پیگاسس جاسوسی معاملے میں اپوزیشن سراپا احتجاج، جانچ کا مطالبہ

Updated: July 21, 2021, 1:58 AM IST | New Delhi

لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ہی ایوانوں میں حکومت پر سوالوںکی بوچھار، جم کر ہنگامہ آرائی۔ لوک سبھا۲۲؍ جولائی تک کیلئے ملتوی۔ راجیہ سبھا کی کارروائی بھی شور شرابے سے متاثر۔ کانگریس نے معاملے کی مکمل جانچ کیلئے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔ شیوسینا اراکین کی جانچ کا مطالبہ لے کر اسپیکر سے ملاقات، دوسروں کی پرائیویسی پر حملہ قرار دیا

Trinamool Congress members protest outside parliament (Photo: Agency)
پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کے اراکین ( تصویر: ایجنسی)

اسرائیلی کمپنی این ایس او کے پیگاسس سافٹ ویئر کے ذریعہ اہم شخصیات کی جاسوسی کروائے جانے کے انکشاف کا معاملہ منگل کو بھی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پرزورطریقہ سے اٹھایا گیا ۔ صحافیوں ، کابینی وزراء ، ججوں ،قومی سلامتی کے افسران ، سماجی کارکنان ، اپوزیشن کے لیڈران کی پیگاسس کے ذریعہ جاسوسی کروائے جانے کا انکشاف ہونے کے بعد  اپوزیشن کی جانب سے علم احتجاج بلند کیا گیا جس کے سبب لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کاروائی کئی مرتبہ ملتوی ہوئی ۔ لوک سبھا کی کاروائی ہنگامہ کے سبب بالآخر ۲۲؍ جولائی تک کیلئے ملتوی کر دی گئی جبکہ کئی مرتبہ کارروائی ملتوی ہونے کے بعد راجیہ سبھا کی کاروائی دوپہر بعد شروع ہوئی جس میں کورونا کے مسئلہ پر مختصر وقفہ کی بحث کروائی گئی ۔
  واضح رہے کہ اسرائیلی کمپنی کے پیگاسس کے ذریعہ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور ان کے پانچ اسٹاف کی بھی جاسوسی کروائی گئی ہے جس کے سبب کانگریس زیادہ برہم ہے ۔ان کے علاوہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے سیاسی مشیر  پرشانت کشور ،سابق چیف جسٹس ، سابق چیف الیکشن کمشنر ،  خودمودی حکومت کے  ۳؍ کابینی وزراء ، ۴۰؍ کے قریب ملک کے صحافیوں ، کئی سماجی کارکنان وغیرہ کی جاسوسی کروائے جانے کا انکشاف کیا گیا ہے ۔یہ بھی غور طلب ہے کہ اسرائیلی کمپنی کا یہ سافٹ ویئر صرف ہندوستان کو نہیں بلکہ دنیا کے کئی ملکوں کو فروخت کیاگیا ہے چنانچہ اب فرانس نے صحافیوں کی ہوئی جاسوسی کے معاملہ کی جانچ کروانے کا اعلان کیا ہے ۔
 ہندوستان میں بھی اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس کی جانچ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی ) سے کروائی جائے ۔ در اصل این ایس او کا کہنا ہے کہ ہم یہ سافٹ ویئر صرف حکومتوں کو فروخت کرتے ہیں تاکہ وہ ملک میں دہشت گردانہ اور مجرمانہ سرگرمیوں پر نظر رکھ سکیں۔حکومت ہند کا کہنا ہے کہ وہ اس سافٹ ویئر کا استعمال نہیں کر رہی ہے جبکہ انکشا ف میں یہ پایا گیا ہے کہ ہندوستان میں بڑے پیمانے پر اس سافٹ ویئر کے ذریعہ جاسوسی ہو رہی ہے ۔ کانگریس کے لیڈر شکتی سنگھ گوہل نے پر یس کانفرنس سے خطاب کررتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ کی جانچ جے پی سی ( جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی )سے کروائی جائے۔ انھوں نے کہا کہ’’ جو حقائق سامنے آئے ہیں ان سے کئی بڑے سوال کھڑے ہو رہے ہیں ۔‘‘گوہل  نے کہا کہ’’ آخر حکومت اس بات کا جواب کیوں نہیں دے رہی ہے کہ کیا اس نے اسرائیل سے سافٹ ویئر خریدا تھا ؟اگر نہیں تو پھر غلط طریقہ سے ہندوستانی شہریوں کے فون کو ہیک کیا گیا ہے ۔حکومت اس معاملہ میں جواب دہ ہے ۔‘‘
 شیو سینا کے اراکین  پارلیمنٹ نے بھی جے پی سی سے جانچ کروائے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ شیو سینا کے اراکین پارلیمنٹ نے اسپیکر سے ملاقات کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ آئین اور پرائیویسی اور آزادی کے حقوق پر حملہ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ بہت ہی حساس ہے ۔  کانگریس کے رکن پارلیمان ششی تھرور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’’ اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ ہندوستان میں بھی موبائل فون  پیگاسس کے ذریعہ ٹیپ ہوئے ۔کمپنی یہ پروڈکٹ حکومتوں کو ہی فروخت کرتی ہے ایسی صورت میں سوال ہے کہ کونسی حکومت ؟ اگر حکومت ہند کہتی ہے کہ انھوں نے نہیں کیا تو کس حکومت نے کیا ؟‘‘انھوں نے کہا کہ’’ یہ قومی سلامتی سے متعلق ایک بہت ہی حساس مسئلہ ہے ۔ حکومت ہند کو اس کا جواب دینا چاہئے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر اس کے برعکس پتہ چلتا ہے تو حکومت ہند کو جواب دینا چاہئے کیونکہ قانون حکومت صرف قومی سلامتی اور دہشت گردی کے مسئلہ پر فون ٹیپنگ کی اجازت دیتی ہے ۔یہ غیر قانونی ہے ۔‘‘ دیگر پارٹیوں کے لیڈران نے بھی اس مسئلہ کو اٹھایا ہے اور اطلاع یہ ہے کہ فی الحال یہ مسئلہ ختم ہونے والا نہیں ہے بلکہ اپوزیشن کی جانب سے اس مسئلہ کو اٹھایا جائے گا اور پارلیمنٹ میں بحث کیلئے مطالبہ کیا جائے گا ۔  
   واضح رہے کہ اسرائیل وہ واحد ملک ہے جو پیگاسس نامی سافٹ ویئر رکھتا ہے  جس کے ذریعے کسی کا بھی فون یا کمپیوٹر ہیک کیا جا سکتا ہے اور اس کی گفتگو ریکارڈ کی جا سکتی ہے ۔ بظاہر اس نے یہ دہشت گردوں پر نظر رکھنے کیلئے ایجاد کیا ہے اور اسی مقصد سے مختلف ممالک کی حکومتوں کو فراہم کرتا ہے۔  امریکی  اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت ہند نے اسے حاصل کرکے اپنے ملک کی کئی اہم شخصیات کی جاسوسی کروائی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK