Updated: July 15, 2026, 9:04 PM IST
| Bundelkhand
ملک کے پہلے رِیور لنکنگ پروجیکٹ (کین-بیتوا) نے مدھیہ پردیش کے ضلع چھترپور کے متعدد قبائلی خاندانوں کو ان کے آبائی گھروں، زمینوں اور روزگار سے محروم کر دیا ہے۔ دیہات زیر آب آنے کے بعد متاثرین نے احتجاج کا ایک غیرمعمولی اور دل دہلا دینے والا طریقہ اختیار کیا ہے۔ مرد، خواتین اور معمر افراد روزانہ گھنٹوں تک گردن یا سینے تک پانی میں کھڑے رہ کر اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کر رہے ہیں۔
قبائیلیوں کا منفرد احتجاج۔ تصویر: ایکس
ملک کے پہلے ’’رِیور لنکنگ پروجیکٹ (کین-بیتوا)کے خلاف مدھیہ پردیش کے ضلع چھترپور میں بے گھر ہونے والے قبائلی خاندانوں نے احتجاج کا ایک ایسا منفرد طریقہ اختیار کیا ہے جس نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا دی ہے۔ اپنے گھروں اور زمینوں سے محروم ہونے والے مرد، خواتین اور بزرگ روزانہ گھنٹوں تک گردن یا سینے تک پانی میں کھڑے رہ کر خاموش احتجاج کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس پانی نے ان کے گاؤں، کھیت اور زندگیوں کو ڈبو دیا، اب وہی پانی ان کی مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔ متاثرین کے مطابق کین-بیتوا منصوبے کے نتیجے میں متعدد قبائلی بستیاں زیر آب آ چکی ہیں جبکہ سیکڑوں خاندانوں کو اپنی آبائی زمینیں چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقی کے نام پر انہیں ایسی جگہوں سے بے دخل کیا گیا جہاں ان کے آباؤ اجداد نسلوں سے آباد تھے اور جہاں ان کی ثقافت، روایات اور اجتماعی شناخت پروان چڑھی تھی۔
احتجاج میں شامل قبائلیوں کا کہنا ہے کہ زمین ان کے لیے صرف ایک معاشی وسیلہ نہیں بلکہ ان کی تاریخ، مذہبی عقیدت، تہذیب اور وجود کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق جب زمین ہی چھن گئی تو ان کی شناخت بھی خطرے میں پڑ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پانی میں کھڑے ہو کر دنیا کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ترقی کی اس قیمت نے ان سے سب کچھ چھین لیا ہے۔ متاثر خاندانوں کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کے بعد ان کے لیے زندگی مزید دشوار ہو گئی ہے۔ کھیتی باڑی، جنگلات سے حاصل ہونے والی آمدنی، مویشی پالنے اور دیگر روایتی ذرائع معاش بری طرح متاثر ہوئے ہیں جبکہ نئی آبادکاری کی جگہوں پر بنیادی سہولیات، روزگار اور مناسب انتظامات کا فقدان ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت انہیں صرف مالی معاوضہ نہ دے بلکہ باعزت بازآبادکاری، مستقل روزگار اور ان کے سماجی و ثقافتی حقوق کا بھی تحفظ یقینی بنائے۔
یہ بھی پڑھئے: سونم وانگچک سے اظہارِ یکجہتی کیلئے۱۶؍ جولائی کو یک روزہ ملک گیر بھوک ہڑتال
کین-بیتوا ریور لنکنگ پروجیکٹ کو ملک کے اہم ترین آبی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد خشک سالی سے متاثر علاقوں تک پانی پہنچانا، آبپاشی کی سہولیات میں اضافہ کرنا اور پینے کے پانی کی دستیابی بہتر بنانا ہے۔ تاہم منصوبے کے ساتھ بے دخلی، بازآبادکاری، جنگلات اور قبائلی آبادی پر پڑنے والے سماجی و ماحولیاتی اثرات بھی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے ترقیاتی منصوبے صرف اس صورت میں کامیاب سمجھے جا سکتے ہیں جب ان سے متاثر ہونے والے افراد کو انصاف، مناسب بازآبادکاری اور باوقار زندگی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ بصورت دیگر ترقی کے یہ منصوبے انفراسٹرکچر کی کامیابی کے باوجود انسانی المیے کی علامت بن جاتے ہیں۔