گیان واپی مسجد کے نیچے کھدائی اور سروے کا حکم

Updated: April 09, 2021, 1:18 PM IST | Hassan Ibrahim | Lucknow

اپنے ٹرانسفر سے قبل وارانسی کےسول جج نے محکمۂ آثار قدیمہ کوہدایت دی، سروے کیلئے پانچ رکنی کمیٹی کی تشکیل جس میں۲؍ مسلم ممبر بھی شامل ہوںگے ، ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر سول جج کے اس حکم پر مسلم فریق کو سخت اعتراض 

Gyanvapi Masjid.Picture:INN
گیان واپی مسجد۔تصویر :آئی این این

وارانسی کی گیان واپی مسجد کے متعلق سول جج نے ایک حکم  دیا ہےجس کے بعد یہ قیاس آرائی شروع ہوگئی ہے کہ کیا گیان واپی مسجد دوسری بابری مسجد بنےگی؟ جمعرات کو وارانسی کے سول جج سینئرڈویژن فاسٹ ٹریک کورٹ نے گیان واپی مسجدکے نیچے کھدائی کرکے سروے کرانے کا حکم دیا ہے۔ سروے محکمہ آثار قدیمہ کی نگرانی میں ہوگا، اس کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں دو مسلم ممبر بھی شامل ہوںگے۔ جبکہ اس پر مسلم فریق نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔ ہائی کورٹ میں اس سلسلہ میں چل رہے مقدمہ کی بحث مکمل ہوچکی ہے اور فیصلہ محفوظ ہے ، ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر سول جج کے فیصلے پر بھی سوال کھڑے کئے جارہے ہیں۔  وارانسی  کاشی وشوناتھ مندر اور گیان واپی مسجد تنازع کیس میں سول عدالت نے آرکیالوجیکل سروے کے لیے پانچ افراد پر مشتمل ایک ٹیم بھی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے جس میں مسلم فریق کے دو فرد بھی شامل ہوں گے۔ اس سلسلہ میں عدالت نے مرکزی حکومت اور یوپی حکومت کو خط جاری کرکےمحکمہ آثار قدیمہ کی پانچ رکنی ٹیم بناکر سروے کرنے کا حکم دیا ہے۔ گیان واپی مسجد کے متعلق  آثار قدیمہ کے سروے کی رِٹ پر سول جج سینئر ڈیویزن کی فاسٹ ٹریک کورٹ میں ۲؍اپریل کو بحث مکمل ہوگئی تھی ۔ کورٹ نے اس معاملے میں فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔  وہیں مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری و بابری مسجد کے وکیل رہے ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی نے بتایا کہ یہ حکم پوری طرح سے غلط ہے۔ گیان واپی معاملے کا مقدمہ ۱۹۹۱ءپلیس آف ورشپ ایکٹ کے مطابق چل سکتابھی ہے یا نہیں، اس کا معاملہ ہائی کورٹ میں ہے جس میں بحث مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جاچکا ہے۔ اب ہائی کورٹ کے فیصلے کے انتظار سے قبل ہی سول جج کا سروے کا حکم دینا غلط ہے۔ اسے چیلنج کرنے کی تیاری کی جارہی  ہے۔ مسلم فریق سے بات ہوئی ہے۔ جلد ہی معاملے کو چیلنج کیا جائے گا۔
  وہیں ہائی کورٹ میں گیان واپی معاملے کے وکیل سید فرمان نقوی نے بتایا کہ سول جج کا ٹرانسفر ہوچکا ہے، انہوں نے یہ آخری حکم سنایا ہے۔ حکم سنانے والے فاضل جج کی شخصیت بھی متنازع ہے، جس پر وہاں کے وکلاء بھی ہنگامہ کر چکے ہیں۔ جہاں تک مذکورہ حکم کی بات ہے تو  یہ درست نہیں ہے۔ اس کے لیے بہتر ہے کہ سول جج کے اس آرڈر کو ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ میں بھی معاملہ لے جانے کیلئے امکان تلاش کئے جائیں گے۔ مسلم فریق سے مشورہ کر کے سول جج کے آرڈر کو چیلنج کیا جائے گا۔ اس سوال پر کہ کیا یہ فیصلہ ہندو فریق کو فائدہ پہنچانے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ توصاف ظاہر ہے۔ 
 واضح رہے کہ گیان واپی مسجد تنازع کا کیس آئیڈیل سمبھو لارڈ وشویشور اور انجمن مساجد انتظامیہ بنارس و یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کے مابین برسوں سے جاری ہے۔ آئیڈیل سمبھو لارڈ وشویشور کا دعویٰ ہے کہ گیان واپی احاطے میں مسجد کی جگہ سمبھو وشویشور کا مندر تھا اور یہ بہت ہی معروف تھا ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ ۱۶۶۹ء میں اورنگزیب نے یہ اس مقام کو ڈھانے کا حکم دیا تھا لیکن اورنگ ز یب کے حکم نامے میں یہ کہیں بھی نہیں لکھا تھا کہ اس احاطے میں مسجد کی تعمیر کی جائے۔ہندو فریق یہ بھی کہتا ہے کہ مسجد کی تعمیر غیر قانونی طریقے سے ہوئی ہے، کیس اس لیے درج کیا گیا ہے تاکہ قانونی طور پر اعلان کردیا جائے کہ یہ سمبھو وشویشور جیوتیلنگ کا مندر ہے۔آئیڈیل سمبھولارڈ وشویشور کی جانب سے عدالت میں عرضی داخل کی گئی تھی کہ محکمہ آثار قدیمہ کے ذریعے گیان واپی مسجد معاملے کی تحقیق کرائی جائے جبکہ مسجد کی انجمن انتظامیہ اور یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ نے اس معاملے پر سماعت نہ کرنے کی اپیل کی تھی لیکن جمعرات کو مقامی عدالت نے اس معاملے پر حکم سنایا ہے جسے مندر فریق کے حق میں بتایا جارہا ہے۔

lucknow Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK