ڈیموکریٹک سینیٹرز ٹم کین، ایڈم شِف اور چک شومر کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں دلیل دی گئی تھی کہ جنگ میں جانے کے کسی بھی فیصلے پر بحث کرنے اور اس کی منظوری دینے کا اختیار کانگریس کے پاس ہونا چاہئے۔
EPAPER
Updated: March 05, 2026, 8:04 PM IST | Washington
ڈیموکریٹک سینیٹرز ٹم کین، ایڈم شِف اور چک شومر کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں دلیل دی گئی تھی کہ جنگ میں جانے کے کسی بھی فیصلے پر بحث کرنے اور اس کی منظوری دینے کا اختیار کانگریس کے پاس ہونا چاہئے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے زیر قیادت انتظامیہ کو کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی آپریشن روکنے پر مجبور کرنے کیلئے ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو سینیٹ نے مسترد کردیا ہے۔ بدھ کے دن پیش کئے گئے ’ایران وار پاورز ریزولیوشن‘ کی حمایت میں ۴۷ جبکہ مخالفت میں ۵۳ ووٹ ڈالے گئے جس کے بعد یہ بل سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اس قرارداد کا مقصد وہائٹ ہاؤس کو اس بات کا پابند کرنا تھا کہ وہ اس تنازع میں امریکی شمولیت ختم کرے جب تک کہ قانون ساز باضابطہ طور پر اسلامی ملک کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت نہ دے دیں۔
یہ تجویز ڈیموکریٹک سینیٹرز ٹم کین، ایڈم شِف اور چک شومر کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ انہوں نے دلیل دی کہ جنگ میں جانے کے کسی بھی فیصلے پر بحث کرنے اور اس کی منظوری دینے کا اختیار کانگریس کے پاس ہونا چاہئے۔ ووٹنگ سے قبل ٹم کین نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمیں بحث اور ووٹنگ کے بغیر جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ زیادہ تر ریپبلکن قانون سازوں نے اس اقدام کی مخالفت کی، جس کی وجہ سے سینیٹ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری امریکی فضائی حملوں کو محدود کرنے کی پہلی کوشش مؤثر طریقے سے ناکام ہو گئی۔ تاہم، ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے اس قرارداد کی حمایت کی۔ دوسری جانب، ڈیموکریٹک سینیٹر جان فیٹرمین نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔
یہ بھی پڑھئےب ایران امریکہ اسرائیل جنگ: حملے، ردعمل اور عالمی اثرات ، تازہ اَپ ڈیٹس
اس قرارداد میں ۱۹۷۳ء کے ’وار پاورز ایکٹ‘ کا حوالہ دیا گیا تھا، جو ویتنام جنگ کے بعد صدر کے کانگریس کی اجازت کے بغیر فوجی آپریشن شروع کرنے کے اختیار کو محدود کرنے کے لئے پاس کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت، کانگریس فوجی مداخلتوں پر ووٹنگ کا مطالبہ کرسکتی ہے اور غیر مجاز تنازعات کو ۶۰ دن تک محدود کر سکتی ہے۔
اگر یہ قرارداد سینیٹ اور ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز، جہاں اسی طرح کی ایک تجویز پیش کئے جانے کی توقع ہے، میں منظور ہو بھی جاتی ہے، تب بھی صدر ٹرمپ کے پاس اسے ویٹو (مسترد) کرنے کا اختیار رہے گا۔ صدارتی ویٹو کو کالعدم قرار دینے کے لئے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جسے موجودہ صورتحال میں ناممکن تصور کیا جا رہا ہے۔ ڈیموکریٹک قانون سازوں نے اعتراف کیا کہ اس اقدام کی کامیابی کے امکانات بہت
کم تھے، لیکن اس کوشش کا مقصد کانگریس کے ارکان کو ایران کے ساتھ تنازع میں امریکی شمولیت پر اپنے موقف کو عوامی سطح پر واضح کرنے پر مجبور کرنا تھا۔