انل بسواس کوہندی سنیما کے ابتدائی دور کے عظیم موسیقار، گلوکار اور موسیقی ہدایت کار تھے۔انہیں ہندی فلمی موسیقی کے معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔انہیں ایک ایسے موسیقار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے مکیش ، طلعت محمود سمیت کئی گلوکاروں کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچایا۔
انل بسواس۔ تصویر:آئی این این
انل بسواس کوہندی سنیما کے ابتدائی دور کے عظیم موسیقار، گلوکار اور موسیقی ہدایت کار تھے۔انہیں ہندی فلمی موسیقی کے معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔انہیں ایک ایسے موسیقار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے مکیش ، طلعت محمود سمیت کئی گلوکاروں کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچایا۔
انل بسواس، جن کا پورا نام انل کرشنا بسواس ہے، کی پیدائش۷؍جولائی ۱۹۱۴ءکومشرقی بنگال کے وارسال(اب بنگلہ دیش)میںہوئی تھی۔ بچپن سے ہی ان کا رجحان نغموں اور موسیقی کی طرف تھا۔محض ۱۴؍ سال کی عمرسےہی انہوں نے موسیقی کی محفلوں میں حصہ لیناشروع کر دیا تھا جہاں وہ طبلہ بجایا کرتے تھے۔
۱۹۳۰ءمیںانل کلکتہ کے رنگ محل تھیٹرسےجڑ گئے۔جہاں وہ بطورایکٹر، موسیقار، اسسٹنٹ میوزک ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتے رہے۔ ۱۹۳۲ءسے ۱۹۳۴ءتک وہ تھیٹرسےوابستہ رہے۔ انہوں نے کئی ڈراموں میں اداکاری کے ساتھ گلوکاری بھی کی۔ رنگ محل تھیٹرکےساتھ ہی انل ہندوستان ریکارڈنگ کمپنی کےساتھ بھی جڑ گئے۔ ۱۹۳۵ءمیںاپنے خوابوں کو تعبیر کی شکل دینے کے لیے وہ کلکتہ سے ممبئی آ گئے۔ ۱۹۳۵ء میں آنےوالی فلم ’دھرم کی دیوی‘سے بطورمیوزک ڈائریکٹر انیل نے اپنےفلمی کریئرکاآغاز کیا۔ ساتھ ہی اس فلم میں انہوں نے اداکاری بھی کی۔
۱۹۴۲ءمیںانل بامبے ٹاکیز سے وابستہ ہوگئے اور ۲۵۰۰؍روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے لگے۔ ۱۹۴۳ء میںانل کو بامبے ٹاکیز میں فلم ’قسمت‘کیلئےموسیقی دینے کاموقع ملا۔ یوں تواس فلم میں ان کے تمام نغمے مقبول ہوئے لیکن ’آج ہمالیہ کی چوٹی سے پھر ہم نے للکارا ہے -دور ہٹو اے دنیا والو ہندوستان ہمارا ہے‘کی دھن والےنغمے نے آزادی کے ديوانوں میں ایک نیا جوش بھر دیا۔اپنےنغموں کو انل نے غلامی کے خلاف آواز بلند کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور ان کے نغموںنے انگریزوںکیخلاف ہندستانیوںکی جدوجہد کو ایک نئی سمت دی۔یہ نغمے اس قدر مقبول ہوئےکہ فلم کےاختتام پرسامعین کی فرمائش پرسنیماہال میںدوبارہ انہیںسنایاگیا۔اس کے ساتھ ہی فلم ’قسمت‘نے باکس آفس کےسارے ریکارڈ توڑدیے۔ اس فلم نے کلکتہ کےایک سینماہال میں مسلسل تقریبا ً۴؍سال تک چلنے کا ریکارڈ بنایا۔۶۰ءکی دہائی میں انل نے فلم انڈسٹری سے تقریباً کنارہ کرلیا اورممبئی سے دہلی آ گئے۔ اس درمیان انہوں نےسوتیلا بھائی، چھوٹی چھوٹی باتیں جیسی فلموںکی موسیقی دی۔ فلم چھوٹی چھوٹی باتیں، باکس آفس پر کامیاب نہیں رہی تاہم اس کی موسیقی سامعین کو پسند آئی۔ اس کے ساتھ ہی فلم کو قومی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔۱۹۶۳ءمیںانل دہلی پرسار بھارتی میں بطور ڈائریکٹر کام کرنےلگےاور ۱۹۷۵ءتک کام کرتے رہے۔۱۹۸۶ءمیںموسیقی کے میدان میں ان کی قابل قدر تعاون کے پیش نظر انہیں سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔اپنی موسیقی سےتقریباً۳؍دہائی تک سامعین کے دل جیتنے والایہ عظیم موسیقار ۳۱؍مئی ۲۰۰۳ءکو اس دنیا کو الوداع کہہ گیا۔