Inquilab Logo Happiest Places to Work

وزیر اعظم نریندر مودی کی یقین دہانی کے بعد سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کی

Updated: July 24, 2026, 9:16 AM IST | New Delhi

سماجی کارکن سونم وانگچک نے حکومت کی جانب سے مذاکرات اور امتحانی نظام میں اصلاحات کی یقین دہانی کے بعد اپنی ۲۶؍ روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی، تاہم جنتر منتر پر جاری سی جے پی تحریک ختم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ رات اور آج صبح ہونے والی پیش رفت میں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے واضح کیا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔ دپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ پردھان کو برطرف کریں، بصورت دیگر عوامی مطالبات وزیر اعظم کے استعفے تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ادھر حکومت اور سی جے پی کے درمیان آج غیر جانبدار مقام پر مذاکرات ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ملک بھر میں مبینہ نیٹ ۲۰۲۶ء پیپر لیک کے خلاف جاری احتجاجی تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اگرچہ معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے حکومت کی یقین دہانیوں کے بعد اپنی ۲۶؍ روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے، لیکن کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے واضح کر دیا ہے کہ ان کی تحریک اپنے بنیادی مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گی۔ گزشتہ رات دیر گئے اور آج صبح سامنے آنے والی پیش رفت میں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے کہا کہ وانگچک کا بھوک ہڑتال ختم کرنا ایک قابلِ احترام فیصلہ ہے، جس کا پارٹی خیر مقدم کرتی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ احتجاج ختم ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق تحریک کا اصل مطالبہ اب بھی وہی ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر استعفیٰ دیں اور امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات نافذ کی جائیں۔

ابھیجیت دپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ اعلان، جس میں پیپر لیک مقدمات کیلئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے اور سخت قانون لانے کی بات کی گئی، کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف اعلانات سے عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی جوابدہی چاہتی ہے تو سب سے پہلے وزیر تعلیم کی سیاسی ذمہ داری طے کی جائے۔ دپکے نے خبردار کیا کہ اگر وزیر اعظم نے دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ نہیں لیا تو عوامی غصہ مزید بڑھے گا اور مطالبات وزیر اعظم کے استعفے تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ 

ادھر سونم وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ حکومت کی یقین دہانیوں، مختلف لیڈروں کی اپیلوں اور ملک میں ممکنہ کشیدگی یا تشدد کے خدشات کے پیش نظر کیا ہے۔ انہوں نے تمام مظاہرین سے اپیل کی کہ احتجاج ہمیشہ پرامن رکھا جائے اور کسی بھی قسم کے تشدد سے گریز کیا جائے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی وانگچک کی صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ڈاکٹروں کے مشوروں پر عمل کرنے کی تلقین کی۔

دوسری جانب، آج کی سب سے اہم سیاسی پیش رفت یہ ہے کہ سی جے پی کے نمائندہ وفد اور مرکزی حکومت کے وزراء کے درمیان آج غیر جانبدار مقام پر مذاکرات ہونے کی توقع ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے اس مطالبے کو قبول کر لیا ہے کہ بات چیت جنتر منتر کے بجائے کسی غیر جانبدار مقام پر ہو تاکہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں۔ تاہم سی جے پی نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران بھی احتجاج جاری رہے گا اور جب تک عملی فیصلے سامنے نہیں آتے، دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔ جنتر منتر پر گزشتہ رات بھی طلبہ، نوجوانوں اور مختلف ریاستوں سے آنے والے مظاہرین کی موجودگی برقرار رہی۔ سی جے پی نے اعلان کیا ہے کہ ملک گیر احتجاجی پروگرام بھی حسبِ منصوبہ جاری رہیں گے۔ اسی دوران ابھیجیت دپکے نے سوشل میڈیا پر اپنی آئی وی ڈرپ لگواتے ہوئے تصویر شیئر کی، جس کے ساتھ انہوں نے صرف دو الفاظ ’’Charging Up‘‘ لکھے۔ پارٹی کے حامیوں نے اسے احتجاج میں دوبارہ بھرپور انداز میں واپسی کا اشارہ قرار دیا، جبکہ یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: لاکھوں طلبہ سڑکوں پر، لاکھوں سوشل میڈیا پر؛ ریلز، شارٹس، میمز سے بی جے پی حکومت گھیرے میں

حکومت کی جانب سے ایک طرف فاسٹ ٹریک عدالتوں، سخت قوانین اور انتظامی تبدیلیوں کا اعلان کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف طلبہ تنظیموں اور سی جے پی کا مؤقف ہے کہ صرف قانونی اصلاحات کافی نہیں بلکہ سیاسی جوابدہی بھی ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لاکھوں امیدواروں کے مستقبل سے جڑے معاملے میں عوام صرف وعدے نہیں بلکہ عملی کارروائی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب تمام نظریں آج ہونے والے ممکنہ مذاکرات پر مرکوز ہیں۔ اگر حکومت اور مظاہرین کے درمیان کسی فارمولے پر اتفاق نہیں ہوتا تو آنے والے دنوں میں یہ تحریک مزید وسیع ہو سکتی ہے، جبکہ سی جے پی پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اس کا احتجاج دھرمیندر پردھان کے استعفے تک جاری رہے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK