Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ٹیکساس کا شہر کارپس کرسٹی شدید آبی بحران کی زد میں، ماہرین کا انتباہ

Updated: July 26, 2026, 10:05 PM IST | Texas

امریکہ کا ساحلی شہر کارپس کرسٹی شدید آبی بحران کی زد میں ہے، جہاں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ پانی سے تقریباً محروم ہونے والا پہلا بڑا امریکی شہر بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، مسلسل خشک سالی، بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی استعمال میں اضافہ صرف اس شہر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک سنگین انتباہ بن چکا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکہ کی ریاست ٹیکساس کا ساحلی شہر کارپس کرسٹی (Corpus Christi) شدید آبی بحران سے دوچار ہے اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر حالات میں فوری بہتری نہ آئی تو یہ جدید امریکی تاریخ کا پہلا بڑا شہر بن سکتا ہے جہاں پانی کے ذخائر تقریباً ختم ہو جائیں۔ تین لاکھ سے زائد آبادی والے اس شہر میں کئی برسوں سے جاری خشک سالی، بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور نئے آبی منصوبوں میں تاخیر نے پانی کی قلت کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ 

یہ لبھی پڑھئے: امریکہ-ایران تنازع کا نیا محاذ، حوثیوں کا سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ

رپورٹس کے مطابق علاقے میں قائم بڑی پیٹروکیمیکل اور پلاسٹک صنعتیں روزانہ بے حد زیادہ پانی استعمال کرتی ہیں، جس سے شہریوں کے لیے دستیاب پانی پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔ ایک پلاسٹک کیمیکل پلانٹ روزانہ ٹھنڈک کے لیے تقریباً اتنا ہی پانی استعمال کرتا ہے جتنا پورا شہر استعمال کرتا ہے۔ دوسری جانب سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے مجوزہ ڈی سیلینیشن (Desalination) پلانٹ مالی، قانونی اور ماحولیاتی وجوہات کے باعث تاخیر کا شکار ہے، جس سے بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ 
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، بارشوں میں کمی اور مسلسل خشک سالی نے شہر کے بڑے آبی ذخائر کو خطرناک حد تک کم کر دیا ہے۔ اگرچہ حالیہ بارشوں سے کچھ ریلیف ملا ہے، لیکن موجودہ ذخائر کو اب بھی ہنگامی صورتحال تصور کیا جا رہا ہے۔ حکام گہرے زیرِ زمین پانی کے کنویں کھودنے، صنعتی مقاصد کے لیے استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے اور سمندری پانی صاف کرنے جیسے متبادل حل پر کام کر رہے ہیں، تاہم ان منصوبوں کی تکمیل میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیل کے حملے میں حماس کی پولیس فورس کے افسر کی موت

انتظامیہ نے شہریوں پر باغات کو پانی دینے، گاڑیاں دھونے اور دیگر غیر ضروری استعمال پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر پانی کی فراہمی محدود اوقات تک کرنے جیسے ہنگامی اقدامات بھی زیرِ غور ہیں۔ ماہرین کے مطابق کارپس کرسٹی کا بحران صرف ایک امریکی شہر کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ اگر پانی کے وسائل کا مؤثر انتظام، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی حکمت عملی اور پائیدار ترقی کو ترجیح نہ دی گئی تو مستقبل میں دنیا کے کئی بڑے شہر بھی اسی قسم کے آبی بحران کا سامنا کر سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK