Inquilab Logo Happiest Places to Work

خواتین ریزرویشن بل پر اپوزیشن کا شدیداعتراض ،ایوان میں گرما گرم بحث

Updated: April 16, 2026, 11:44 PM IST | New Delhi

ناری شکتی وندن بل کے ساتھ ہی حد بندی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوںکے قوانین میں ترمیم کا بل بھی پیش کردیا، اپوزیشن کا سخت اعتراض اور احتجاج ، حکومت پر ایوان کو قبضے میں لینے کا الزام

Prime Minister Modi during his speech in Parliament. (PTI)
وزیر اعظم مودی پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران ۔(پی ٹی آئی)

مرکزی حکومت نے جمعرات کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل(ناری شکتی  وندن  ادھینیم) پیش کیاجس میںخواتین کیلئے لوک سبھا ،ریاستی اسمبلیوں اور دہلی اسمبلی میں۳۳؍ فیصد ریزرویشن کا التزام ہے۔اس بل کو پیش کرنے کیلئے جمعرات سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس منعقد کیاگیا لیکن اس کے ساتھ ایوان میںانتخابی حلقوں کی حدبندی کا بھی بل بھی پیش کردیاگیاجبکہ ابھی ملک بھر میں مردم شماری اور اس کے نتائج آناباقی ہیں۔ مرکزی وزیر برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے مجوزہ آئین (۱۳۱؍ ویں ترمیم) بل،۲۰۲۶ء پیش کر کے بحث کا آغاز کیا۔ انہوں نے حد بندی بل۲۰۲۶ء بھی پیش کیا جس سے قانون ساز اداروں میں خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن نافذ کرنے پر بحث کا اسٹیج تیار ہو گیا۔ اس کے علاوہ کارروائی کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین (ترمیم) بل۲۰۲۶ء پیش کیا۔
 پارلیمنٹ میں ان بلوں کے پیش کیے جانے پر اپوزیشن نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے تینوں بلوں کی مخالفت اور ایوان میں پارٹی کے اعتراضات کو باضابطہ طور پر درج کرایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’حکومت ایوان کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں کر لینا چاہتی ہے۔‘‘ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے واضح کیا ہے کہ بل ابھی پیش کیے گئے ہیں اور ان پر بحث ابھی باقی ہے۔ جب وینو گوپال دیر تک بولتے رہے تو لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ بحث کے دوران مناسب وقت دیا جائے گا۔سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے بھی ان بلوں پر اعتراض کرتے ہوئے ریزرویشن کے ڈھانچے سے مسلم خواتین کو باہر رکھے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ رجیجونے فوری طور پر اس تبصرے کی تردید کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ ان کی پارٹی اصولی طور پر خواتین کے ریزرویشن کی حمایت کرتی ہے لیکن انہوں نے مردم شماری کرانے میں ہونے والی تاخیر پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہ مردم شماری میں تاخیر کر رہے ہیں کیونکہ جب یہ ہو گی، تو ہم ذات پات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ کریں گے اور وہ ایسا نہیں چاہتے ہیں۔‘‘
 اکھلیش یادو کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ ’’ملک بھر میں مردم شماری کا عمل شروع ہو چکا ہے اور اس کے بعد ہم ذات پات پر مبنی مردم شماری بھی کریں گے۔ فی الحال، گھروں کی فہرست بنانے کا کم چل رہا ہے، گھر کسی خاص ذات کے نہیں ہوتے۔ اگر سماجوادی پارٹی کی بات مان لی گئی تو وہ گھروں کو بھی ذات کا درجہ دے دیں گے۔‘‘ وزیر داخلہ نے دھرمیند یادو کے تبصروں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں غیر آئینی قرار دیا اور زور دے کر کہا کہ آئین ریزرویشن کے معاملوں میں مذہبی بنیاد پر تفریق کی اجازت نہیں دیتا ۔دوسری جانب اکھلیش یادو نے مسلم طبقہ کے بارے میں امیت شاہ کے تبصروں کو غیر جمہوری قرار دیا۔ امیت شاہ نے  اس پر جواب دیا کہا کہ ’’ہم سماجوادی پارٹی کو اپنے تمام ٹکٹ مسلم خواتین کو دینے سے نہیں روک رہے ہیں۔‘‘ لوک سبھا میں ابھی مذکورہ بلوں پر بحث جاری رہے گی جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی مجوزہ ترامیم اور ایوانوں میں خواتین کی نمائندگی کے  معاملے پر اپنا اپنا موقف پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بل بحث کے دوران جہاں حکومتی اراکین نے اسے خواتین کو بااختیاربنانے کی سمت میں سنگ ِ میل قرار دیا۔ وہیں اپوزیشن نے اس کے وقت اور نفاذ کے طریقے پر سوالات اٹھائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK