ایک سیٹ کو چھوڑکر بقیہ سبھی سیٹیں مہایوتی کو ملنے پر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران نے تشویش ظاہر کی اور سوالات قائم کئے ہیں۔
راج ٹھاکرے، سنجے راؤت اور کپل سبل نے ۶۹؍سیٹوں کے بلامقابلہ نتائج پر سوالات قائم کئے۔ تصویر: آئی این این
۲۹؍میونسپل کارپوریشنوں کی ۶۹؍ سیٹوں پر بناء انتخابات کے ہی امیدواروں کے دست بردار ہوجانے سے برسراقتدار اتحاد کے۶۸؍امیدوار بلامقابلہ منتخب کرلئے گئے ہیں۔ اس معاملے پر اپوزیشن نے مہایوتی پر شدید تنقید کی ہے۔
ایم این ایس سربراہ نے کیا کہا؟
ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے نے کہا کہ ’’جب بلامقابلہ انتخابی نتائج کے معاملات مغربی بنگال میں ہوتے ہیں تو بی جے پی فوراً عدالت جاتی ہے، پھر مہاراشٹر میں اسے یہ سب کیسے چل رہا ہے؟‘‘شیوسینا (یوبی ٹی ) ،ایم این ایس اور این سی پی (ایس پی ) کے مشترکہ انتخابی منشور کے اجراء کے موقع پریس کانفرنس میں راج ٹھاکرے نے بی جے پی پر زبردست تنقید کی۔ راج ٹھاکرے نے کہا کہ جب مغربی بنگال میں بلامقابلہ انتخابات ہو رہے تھے تو بی جے پی عدالت چلی گئی تھی، لیکن اب وہی بی جے پی مہاراشٹر میں بلامقابلہ انتخابات کروا رہی ہے۔ اب انہیں مہاراشٹر میں یہ کیسےقبول ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کو لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ اقتدار میں رہے گی گے تو یہ غلط فہمی ہے۔راج ٹھاکرے نے انتباہ دیا کہ آج بی جے پی غلط روایت قائم کر رہی ہے۔ کل جب وہ اقتدار سے جائیں گے اور اُس وقت کے حکمراں دوگنی طاقت سے یہی طریقہ اپنائیں گے تو پھر انہیں شکایت کرنے کا حق نہیں رہے گا۔
شیوسینا یوبی ٹی نے بھی مخالفت کی
شیوسینا (یوبی ٹی ) لیڈر سنجے راوت نے ایک بار پھر الزام دہرایا کہ بلدیاتی کارپوریشن انتخابات میں اپوزیشن امیدواروں کو پیسے اور دھمکیوں کے ذریعے دستبردار ہونے پر مجبور کیا گیا۔ ان کے مطابق بڑی میونسپل کارپوریشنوں میں۵۰؍ کروڑ روپے تک کی رقم استعمال کی گئی، جبکہ چھوٹی کارپوریشنوں میں۵؍کروڑ روپے اور معمولی میونسپل کونسلوں میں۵۰؍ لاکھ روپے تک کے مبینہ استعمال کے ذریعے امیدواروں کو دباؤ میں لیا گیا۔ انہوں نے اس معاملے میں الیکشن کمیشن کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہا ہے اور اس نے اپنی غیر جانبداری کو مجروح کیا ہے۔راؤت نے مزید کہا کہ کسی بھی انتخاب کو بلا مقابلہ نہیں ہونے دینا چاہئے، کیونکہ ووٹنگ مشین میں نوٹا کا اختیار موجود ہے، جو انتخاب منسوخ ہونے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
کیا الیکشن کمیشن کو اس بارے میں تشویش ہے؟کپل سبّل
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کپل سبل نےاس معاملے میں الیکشن کمیشن سے سخت سوال کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ووٹنگ سے پہلے ہی۶۷؍ نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ جیت گئے ہیں، جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔ان میں زیادہ تر امیدوار بی جے پی اور شندے شیو سینا کے ہیں۔یہ صورتحال دیکھ کر لگتا ہے کہ ہماری انتخابی مشینری شدید بحران سے گزر رہی ہے۔ انتخابی نتائج پر پیسے اور سیاسی دباؤ کا اثر بہت واضح دکھائی دے رہا ہے، اور یہی نتائج کی سمت طے کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن واقعی اس مسئلے پر فکر مند ہے یا نہیں؟