Updated: July 17, 2026, 7:14 AM IST
| Lucknow
قد آور مسلم لیڈر محمد اعظم خان کی قائم کردہ یونیورسٹی کی ۴۰؍ میں سے ۳۸؍ عمارتوںکا نقشہ منظور نہ ہونے کا حوالہ دیکرحکم جاری کیا گیا ،یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق جب یہ عمارتیں تعمیر کی گئیں اس وقت یہ علاقہ اتھاریٹی کے دائرہ میں نہیں تھا۔ سماج وادی پارٹی اور کانگریس کا شدید ردعمل
رام پور میں واقع مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کا صدر دروازہ ۔ یہ یونیورسٹی محمد اعظم خان نے ۲۰۰۶ء میں قائم کی تھی
سماجوادی پارٹی کے قد آور لیڈر اور سابق وزیر محمد اعظم خان کی قائم کردہ محمد علی جوہر یونیورسٹی پر بلڈوزر کارروائی کی تیاری ہے۔ رام پور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے یونیورسٹی کی ۴۰؍ میں سے ۳۸؍ عمارتوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اتھاریٹی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ۱۵؍ دن کے اندر ان عمارتوں کو خود ہٹا دے بصورت دیگر انتظامیہ قانون کے مطابق انہدامی کارروائی کرے گا اور اس کا خرچ بھی یونیورسٹی سے وصول کیا جا ئے گا۔ یہ حکم رام پور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے نائب چیئرمین اور ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی نے یوپی اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ ۱۹۷۳ء کی دفعہ ۲۷؍ کے تحت جاری کیا ہے۔
اتھاریٹی کا کیا کہنا ہے ؟
اتھاریٹی کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی ۴۰؍ عمارتوں میں سے صرف میڈیکل کالج کی عمارت اور ایک اکیڈمک بلاک کو باقاعدہ منظوری حاصل تھی جبکہ باقی ۳۸؍ عمارتیں منظور شدہ نقشے کے بغیر تعمیر کی گئیں۔ اس لئے ان عمارتوں کو فوری طور پر منہدم کرنا ہو گا۔اتھاریٹی نے اس کے لئے یونیورسٹی کو ۱۵؍ دن کا وقت دیا ہے اور کئی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں جس پر شدید ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یونیورسٹی کا جواب
یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا ہے کہ جن عمارتوں پر اعتراض کیا جا رہا ہے، وہ اس وقت تعمیر کی گئی تھیں جب یہ علاقہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے دائرۂ اختیار میں نہیں تھا۔ انتظامیہ کے مطابق یہ علاقہ ستمبر ۲۰۲۴ء میں آر ڈی اے کے تحت آیا ہے اس لئے اس سے پہلے تعمیر ہونے والی عمارتوں کے لیے آر ڈی اے سے نقشہ منظور کرانے کی قانونی ضرورت نہیں تھی۔یونیورسٹی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جب یہ عمارتیں تعمیر کی گئیں، اس وقت مذکورہ علاقہ آر ڈی اے کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں تھا، اس لئے نقشے کی منظوری کی ضرورت نہیں تھی۔
اتھاریٹی نے دلیل مسترد کردی
تاہم آر ڈی اے نے یونیورسٹی انتظامیہ کی اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی متعلقہ مجاز اتھاریٹی سے منظوری لینا لازمی تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند برسوں سے محمد علی جوہر یونیورسٹی، زمین پر مبینہ قبضے، لیز کی خلاف ورزی اور دیگر قانونی تنازعات کی وجہ سے خبروں میں رہی ہے۔ اتر پردیش حکومت پہلے ہی یونیورسٹی سے متعلق وسیع اراضی واپس اپنے قبضے میں لے چکی ہے، جبکہ رواں سال اعظم خان اور ان کے اہل خانہ نے یونیورسٹی کے گورننگ ٹرسٹ سے بھی علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
محکمہ تعمیرات کی کارروائی
ادھر جمعرات کو یوپی محکمہ تعمیرات عامہ نے یونیورسٹی کیمپس سے گزرنے والی تقریباً تین کلومیٹر طویل سڑک کو عوامی سڑک قرار دیتے ہوئے اس پر سائن بورڈ نصب کر دیے، جن میں کہا گیا ہے کہ یہ راستہ عام لوگوں کےلئے بلا روک ٹوک کھلا ہے۔ محکمہ کے مطابق یہ سڑک سماجوادی پارٹی کی حکومت کے دوران سرکاری فنڈ سے تعمیر کی گئی تھی اور عوامی استعمال کے لئے مختص ہے، تاہم اس معاملے کی سماعت اس وقت الہ آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔
رامپور انتظامیہ کی شدید مذمت
رامپور انتظامیہ کے اس فیصلے کی چو طرفہ مذمت ہو رہی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی یوگی حکومت اور مقامی انتظامیہ کے خلاف سخت ناراضگی کا اظار کیا جا رہا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اس معاملے میں یوگی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔باقی صفحہ ۱۵؍ پر ملاحظہ کریں