Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی: اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کی ۳۸؍ عمارتیں مسمار کرنے کا حکم

Updated: July 16, 2026, 6:01 PM IST | Rampur

اتر پردیش کے رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک بار پھر قانونی کارروائی کی زد میں آ گئی ہے۔ رام پور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (RDA) نے یونیورسٹی کی ۴۰؍ میں سے ۳۸؍ عمارتوں کو غیر مجاز قرار دیتے ہوئے انہیں ۱۵؍ دن کے اندر گرانے کا حکم دیا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ان عمارتوں کی تعمیر منظور شدہ نقشے کے بغیر کی گئی، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عمارتیں اس وقت تعمیر ہوئیں جب یہ علاقہ آر ڈی اے کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں تھا۔

The entrance gate of Mohammad Ali Jauhar University. Azam Khan in the inset. Photo: INN
محمد علی جوہر یونیورسٹی کا داخلی دروازہ۔ انسیٹ میں اعظم خان۔ تصویر: آئی این این

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعظم خان کے قائم کردہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کو ایک اور بڑا قانونی دھچکا لگا ہے۔ رام پور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (RDA) نے یونیورسٹی کی ۴۰؍ میں سے ۳۸؍ عمارتوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اتھاریٹی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ۱۵؍ دن کے اندر ان عمارتوں کو خود ہٹا دے، بصورت دیگر انتظامیہ قانون کے مطابق انہدامی کارروائی کرے گی اور اس کا خرچ بھی یونیورسٹی سے وصول کیا جا سکتا ہے۔ یہ حکم رام پور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے وائس چیئرمین اور ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی نے اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ ۱۹۷۳ء کی دفعہ ۲۷؍ کے تحت جاری کیا۔ حکام کے مطابق معاملے کی مکمل سماعت، ریکارڈ کے جائزے اور متعلقہ قوانین کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ اتھاریٹی کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی ۴۰؍ عمارتوں میں سے صرف میڈیکل کالج کی عمارت اور ایک اکیڈمک بلاک کو باقاعدہ منظوری حاصل تھی، جبکہ باقی ۳۸؍ عمارتیں منظور شدہ نقشے کے بغیر تعمیر کی گئیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کا ۱۹ واں دن: دہلی ہائی کورٹ نے ان کے روزانہ طبی معائنے کا حکم دیا

دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ جن عمارتوں پر اعتراض کیا جا رہا ہے، وہ اس وقت تعمیر کی گئی تھیں جب سنگن کھیڑا گاؤں رام پور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں تھا۔ انتظامیہ کے مطابق یہ علاقہ ستمبر ۲۰۲۴ء میں آر ڈی اے کے تحت آیا، اس لیے اس سے پہلے تعمیر ہونے والی عمارتوں کے لیے آر ڈی اے سے نقشہ منظور کرانے کی قانونی ضرورت نہیں تھی۔ ادھر سماج وادی پارٹی نے اس کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے سخت اعتراض کیا ہے۔ پارٹی لیڈروں کا کہنا ہے کہ جوہر یونیورسٹی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اسی نوعیت کے دیگر معاملات میں یکساں معیار اختیار نہیں کیا جاتا۔ تاہم ریاستی حکومت اور مقامی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ کارروائی مکمل طور پر قانونی ضابطوں کے مطابق کی جا رہی ہے اور غیر مجاز تعمیرات کے خلاف قانون سب کے لیے یکساں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ناگالینڈ: دہشت گرد حملے میں حوالدار محمد اقبال شہید، سرحدی گاؤں میں سوگ

تازہ پیش رفت میں اتر پردیش کے محکمہ تعمیرات عامہ (PWD) نے یونیورسٹی کیمپس سے گزرنے والی مرکزی سڑک کو عوامی راستہ قرار دیتے ہوئے مرکزی دروازے پر سائن بورڈ نصب کر دیے ہیں۔ ان بورڈز پر واضح کیا گیا ہے کہ یہ سڑک عام شہریوں کے استعمال کے لیے کھلی ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سرکاری زمین اور عوامی راستوں پر عوام کی رسائی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ یونیورسٹی سے وابستہ حلقے اسے بھی جاری تنازع کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ محمد علی جوہر یونیورسٹی گزشتہ کئی برسوں سے زمین کے لیز، تعمیراتی منظوریوں اور دیگر قانونی تنازعات کے باعث خبروں میں رہی ہے۔ ۲۰۲۴ء میں سپریم کورٹ نے بھی یونیورسٹی سے متعلق زمین کی لیز منسوخ کیے جانے کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا، جس کے بعد یہ تازہ انہدامی کارروائی ادارے کے لیے ایک اور بڑا قانونی چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔ اگر یونیورسٹی انتظامیہ مقررہ مدت کے اندر عدالت سے کوئی ریلیف حاصل نہیں کر پاتی یا حکم پر عمل نہیں کرتی تو آئندہ دنوں میں رام پور انتظامیہ کی جانب سے انہدامی کارروائی شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK