Inquilab Logo Happiest Places to Work

گریش مہاجن کے متنازع بیان پر اپوزیشن برہم

Updated: June 11, 2026, 7:23 AM IST | Mumbai

ریاستی وزیر نے دہشت گردوں کے خلاف کئے گئے ’ آپریشن بلیو اسٹار‘ کے دن کو ’یوم سیاہ ‘ قرار دیا، اپوزیشن نے استعفے کا مطالبہ کیا

Girish Mahajan (Saffron Safa) had gone to Punjab to attend the Dum Dami Mint ceremony.
گریش مہاجن ( زعفرانی صافہ) دم دمی ٹکسال کی تقریب میں شریک ہونے پنجاب گئے تھے

مہاراشٹر کے وزیر برائے آبی وسائل گریش مہاجن نے ۱۹۸۴ء میں دہشت گردوں کے خلاف کئے گئے ’ آپریشن بلیو‘ اسٹار کو ’ یوم سیاہ ‘ قرار دیا اور اس کیلئے اس وقت کی کانگریس حکومت پر تنقید کی۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے اس آپریشن میں مارے گئے دہشت گردو ںکو ’شہید ‘ قرار دیا۔ اس پر ملک بھر میں ہنگامہ مچ گیا ہے۔ خاص کر مہاراشٹر میں اپوزیشن نے گریش مہاجن سے فوری طور پر استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ 
 یاد رہے کہ ۱۹۸۴ء میں یکم تا ۱۰؍ جون ہندوستانی فوج نے پنجاب کے شہر امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمپل میں جرنیل سنگھ بھنڈران والا اور اس کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی کی تھی جس میں بھنڈران والا سمیت کئی لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ حکومت ہند کیلئے یہ دہشت گردی کے خلاف کیا گیا تھا ایک آپریشن تھامگر سکھوں کی تنظیم’ دم دمی ٹکسال‘ ہر سال اس آپریشن کی برسی مناتی ہے۔ یاد رہے کہ جس وقت آپریشن بلیو اسٹار کیا گیا تھا اس وقت جرنیل سنگھ بھنڈران والا اس تنظیم کا سربراہ تھا اور اصل آپریشن بھنڈران والا کی سرگرمیوں کے خلاف ہی تھا۔ اس سال بی جے پی نےاس تقریب میں مہاراشٹر کے وزیر برائے آبی وسائل کو اپنے نمائندے کے طور پر بھیجا تھا۔ وہاں تقریر کرتے ہوئے مہا جن نے کہا ’’ آپریشن بلیو اسٹار ہمارے لئے ایک یوم سیاہ تھا جس میں ہمارے کئی بے گناہ بھائی اور بہن شہید ہوئے۔ یہ ہمارے مقدس مقام پر ایک فوجی حملہ تھا۔ اندرا جی نے زبردستی فوج کو وہاں بھیجا تھا۔ یہ احمد شاہ ابدالی کے حملے جیسا تھا۔‘‘ 
 مہاجن کے اس بیان کے بعد ملک بھر میں خاص کر مہاراشٹر کے اپوزیشن لیڈران نے ان پر سخت تنقید کی۔ شیوسینا(ادھو) کے سنجے رائوت نے کہا’’ اگر وزیر اعظم مودی اور وزیر اعلیٰ فرنویس میں ذرا بھی حب الوطنی ہے تو وہ فوراً گریش مہاجن کو کابینہ اور بی جے پی سے نکال باہر کریں۔‘‘ انہوں نے کہا’’ اگر آپ ملک کی سالمیت کیلئے کئے گئے آپریشن کو ’یوم سیاہ‘ کہتے ہیں، جس کیلئے اندرا گاندھی کو اپنی جان گنوانی پڑی تو پھر آپ دیش دروہی ( غدار وطن) ہیں۔‘‘ کانگریس کے وجے وڈیٹیوار نے کہا ’’ اگر اندراجی نے فوج بھیج کر آپریشن بلیو اسٹار نہیں کروایا ہوتا تو ملک دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہوتا۔ پھر ’اکھنڈ بھارت‘ کا تصور ہی باقی نہیں رہتا۔‘‘ کانگریس کے ترجمان سچن ساونت نے کہا’’ گریش مہاجن کو تاریخی واقعات اور حساس موضوعات کی سمجھ نہیں ہے۔ بی جے پی نے پنجاب الیکشن سے پہلے خالصتان کے معاملے کو اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ 
 کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نےبی جے پی اعلیٰ کمان سے سوال کیا ہے کہ کیا وہ مہاجن کے بیان سے متفق ہیں؟  انہوں نے کہا ’’ وزیر اعظم مودی اور وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ کیا وہ گریش مہاجن کے بیان سے اتفاق کرتے ہیں؟ اگر نہیں کرتے ہیں تو پھر عوامی سطح پر اس بیان کی مذمت کریں اور پورے ملک سے معافی مانگیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو پھر گریش مہاجن کے بیان کو بی جے پی کا بیان سمجھا جائے گا۔ ‘‘ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اس معاملے میں مہاجن کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس نے سکھوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں ان کی ہم مرتے دم تک مذمت کرتے رہیں گے۔ یہ سچ ہے کہ کانگریس کے دور میں سکھوں پر ظلم ہوا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK