Inquilab Logo Happiest Places to Work

آپریشن سیندور : ٹرمپ کے بعد اب چین نے بھی ثالثی کا دعویٰ کیا

Updated: January 01, 2026, 6:01 PM IST | Agency | New Delhi

مودی سرکار خاموش، کانگریس کا اظہارِ حیرت کہ بیجنگ تو اسلام آباد کا ساتھ دے رہاتھا، وزیراعظم سے وضاحت کا مطالبہ کیا۔

Jairam Ramesh. Picture: INN
جے رام رمیش۔ تصویر: آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بعد اب چین نے بھی آپریشن سیندور کے دوران ہندوستان اور پاکستان میں جنگ بندی کروانے کا  دعویٰ کیا ہے۔ واضح رہے کہ حکومت  ہند کا کہنا ہےکہ حملےپاکستان کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز)کی  درخواست  اور  یقین دہانی پر روکے گئے تھے ۔ مودی سرکار کئی بار کسی تیسرے   ملک کی ثالثی کی تردید کرچکی ہے مگر  ٹرمپ کے دعویٰ پر براہ راست کچھ نہیں کہاگیا۔ اب جبکہ چین نے بھی ثالثی کا دعویٰ کر  دیا ہے  اور حکومت   (خبر لکھے جانے تک) خاموش ہے تو اپوزیشن نے  اسے تشویشناک قرار دیا ہے۔ پارٹی نے  اس پر وزیراعظم  مودی  سے وضاحت کی مانگ کی ہے۔
  چین کے وزیر خارجہ  وانگ یی  نے یہ دعویٰ بیجنگ میں منعقدہ ’’بین الاقوامی صورتِ حال اور چین کے خارجہ تعلقات پر سمپوزیم‘‘ سے خطاب  میں  کیا۔   انہوں   نے کہاکہ ’’ دوسری جنگ عظیم کے بعد حالیہ  دنوں  میں  مقامی اور سرحد پار کے تنازعات  میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں  نے دعویٰ کیا کہ ’’  سلگتے ہوئے مسائل کو ٹھنڈا کرنے کی حکمت عملی کے تحت  چین نے شمالی میانمار کے مسئلے پر، ایران  کے جوہری تنازع پر ، ہند-پاک کشیدگی کے دوران ، فلسطین اور اسرائیل کے مسائل پر  نیزکمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان حالیہ  تنازع میں ثالثی کی۔‘‘ چین کا یہ دعویٰ اس لئے بھی حیران کن ہے کہ مئی میں پاکستان کے خلاف  ہندوستان کے آپریشن سیندور کے وقت چین  اس وقت توجہ  کا مرکز بنا تھا جب متعدد رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ بیجنگ نے   پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ 
اس پس منظر میں چین کا یہ دعویٰ حیرت انگیز ہے ۔اس پرمودی حکومت کی خاموشی نے کئی سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر  جے رام رمیش نے آپریشن سیندور  کے  اچانک روکے جانےکا حوالہ دیا۔ 
  انہوں نے  وزیر اعظم سے وضاحت کا مطالبہ کیا  اور کہا کہ ’’امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ طویل عرصے سے یہ دعویٰ کررہے ہیں  انہوں نے۱۰؍ مئی۲۰۲۵ء کو ذاتی مداخلت کے ذریعے آپریشن سیندور کو رکوا دیا تھا۔‘‘ جے رام رمیش  نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ یہ بات مختلف مواقع  پر ۷؍ ممالک میں کم از کم۶۵؍ بار   دہرا چکے ہیں مگر وزیر اعظم کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔‘‘ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’اب چین کے وزیر خارجہ کی جانب سے بھی ثالثی کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔‘‘ انہوں نے  یاد دلایا کہ’’۴؍جولائی کو ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف راہل سنگھ نے عوامی سطح پر کہا تھا کہ آپریشن سیندور کے دوران ہندوستان دراصل پاکستان کے ساتھ  چین کا بھی سامنا کر رہا تھا۔ ایسے میں، جب چین پاکستان کے ساتھ واضح طور پر ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چینی ثالثی کا دعویٰ نہایت تشویشناک  ہے۔‘‘کانگریس  لیڈر نے نشاندہی کی کہ  یہ دعوے نہ صرف اس بیانیے سے متصادم ہیں جو اب تک عوام کے سامنے رکھا گیا، بلکہ قومی سلامتی جیسے حساس معاملے کو غیر سنجیدہ بنانے کے مترادف بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے کو چین کے ساتھ ہندوستان کے موجودہ تعلقات کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ جے رام رمیش کے بقول اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ روابط کا آغاز ہوا ہے، مگر یہ عمل زیادہ تر چینی شرائط پر آگے بڑھ رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK