چیسکی نے کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ مستقبل میں صرف لوگوں کو مینج کرنے والے منیجرز کی کوئی خاص اہمیت باقی رہے گی۔ پیپل منیجرز سے میری مراد ایسے افراد ہیں جن کا کام صرف دوسرے لوگوں کو منیج کرنا ہوتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ منیجرزاپنی ذمہ داریوں کو صرف ملازمین کو جذباتی تعاون فراہم کرنے یا میٹنگز کا انتظام کرنے تک محدود نہیں رکھ سکتے۔ اس کے بجائے انہیں قیادت کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ خود بھی عملی طور پر کام میں حصہ لینا ہوگا اور اپنی ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے میں براہِ راست کردار ادا کرنا ہوگا۔
 برائن چیسکی نے منیجرز کے اس نئے کردار کو ’ہائبرڈ پیپل منیجرز‘ یا ’منیجرز آئی سی‘ (Manager IC) کا نام دیا ہے۔ اس سے مراد ایسا منیجرز ہے جو ٹیم کی نگرانی اور رہنمائی کرنے کے ساتھ خود بھی عملی کام انجام دیتا ہے اور انفرادی طور پر کمپنی کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ ان کے مطابق، مستقبل میں منیجرز کے لیے صرف کام تقسیم کرنا، ملازمین کی نگرانی کرنا اور میٹنگز منعقد کرنا کافی نہیں ہوگا۔ انہیں اپنی مہارت اور عملی کارکردگی کے ذریعے بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ادارے کے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’اسٹوڈنٹ آف دی ایئر: آفٹر ڈارک‘ ‘کا ٹریلر ریلیز

اے آئی کی مدد سے روزمرہ کے کئی انتظامی کام خودکار ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں کمپنیوں کو ان منیجرز کی ضرورت زیادہ محسوس ہو سکتی ہے جو مسائل حل کرنے، اہم فیصلے لینے، عملی نتائج حاصل کرنے اور اپنی ٹیم کو بہتر کارکردگی کے لیے تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔  چیسکی نے واضح کیا کہ ملازمین کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنا مستقبل میں بھی منیجرز کی اہم ذمہ داری رہے گی۔ ٹیم کے ارکان سے باقاعدگی سے بات چیت کرنا، ان کے مسائل سمجھنا اور ان کے ساتھ وقت گزارنا اعتماد پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کے اراکین کے ساتھ کھانے پر جانا یا غیر رسمی ماحول میں گفتگو کرنا بھی منیجرز کو اپنے ساتھیوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ان کے مطابق اگر کوئی منیجرز عملی کام میں اپنا حصہ نہیں ڈالتا یا ملازمین کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد فراہم نہیں کرتا تو مستقبل میں صرف اچھے تعلقات اور میٹنگز کا اہتمام اس کے کردار کو مؤثر ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔  ایئر بی این بی کے سی ای او نے ان پیشہ ور افراد کے لیے بھی خطرے کی نشاندہی کی جو نئی ٹیکنالوجی سیکھنے یا اسے اپنے کام میں استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت روزمرہ کے دفتری اور کاروباری کاموں کا حصہ بنتی جا رہی ہے، ایسے ملازمین جو نئے ڈجیٹل ٹولز آزمانے اور اپنے کام کرنے کے طریقوں میں تبدیلی لانے سے کتراتے ہیں، انہیں پیشہ ورانہ میدان میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چیسکی کے مطابق، نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے میں ناکامی ملازمین کی کارکردگی، ترقی کے مواقع اور مستقبل میں ملازمت برقرار رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مدوشنکا کے پنجے سے سری لنکا سہ فریقی سیریز کے فائنل میں

برائن چیسکی نے یہ بھی واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ہر شخص کا اعلیٰ درجے کا تکنیکی ماہر ہونا ضروری نہیں ہے۔ نئی چیزیں سیکھنے، مختلف ٹولز کو آزمانے اور اپنی مہارتوں کو مسلسل بہتر بنانے کی خواہش ملازمین کو اس تبدیلی سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان کے بیان کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اے آئی کے دور میں صرف عہدہ یا انتظامی اختیار کسی فرد کی پیشہ ورانہ اہمیت برقرار رکھنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ عملی مہارت، مسائل حل کرنے کی صلاحیت، سیکھنے کا جذبہ اور نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی آمادگی مستقبل کے کام کی دنیا میں زیادہ اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگرچہ چیسکی کے خیالات مستقبل میں ملازمتوں کے ممکنہ رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن ان کا یہ بیان اس بات کا قطعی ثبوت نہیں کہ تمام انتظامی ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔ اس کے بجائے یہ اس امکان کو اجاگر کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ منیجرز اور ملازمین، دونوں کے کردار اور ذمہ داریوں میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK