ایران جنگ کے نتیجے میں جرمنی میں فی لیٹر ڈیزل کی قیمت ۲؍ اعشاریہ ۳۳؍ ڈالرسے تجاوز کرگئی، آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے سبب سپلائی متاثر ہوئی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: March 05, 2026, 10:21 PM IST | Brussels
ایران جنگ کے نتیجے میں جرمنی میں فی لیٹر ڈیزل کی قیمت ۲؍ اعشاریہ ۳۳؍ ڈالرسے تجاوز کرگئی، آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے سبب سپلائی متاثر ہوئی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد خام تیل سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کے باعث جرمنی میں ڈیزل کی قیمتیں ۲؍ اعشاریہ ۳۳؍ ڈالر فی لیٹر سے تجاوز کرگئی ہیں، جس سے توانائی کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔جرمن آٹوموبائل کلب( ADAC )کے اعداد و شمار کے مطابق، بدھ کو ملک بھر میں ڈیزل کی اوسط قیمت ۲؍ اعشاریہ ۰۵۴؍یورو فی لیٹر تک پہنچ گئی۔صبح کی ٹریڈنگ میں پیٹرول کی قیمتیں بھی بڑھ کر اوسطاًایک اعشاریہ ۹۹۵؍یورو فی لیٹر ہوگئیں۔۲۷؍ فروری کے مقابلے میں، ڈیزل کی قیمتوں میںصفر اعشاریہ ۳۱؍ یورو کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمتوں میںصفر اعشاریہ ۱۸؍ یورو کا اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مشرق وسطیٰ میں جنگ کے درمیان یوکرین کو نہیں بھولنا چاہئے: کایا کلاس
واضح رہے کہ جرمنی میں ایندھن کی قیمتیں عام طور پر صبح کے وقت شام کے مقابلے میں تقریباً۱۰؍ یورو سینٹ زیادہ ہوتی ہیں، لیکن حالیہ تیزی سے اضافے نے اس معمول کے روزمرہ کے اتار چڑھاؤ پر اثر ڈالا ہے۔قیمتوں میں یہ اضافہ بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث عالمی تیل کی منڈیوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز—جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے،میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے توانائی کی قیمتوں پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔علاوہ ازیں خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلی اور امریکی ڈالر کے اتار چڑھاؤ ایندھن کی قیمتوں کے بنیادی محرک ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد مسترد کر دی
تاہم مارکیٹ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ڈیزل کی سپلائی میں بھی جزوی رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ جرمن آٹوموبائل کلبنے یہ بھی خبردار کیا کہ ایندھن کی قیمتیں مختلف پیٹرول پمپوں پر نمایاں طور پر مختلف ہو سکتی ہیں اور صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ خاص طور پر مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے دوران قیمتوں کا احتیاط سے موازنہ کریں۔