مدھیہ پردیش میں وندے ماترم گانے سے انکار پر۲؍ مسلم کانگریس کارپوریٹرکے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، پولیس کے مطابق، یہ واقعہ تناؤ کا سبب بنا ،جس سے سماجی اور مذہبی ہم آہنگی متاثر ہوئی اور عوام میں اختلافات پیدا ہوئے۔
EPAPER
Updated: April 16, 2026, 5:06 PM IST | Bhopal
مدھیہ پردیش میں وندے ماترم گانے سے انکار پر۲؍ مسلم کانگریس کارپوریٹرکے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، پولیس کے مطابق، یہ واقعہ تناؤ کا سبب بنا ،جس سے سماجی اور مذہبی ہم آہنگی متاثر ہوئی اور عوام میں اختلافات پیدا ہوئے۔
مدھیہ پردیش کے اندور میں دو مسلم کانگریس کونسلرکے خلاف مقدمہ درج کیا گیا کیونکہ انہوں نے گزشتہ ہفتے میونسپل کارپوریشن کے بجٹ اجلاس کے دوران وندے ماترم کو گانے سے انکار کر دیا تھا۔دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، یہ مقدمہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کونسلر کی شکایات کے بعد بھارتیہ نیائے سنہتا کی ان دفعات کے تحت درج کیا گیا جو مذہب، نسل اور جائے پیدائش کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی بڑھانے اور ہم آہنگی کے لیے مضر اقدامات سے متعلق ہیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس رام سنیہی مشرا نے کہا کہ روبینہ اقبال خان اور فوزیہ شیخ علیم نے مبینہ طور پر قومی ترانے کی بے حرمتی کی۔مشرا نے مزید کہا،تحقیقات کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ اس واقعے نے تناؤ پیدا کیا جس سے سماجی اور مذہبی ہم آہنگی متاثر ہوئی اور عوام میں اختلافات پیدا ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: مجھے سازش کے تحت پھنسایا جا رہا ہے : روپالی چاکن کر
واضح رہے کہ یہ واقعہ۸؍ اپریل کو میونسپل کارپوریشن کے بجٹ اجلاس کے دوران پیش آیا، جب وندے ماترم گانے پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، علیم نے سوال کیا کہ کیا کوئی اصول یا قانون گیت گانے کو لازمی قرار دیتا ہے اور بعد میں ایوان سے واک آؤٹ کر گئیں، جبکہ خان نے کارروائی کے دوران کہا کہ ان کا مذہب اس گیت کے پڑھنے کی اجازت نہیں دیتا۔اس کے بعد ایوان میں بی جے پی اراکین نے احتجاج کیا، جنہوں نے مبینہ طور پر اشتعال انگیز نعرے لگائے،’’اگر ہندوستان میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہناہو گا۔ بعد ازاں خان نےسخت الفاظ کے انتخاب پر معافی مانگ لی۔تاہم پولیس افسران نے بتایا کہ دونوں کونسلرز سے ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے دو دن پوچھ گچھ کی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس ونود دکشت نے بتایا کہ انہوں نے پوچھ گچھ کے دوران ’’مذہبی وجوہات‘‘ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے ان سے کہا کہ وہ آئینی عہدے پر منتخب ہوئی ہیں اور ان کے مذہبی دباؤ کو فیصلے کا حصہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘‘وزیر اعلیٰ موہن یادو نے اس واقع کو بدقسمت قرار دیتے ہوئے کہ کانگریس کے سینئر لیڈروں کو بتانا چاہیے کہ اس طرز عمل کی حوصلہ افزائی کیوں کی جا رہی ہے، جسے انہوں نے ’’شہداء کی قربانیوں کی توہین‘‘قرار دیا۔یادو نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے وندے ماترم کے تمام چھ اشعار کو اپنا کر قوم کا دل جیت لیا جبکہ کانگریس "اپنے دہرےمعیار میں پھنسی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امراوتی میں جنسی استحصال کے ۱۹؍ سالہ ملزم کے گھر بلڈوزر چلایا گیا
یاد رہے کہ جنوری کو وزارت داخلہ کے ایک سرکلر میں ہدایت دی گئی تھی کہ جب وندے ماترم کو قومی ترانے’’جن گن من‘‘ کے ساتھ بجایا جائے تو پہلے اس کے تمام چھ بند گائےجائیں۔جبکہ اس سے قبل سرکاری تقریبات میں گیت کے صرف پہلےدو بند بجائے جاتے تھے۔ باقی بندیں جن میں ہندو دیوی درگا، لکشمی اور سرسوتی کا ذکر ہے، چھوڑ دی جاتی تھیں۔اکتوبر۱۹۳۷ء میں کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں وندے ماترم کے پہلے دو بند کو قومی گیت تسلیم کیا گیا تھا۔تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی نے طویل عرصے سے الزام لگایا کہ کانگریس نے ’’مسلمانوں کو خوش کرنے‘‘ کے لیے چار بند کو ہٹانے پر اتفاق کیا تھا۔
پریس انفارمیشن بیورو کی۶؍ نومبر کو گیت کی۱۵۰؍ ویں سالگرہ کے موقع پر جاری کردہ ایک نوٹ کے مطابق، آئین ساز اسمبلی نے’’جن گن من‘‘ کو قومی ترانہ اور’’وندے ماترم‘‘ کو قومی گیت تسلیم کیا۔ جبکہ پہلے صدر راجندر پرساد نے۱۹۵۰ء میں اسمبلی کو اس کا قومی ترانے کے مساوی احترام کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم، آئین میں صرف قومی ترانے کا ذکر ہے، وندے ماترم کا نہیں۔