:مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر) تنازع کے درمیان سپریم کورٹ نے آرٹیکل۱۴۲؍ کا استعمال کرتے ہوئے اہم حکم دیا ہے جس سے ریاست میںایس آئی آر کے بعدووٹنگ لسٹ سے نکالےگئے لاکھوںافرادکو راحت ملنے کی امید ہے
EPAPER
Updated: April 16, 2026, 11:47 PM IST | New Delhi
:مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر) تنازع کے درمیان سپریم کورٹ نے آرٹیکل۱۴۲؍ کا استعمال کرتے ہوئے اہم حکم دیا ہے جس سے ریاست میںایس آئی آر کے بعدووٹنگ لسٹ سے نکالےگئے لاکھوںافرادکو راحت ملنے کی امید ہے
:مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر) تنازع کے درمیان سپریم کورٹ نے آرٹیکل۱۴۲؍ کا استعمال کرتے ہوئے اہم حکم دیا ہے جس سے ریاست میںایس آئی آر کے بعدووٹنگ لسٹ سے نکالےگئے لاکھوںافرادکو راحت ملنے کی امید ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ نام ہٹانے کے خلاف جن لوگوں کی اپیل پر ٹریبونل فیصلہ سنائے گا، وہ لوگ بنگال انتخاب میں اپنے ووٹ کا استعمال کر سکیں گے۔ سپریم کورٹ نے۳۴؍ لاکھ سے زائد زیر التوا اپیلوں کو دیکھتے ہوئے واضح ڈیڈ لائن مقرر کی ہے، تاکہ کوئی بھی اہل ووٹر ووٹ دینے سے محروم نہ رہے۔سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مغربی بنگال میں۲۳؍ اپریل کو ہونے والی پولنگ کے پہلے مرحلے کیلئے جن افراد کی اپیلوں پر۱۹؍ خصوصی اپیل ٹربیونلوں کے ذریعے ۲۱؍ اپریل تک فیصلہ سنادیاجائے گا، وہ ووٹ دینے کے اہل ہوں گے ۔ اسی طرح وہ لوگ جن کی اپیلوں پر ٹریبونل۲۷؍ اپریل تک فیصلہ کرے گا وہ۲۹؍ اپریل کو دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ایسے افراد کے لیے سپلیمنٹری ووٹر لسٹ جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے مطابق، جہاں اپیلیٹ ٹربیونلز ان کی اپیلوں پر۲۱؍ اپریل تک فیصلہ کریں گے، ان کے ناموں پر مشتمل ایک ضمنی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔ جن لوگوں کے نام اس فہرست میں شامل ہیں وہ۲۳؍ اپریل کو پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ اسی طرح ایک سپلیمنٹری ووٹر لسٹ ان لوگوں کے ناموں پر مشتمل ہوگی جن کی اپیلوں پر۲۷؍ اپریل تک فیصلہ کیا جائے گاجس سے وہ ۲۹؍اپریل کو دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔
ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا استقبال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سب سے صبر رکھنے کے لیے کہہ رہی تھی۔ اب سپریم کورٹ نے حکم جاری کر دیا ہے۔ اپیل فائل کرنے والوں کی درخواستوں پر ٹریبونل۲۱؍ تاریخ تک فیصلہ سنائےگا اور سپلیمنٹری ووٹر لسٹ۲۳؍ اپریل کو پہلے مرحلہ کی ووٹنگ سے قبل شائع کی جائے گی۔۲۹؍ تاریخ کو دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ کے لیے بھی یہی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ میں تمام متعلقہ فریق سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ووٹر لسٹ اسی رات تک بھیج دی جائے۔ میں خوش ہوں اور مجھے عدلیہ پر فخر ہے۔ فیصلہ میری عرضی پر مبنی ہے، مجھے سپریم کورٹ پر فخر ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے انتخاب کے دوران ایس آئی آر تنازعہ کے پیش نظر شہریوں کے حق رائے دہی کے تحفظ کیلئے آئین کے آرٹیکل۱۴۲؍ کے تحت اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کیا ہے۔ بنچ نے فیصلے میں کہا ہے کہ ’’حالانکہ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اپیلٹ ٹریبونل کے سامنے فہرست سے نکالے گئے لوگوں کی اپیل محض زیر التوا ہونے سے انہیں ووٹ دینے کا حق نہیں ملے گا۔‘‘ یعنی ٹربیونل میں صرف اپیل دائر کر دینے سے یہ حکم نافذ نہیں ہوگا۔ اپیل پر ٹریبونل سے کلین چٹ ملنے پر ہی اپیل کنندہ ووٹ ڈالنے کا اہل ہوگا۔
سپریم کورٹ کے مطابق اگر کسی اپیل کو ٹریبونل سے کلین چٹ ملتی ہے، تو متعلقہ ووٹر کو اہل مانتے ہوئے مغربی بنگال میں یہ حکم موثر ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ ووٹ ڈالنا نہ صرف ایک آئینی حق ہے بلکہ یہ ایک جذباتی حق بھی ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے انتخابی عمل میں شفافیت برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔