Inquilab Logo Happiest Places to Work

وانگ چک کی جبری اسپتال منتقلی پر اپوزیشن حملہ آور

Updated: July 19, 2026, 12:03 PM IST | New Delhi

جمہوریت کو کچلنے کی کوشش قرار دیا، ملک بھر میں  مظاہرے، کئی قدرآور لیڈر جنتر منتر پہنچے، کل پارلیمنٹ مارچ میں  غیر معمولی جم غفیر کی امید۔

Abhijeet Deepke cried several times on stage when Sonam Wangchuk was forcibly shifted to the hospital. Photo: INN
سونم وانگ چک کو جبراًاسپتال منتقل کئے جانے پر ابھیجیت دپکے اسٹیج پر کئی بار رو پڑے۔ تصویر: آئی این این

پرچہ لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں  کے خلاف بھوک ہڑتال کے ۲۱؍ ویں  سونم وانگ چک کو ان کی مرضی کے خلاف زبردستی اسپتال منتقل کئے جانے کے بعد وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف تحریک کو اچانک تقویت حاصل ہوگئی ہے۔ پورا اپوزیشن کاکروچ جنتا پارٹی کے ساتھ کھڑا نظر آرہا ہے جبکہ ملک بھر میں   اظہار یکجہتی کیلئے مظاہرے ہوئے۔ اس بیچ آر جے ڈی کے منوج جھا، بائیں  محاذ کی برندا کرات اور سماجی کارکن یوگیندر یادو جیسے قدآور لیڈروں نے جنتر منتر پہنچ کر ابھیجیت دپکے کی ہمت افزائی کی جو سونم وانگ چک کے ساتھ ہونےوالی بدسلوک کے خلاف اسٹیج پر پھوٹ پھوٹ کر روئے اور خود بھی بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ 
اپوزیشن کی کم و بیش تمام جماعتوں نے سخت ردعمل کا مظاہرہ کرتے وانگ چک کی جبری اسپتال منتقلی کو جمہوریت اور شہری آزادیوں پر حملہ قرار دیا۔ 
راہل گاندھی کا مودی سرکار پر حملہ
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پولیس کارروائی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کا بنیادی اصول ’جھوٹ اور تشدد‘ ہے، اسی لیے وہ عوامی مسائل کا حل نکالنے کے بجائے طاقت کا استعمال کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انہوں نے کہا کہ سونم وانگ چک عوامی مفاد ات کیلئے پرامن بھوک ہڑتال کر رہے تھے، لیکن حکومت نے انہیں زبردستی وہاں سے ہٹا کر غلط مثال قائم کی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ پیپر لیک، تعلیم کے بڑھتے اخراجات اور طلبہ کی خودکشیاں ملک کے مستقبل سے جڑے نہایت سنگین مسائل ہیں، جنہیں طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اپنی ’’چھاتروں کی گونج‘‘ مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے طلبہ اور ان کے حامی ان مسائل کو اٹھاتے رہیں گے اور کوئی طاقت انہیں اپنی آواز بلند کرنے سے نہیں روک سکتی۔ 
حکومت پارلیمنٹ مارچ سے ڈر گئی: سنجے سنگھ
عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ سونم وانگ چک کے اعلان کردہ پارلیمنٹ مارچ سے گھبرا کر حکومت نے انہیں پولیس کے ذریعے زبردستی احتجاجی مقام سے ہٹایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوامی احتجاج سے خوفزدہ ہے اور اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے کہا کہ سونم وانگ چک کو جبراً ہٹانا صرف ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ جمہوریت اور آئین کو کچلنے کے مترادف ہے۔ آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہندوستان میں جمہوری اقدار کو کس بے دردی سے پامال کیا جارہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK