۲۳ء میں نافذ کی گئی کٹوتی کے مرحلہ وار خاتمہ کی جانب اہم پیش رفت، اگست سے یومیہ پیداوار میں ایک لاکھ ۸۸؍ ہزار بیرل کا اضافہ ہوگا۔
تیل کی ریفائنری۔ تصویر:آئی این این
اوپیک پلس کے۷؍ رکن ممالک نے اگست۲۰۲۶ء سے اپنی مشترکہ یومیہ تیل پیداوار میں ایک لاکھ ۸۸؍ہزار بیرل اضافہ پر اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ پیداوار میں کی گئی رضاکارانہ کٹوتیوں کو بتدریج واپس لینے کے عمل کا ایک اور مرحلہ ہے۔ تاہم مذکورہ ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اس دوران عالمی منڈی کے استحکام کو برقرار رکھنے پر بھی توجہ مرکوز رہے گی اور یہ ان کی اولین ترجیح بھی ہوگی۔
پیداوار بڑھانے کافیصلہ سعودی عرب، روس، عراق، کویت، قزاخستان، الجزائر اور عمان کے وزرا کے درمیان ورچوئل اجلاس میں کیا گیا۔ یاد رہے کہ یہ ممالک ۲۳ء سے عالمی تیل منڈی کو سہارا دینے کیلئے رضاکارانہ طور پر اضافی پیداوار میں کمی کر رہے تھے۔پیداوار میں یہ اضافہ اپریل ۲۳ء میں اعلان کردہ رضاکارانہ کٹوتیوں کوختم کرنے کے عمل کا تازہ مرحلہ ہے۔ اوپیک پلس نے کہا کہ آئندہ پیداوار میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا انحصار منڈی کی صورتحال پر ہوگا اور ضرورت پڑنے پر پیداوار میں اضافے کی رفتار تیز، سست یا اسے واپس بھی لیا جا سکتا ہے تاکہ بین الاقوامی بازار میں توازن برقرار رہے۔اگست۲۶ءکے پیداواری شیڈول کے مطابق سعودی عرب اور روس اپنی یومیہ پیداوار میں ۶۲-۶۲؍ ہزار بیرل کا اضافہ کریں گے جو شریک ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ عراق ۲۶؍ ہزار بیرل،کویت۱۶؍ہزار بیرل، قزاخستان ۱۰؍ہزار بیرل، الجزائر۶؍ہزار بیرل اور عمان۵؍ ہزار بیرل یومیہ پیداوار بڑھائے گا۔
اضافے کے بعد سعودی عرب کی مقررہ یومیہ پیداوارایک کروڑ۴؍ لاکھ۱۶؍ہزار بیرل، روس کی ۹۸؍ لاکھ ۸۷؍ہزار بیرل، عراق کی ۴۴؍ لاکھ۵؍ ہزار بیرل، کویت کی ۲۶؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار بیرل، قزاخستان کی۱۶؍ لاکھ ۱۸؍ہزار بیرل، الجزائر کی۱۰؍لاکھ ایک ہزار بیرل اور عمان کی۸؍ لاکھ۳۶؍ہزار بیرل ہو جائے گی۔
ساتوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ پیداوار میں یہ اضافہ مشروط ہے اور اگر عالمی بازار میں حالات تبدیل ہوئے تو اس میں رد و بدل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ضرورت پڑنے پر رضاکارانہ کٹوتیوں کے خاتمے کے عمل کو تیز، روکنے یا واپس لینے کا اختیار برقرار رکھا جائے گا تاکہ تیل کی عالمی منڈی میں استحکام قائم رہے۔تیل پیدا کرنےوالے ممالک کے گروپ نے کہا کہ تازہ پیداواری ایڈجسٹمنٹ سے ان ممالک کو ماضی میں مقررہ حد سے زیادہ پیداوار کی تلافی کے عمل کو تیز کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے اوپیک پلس کے اعلامیہ ٔ تعاون اور مشترکہ وزارتی نگراں کمیٹی کی نگرانی میں کئے گئے تمام رضاکارانہ پیداواری فیصلوں پر مکمل عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔ساتوں ممالک نے یہ بھی وعدہ کیا کہ جنوری ۲۴ء سے طے شدہ حد سے زیادہ پیدا ہونے والے تیل کی مکمل تلافی کی جائے گی۔ اس کیلئےہر ماہ اجلاس ہوگا جس میں عالمی منڈی کی صورتحال، پیداواری اہداف پر عمل درآمد اور تلافی کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان کا اگلا اجلاس۲؍ اگست۲۶ءکو ہوگا۔