ہیڈماسٹروںنے ایندھن کے مسئلہ پر قابوپانےکیلئے آن لائن پڑھانے کی تجویزکو طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑقرار دیا،والدین نے بھی تجویز کو غیر مناسب بتایا
EPAPER
Updated: May 30, 2026, 7:36 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
ہیڈماسٹروںنے ایندھن کے مسئلہ پر قابوپانےکیلئے آن لائن پڑھانے کی تجویزکو طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑقرار دیا،والدین نے بھی تجویز کو غیر مناسب بتایا
نئے تعلیمی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کا آغاز عنقریب ہونے والا ہے ۔ایسے میں ایندھن کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے اسکول بس کے کرایہ میں اضافہ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسکول بس اونرز اسوسی ایشن(ایس بی او اے) نے والدین پر مالی بوجھ نہ پڑےاس لئے ۳؍دن آف لائن اور ۲؍دن آن لائن اسکول منعقد کرنے کی تجویز پیش کی ہے لیکن اس تجویز کی اسکولوں کے ہیڈماسٹرو ں اورسرپرستوں نے مخالفت کی ہے ۔ ان کا کہناہے کہ کورونا کے دور میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ آن لائن تعلیم سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہو ا ہے لہٰذا اب طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ نہ کیا جا ئے ۔
کرلا مغرب کی ڈپٹی انگلش میڈیم ہائی اسکول کی پرنسپل پرمیلا جادھو کے مطابق ’’پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں اور ایندھن کی قلت پر قابو پانے کیلئے حکومت کی جانب سے اُٹھائے گئے اقدامات کے مطابق آن لائن کلاسیز کے انعقاد کی تجویز درست ہے لیکن اگر ہم بچوں کے مستقبل پر غور کریں تو یہ فیصلہ بہت غلط ہے ۔ اگرچہ کورونا کے دوران ایک متبادل کے طور پر آن لائن تعلیم کو ترجیح دی گئی تھی لیکن اس دوران جو کچھ پڑھایا گیا اس کو کتنے طلبہ سمجھ پائے ہیں ؟ بچے آن لائن توجہ سے پڑھائی نہیں کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ موجودہ صورتحال کورونا جیسی نہیں ہے ۔یہ ایک یا دو ماہ میں بدل سکتی ہے، اس لئے آن لائن تعلیم شروع کر کے طلبہ کو نقصان نہیں پہنچا نا چاہئے ۔‘‘
مہاممبئی شکشن سنستھا کے نائب صدر راجند پردھان کے بقول’’کورونا کے دوران اجتماعات پر پابندی تھی۔ اس وقت، کوئی متبادل نہیں تھا لہٰذا آن لائن تعلیم فراہم کی گئی تھی۔ آن لائن تعلیم سے بچوں کو ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے میں ۳؍ سے ۴؍ سال لگ گئے ہیں ۔ اگر ایندھن کی شدید قلت ہوتی تو آن لائن آپشن موزوں ہوتا لیکن فی الحال ایسی کوئی ہنگامی صورتحال نہیں ہے۔ اس لئے آن لائن تعلیم کا آپشن مناسب نہیں ہے۔ مستقبل میں ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے لیکن حکومت اورا سکولوں کو مثبت انداز اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس سے نکلنے کیلئے طلبہ کو تعلیمی نقصان پہنچانا غلط ہے ۔‘‘
سرپرستوںکےمطابق ’’آن لائن تعلیم نے پہلے ہی کورونا کے دور میں طلبہ کی تعلیمی صلاحیتوں کو متاثر کیا ہے۔ اب دوبارہ آن لائن کلاسیز شروع کرنا مناسب نہیں ہے۔ اگرآن لائن پڑھائی شروع کی جاتی ہے تو سوال یہ ہےکہ گھر میںبچوںکی پڑھائی پرتوجہ کون دےگا؟‘‘
دریں اثناء ایس بی اواے نےکہاہے کہ ’’پیٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے اسکول بس کے کرایوں میں ۱۵؍ فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو والدین کو جون میں شروع ہونے والے نئے تعلیمی سال کے آغاز سے کم از کم۳؍سے ۵؍ہزارروپے سالانہ اضافی کرایہ ادا کرنا ہوگا ۔‘‘
واضح رہےکہ ریاست کے متعدد اسکول فی الحال اسکول بسوں کیلئے ۲۰؍سے ۳۰؍ہزار روپے سالانہ چارج کرتے ہیں۔ اگر اس میں ۱۵؍فیصد اضافہ کیا جاتا ہے تو والدین کو ۳۰۰۰؍ سے ۵۰۰۰؍ہزارروپے اضافی ادا کرنے پڑسکتے ہیں۔ اس سے والدین پر ایک نیا مالی بوجھ پڑے گا جو پہلے ہی اسکول کی فیسوں، نصابی کتب، یونیفارم اور دیگر تعلیمی اخراجات میں اضافے کی وجہ سے مالی دباؤ کا شکار ہیں ۔
ایس بی او اے کے صدر انیل گرگ نے کہا ہے کہ ’’اگر حکومت کوئی مدد فراہم نہیں کرتی ہے تو کرایہ میں اضافہ ناگزیر ہے ۔ ہماری اسوسی ایشن نے ایندھن کے اخراجات کو کم کرنے کیلئے ہفتے میں ۲؍دن آن لائن اور باقی دنوں میں آف لائن کلاسیز کی تجویز پیش کی تھی لیکن ہیڈماسٹروں اور والدین کی جانب سے اس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔‘‘