• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس: اسکارف پر پابندی کی تجویز کی مخالفت میں خواتین کی اسکارف یکجہتی مہم کا آغاز

Updated: September 05, 2026, 10:08 PM IST | Paris

مہم میں شامل خواتین شرکاء نے مسلم خواتین کی حمایت میں پیغامات کے ساتھ سر پر اسکارف باندھے ہوئے اپنی تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ ان تصاویر کے کیپشنز میں حجاب پہننے والی خواتین کیلئے حمایت کا اظہار کیا گیا ہے اور یہ عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر ایسا کوئی قانون منظور ہوا تو وہ خود بھی اسکارف پہنیں گی۔ نیشنل ریلی کے پیش کردہ منصوبہ پر بڑھتی تنقید کے درمیان یہ مہم زور پکڑتی جا رہی ہے۔

Photo: X
اسکارف یکجہتی مہم کے تحت ہزاروں فرانسیسی خواتین نے اسکارف پہنے ہوئے اپنے ویڈیوز اپلوڈ کئے ہیں۔ تصویر: ایکس

فرانس میں عوامی مقامات پر اسکارف (حجاب) پر پابندی کی تجویز، انتہائی دائیں بازو کے ذریعے پیش کی گئی ہے، کی مخالفت میں فرانسیسی خواتین نے ایک آن لائن یکجہتی مہم شروع کی ہے، جس میں نیشنل ریلی پارٹی کے انتخابی وعدے کے خلاف احتجاج کے طور پر سر ڈھانپ کر اپنی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کئے جا رہے ہیں۔

مہم میں شامل خواتین شرکاء نے مسلم خواتین کی حمایت میں پیغامات کے ساتھ سر پر اسکارف باندھے ہوئے اپنی تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ ان تصاویر کے کیپشنز میں حجاب پہننے والی خواتین کیلئے حمایت کا اظہار کیا گیا ہے اور یہ عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر ایسا کوئی قانون منظور ہوا تو وہ خود بھی اسکارف پہنیں گی۔ یہ مہم نیشنل ریلی کے پیش کردہ منصوبہ پر بڑھتی تنقید کے درمیان زور پکڑتی جا رہی ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ اگر وہ فرانس کے ۲۰۲۷ء کے صدارتی انتخابات میں فتح حاصل کرتی ہے تو عوامی مقامات پر اسکارف پر پابندی کیلئے ریفرنڈم کرایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس: مسلم کونسل کی اسکارف پہننے والی خواتین کے خلاف سیاسی بیان بازی کی مذمت

انتہائی دائیں بازو کے وعدے پر شدید ردِعمل

اس تحریک کا آغاز نیشنل ریلی کے قانون ساز ژاں فلپ تانگی کے تبصروں کے بعد ہوا۔ انہوں نے ٹیلی ویژن پر کہا تھا کہ نیشنل ریلی حکومت کے تحت اسکارف پہننے والی خواتین کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان تبصروں کے بعد ان پر شدید تنقیدیں کی گئیں جس نے ملک بھر میں عوامی مقامات پر اسکارف پر پابندی عائد کرنے کے پارٹی کے دیرینہ وعدے کو مزید نمایاں کر دیا۔ نیشنل ریلی کے حکام نے کہا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو اس اقدام کو قومی ریفرنڈم کیلئے پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ فرانس کے صدارتی انتخابات دو مرحلوں میں طے ہیں: پہلا مرحلہ ۱۸ اپریل ۲۰۲۷ء کو ہوگا جس کے بعد ۲ مئی کو رن آف مرحلہ ہوگا۔ موجودہ صدر ایمانوئل میکرون آئینی مدت کی حد کی وجہ سے مسلسل تیسری مدت کیلئے انتخاب نہیں لڑ سکتے، جس سے ووٹنگ سے قبل یہ مقابلہ مکمل طور پر کھلا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ: ملبے میں بچوں کیلئےعارضی سنیما، کارٹون دیکھ کر چہروں پر مسکراہٹ لوٹی

موجودہ قانونی ڈھانچہ

فرانس میں پہلے ہی سرکاری ملازمین پر ڈیوٹی کے دوران نمایاں مذہبی علامتیں پہننے پر پابندی ہے۔ ۲۰۰۴ء سے، ملک کے سیکولرازم کے قوانین کے تحت، سرکاری پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے طلبہ پر بھی نمایاں مذہبی علامتیں، بشمول اسکارف، پہننے پر پابندی عائد ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK