Updated: July 21, 2026, 9:32 AM IST
| New Delhi
راہل گاندھی نے وزیراعظم مودی کو ’سب سے زیادہ نوجوان مخالف‘ قرار دیا، کھرگے نے سرکار پر طلبہ کی آواز دبانے کاالزام عائد کیا، ممتا بنرجی کا سوال، یہ کیسی سرکار ہے جو اپنے ہی طلبہ سے خوفزدہ ہے؟ اکھلیش یاد ونے کہا: یہ ’ترقی یافتہ بھارت‘ کے تصور پر سوالیہ نشان ہے۔
مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کو لے کر پیر کو منعقدہ ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران احتجاجی طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی حکومت کے رویے پرشدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے طلبہ پر پولیس کی ظالمانہ کارروائی کو غلط قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت طلبہ کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں اور طلبہ پر لاٹھی چارج کرا رہی ہے۔ اگر حکومت امتحانات منعقد کرانے کی اہل نہیں ہے تو اسے اقتدار چھوڑ دینا چاہئے۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر نوجوانوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ’سب سے زیادہ نوجوان مخالف‘ وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وزیر اعظم اتنے نوجوان مخالف ہیں کہ وہ ناکام وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے بھی استعفیٰ نہیں لے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے نوجوانوں کے سوالات جائز ہیں اور حکومت کو ان کا جواب دینا چاہئے۔
کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے طلبہ کے ساتھ یکجہتی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنے بچے ہیں جن کے ساتھ حکومت کا رویہ افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک کے خلاف طلبہ جنتر منتر پر دھرنا دے رہے ہیں، لیکن ان پر لاٹھی چارج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نےکہا کہ کانگریس نئی تعلیمی پالیسی پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہے کیونکہ اس میں سنگین خامیاں ہیں، مگر حکومت اس پر بحث کیلئے تیار نہیں۔ اس کے بجائے احتجاج کرنے والے طلبہ پر آنسو گیس کے گولے داغے جا رہے ہیں اور ان کے ساتھ مارپیٹ کی جا رہی ہے۔
تمل ناڈو کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اورڈی ایم کے کے لیڈر اودے ندھی اسٹالن نے کہا کہ وہ نیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف پرامن ریلی میں شریک کا’سی جے پی‘ کے نوجوانوں کے خلاف پولیس کی سختی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی سے سامنے آنے والے مناظر انتہائی تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے خدشات دور کرنے کے بجائے حکومت، پولیس طاقت کا استعمال کر رہی ہے، جو جمہوریت میں قابل قبول نہیں۔
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے بھی پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہلی میں طلبہ اور نوجوانوں پر پولیس تشدد کی سخت مذمت کرتی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر یہ کیسی حکومت ہے جو اپنے ہی طلبہ سے خوفزدہ ہے؟ اور یہ کیسا جمہوری نظام ہے جو سوالات کا جواب بات چیت کے بجائے لاٹھی اور آنسو گیس سے دیتا ہے؟انہوں نے کہا کہ یہ ملک طلبہ، کسانوں، خواتین، مزدوروں اور ہر شہری کا ہے۔ اختلافِ رائے جرم نہیں اور طاقت کا استعمال اچھی حکمرانی نہیں ۔
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ ان کی جماعت طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اتر پردیش میں برسوں سے امتحانی نظام متاثر رہا ہے اور اب بھی مسلسل پیپر لیک کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ جیسے باوقار امتحان کا پرچہ لیک ہونا انتہائی شرمناک ہے اور یہ’ترقی یافتہ بھارت‘ کے تصور پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ نے احتجاجی طلبہ سے ملاقات کی ہے اور ان کی حالت دیکھی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طلبہ کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔اس دوران سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمان ڈمپل یادو کو ایک نئے اوتار میں دیکھا گیا۔ دھرمیندر یادو، اقرا حسن ، مولانا محب اللہ ندوی ، پریہ سروج اور اپنے دیگر اراکین پارلیمان کے ساتھ انہوں نے زخمی طلبہ سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ نہایت مشفقانہ برتاؤ کیا۔ انہیں ایک زخمی طالب علم کےساتھ اس کی والدہ کی طرح پیش آتے ہوئے دیکھا گیا۔