پارلیمنٹ میں اِس ہفتے بھی حزب اختلاف طلبہ پر پولیس کے مظالم کامعاملہ شدت سے اٹھائے گا، وزیر داخلہ کی جوابدہی پر زور، چڑھاوا چوری پر بھی سرکار کو گھیرا جائیگا۔
دہلی میں طلبہ پر ظالمانہ لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کی فائرنگ نیز رام مندر سے چڑھاوا چوری کے معاملہ میں اپوزیشن مودی سرکار کو بخشنے کے موڈ میں نہیں ہے۔آج (۳؍اگست کو) مانسون اجلاس کے تیسرے ہفتے میں بھی حزب اختلاف نے امیت شاہ کی جوابدہی اور رام مندر کے چڑھاوا چوری کا معاملہ پوری شدت سے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری طرف مودی حکومت رواں اجلاس میں غیر ملکی چندہ سے متعلق قانون (ایف سی آر اے) میں ترمیم سمیت ۶؍ بل پاس کروانے کی تیاری میں ہے۔
ایک معاملہ ایوان میں دوسرا باہر اٹھایا جائےگا
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ میں امیت شاہ کے خلاف اور چڑھاوا چوری کے معاملے میں اپوزیشن کے قائدین نے احتجاج کی جو حکمت عملی تیار کی ہے اس کے تحت ایک معاملہ ایوان کے اندر اٹھایا جائےگا اور دوسرے پر پارلیمنٹ کے احاطہ میں احتجاج کیا جائےگا۔حزب اختلاف کی پارٹیاں حکومت کو طلبہ پر لاٹھی چارج اور رام مندر سے چڑھاوا چوری کے معاملے میں حکومت کوسنبھلنے نہیں دینا چاہتی۔ امیت شاہ سے جوابدہی کے مطالبہ کے ساتھ ہی یہ معاملہ دھیرے دھیرے ان کے استعفیٰ کی مانگ کی طرف بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ جمعہ کو راجیہ سبھا میں کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے نے طلبہ اور نوجوانوں پر لاٹھی چارج کے معاملے میں امیت شاہ کو غیرت دلاتے ہوئے کہا کہ اگر ذرہ بھی شرم بچی ہوتو خود ہی استعفیٰ دیدنا چاہئے۔
امیت شاہ کی پارلیمنٹ سے غیر حاضری
دہلی پولیس ، سی آر پی ایف اور آر اے ایف مرکزی وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں جنہوں نے طلبہ پر لاٹھیاں برسائیں اور پیلٹ گن چلائی۔اپوزیشن کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اس کا حکم کس نے دیا۔ راہل گاندھی کے مطابق اگر حکم امیت شاہ نے دیا ہے تو وہ مجرم ہیں اور اگر انہیں خبر ہی نہیں تھی تو وہ نااہل ہیں اور دونوں صورتوں میں انہیں مستعفی ہوجانا چاہئے۔ دوسری طرف امیت شاہ پورے ہفتے پارلیمنٹ سے غیر حاضررہے۔ان کی وزارت (وزارت داخلہ ) سے متعلق بلوں، جن میں وندے ماترم بل اور پیدائش و اموات کے تاخیر سے اندراج سے متعلق بل شامل ہے، پر بحث کے وقت بھی وہ ایوان میں نہیں آئے۔ امیت شاہ کی اس غیر حاضری کو اپوزیشن نے جوابدہی سے فرار کی کوشش قرار دیا ہے جبکہ حکومت نے کوئی وجہ بیان نہیں کی ہے۔
آئیسا کا بھی امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ
نئی دہلی(ایجنسی): آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا نے ۲۰؍ جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے موقع پر طلبہ اور نوجوانوں پر پولیس کارروائی پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک ابوسیع مہم کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کا مقصد پولیس کارروائی پر مرکزی حکومت سے جواب دہی طلب کرنا ہے۔
لاٹھی چارج پرسپریم کورٹ میں شنوائی
سپریم کورٹ آج (پیر۳؍ اگست کو) نیٹ پیپر لیک احتجاج کے دوران پولیس کی زیادتیوں سے متعلق اپیلوں پر سماعت کرے گا ۔ چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ اس سے قبل اشارہ دے چکی ہے کہ وہ پولیس کی زیادتیوں، مظاہرین کے زخمی ہونے اور پولیس اہلکاروں پر حملوں کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے کسی سابق جج کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی ) تشکیل دے سکتی ہے۔ ٹیم یہ بھی طے کرے گی کہ پولیس کے خلاف تشدد طلبہ نے کیا یا ’’شرپسند عناصر‘‘ نے۔
حکومت کی ۶؍ بل منظور کروانے کی تیاری
اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود حکومت لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے مانسون اجلاس میں کم از کم ۶؍ بل پاس کروانے کامنصوبہ رکھتی ہے۔ پیر کو وہ فارین کنٹربیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (ایف سی آر اے) میں ترمیم سے متعلق متنازع بل پیش کرسکتی ہے۔ اس بل کے ذریعہ حکومت غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنےوالے اداروں پر اپنا کنٹرول بڑھانا چاہتی ہے جس کی وجہ سے اپوزیشن اس کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کا بل اور ایم ایس ایم ای بل راجیہ سبھا میں پیش کیاجائےگا۔