سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عدلیہ کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثرکارروائی کی ہدایت دی، اسرائیلی اور امریکی لیڈروں کے بیانات کو اقبال جرم قرار دیا۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 9:03 AM IST | Tehran
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عدلیہ کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثرکارروائی کی ہدایت دی، اسرائیلی اور امریکی لیڈروں کے بیانات کو اقبال جرم قرار دیا۔
ا یران میں ’’قومی ہفتہ برائے عدلیہ‘‘ کے موقع پر سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے یکے بعد دیگرے کئی ’ایکس‘پوسٹ میں ملک کے عدالتی نظام کے ذمہ داران کو امریکہ اور اسرائیل کے جنگی جرائم پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پرموثر قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے عدلیہ کو ہدایت دی ہے کہ گزشتہ سال سے ایران پر تھوپی گئیں یکے بعد دیگرے ۳؍ جنگوں میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ملک اور عوام کے متاثرہ حقوق کی بحالی کیلئے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر قانونی کارروائی کی جائے۔ ان کے پوسٹ سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ ایران اس کی تیاری کررہا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی لیڈروں کے بیان اقبال جرم
ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے پوسٹ میں بعض امریکی اور اسرائیلی لیڈروں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے یہ بیان مجرمانہ جرائم کا اعتراف ہیں اور یہ ایرانی قوم کے حقوق کی بحالی کیلئے قانونی کارروائی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی ذمہ داری صرف انفرادی مقدمات تک محدود نہیں ہے بلکہ عوامی حقوق، قانونی آزادیوں، انصاف کے قیام، بدعنوانی کے خاتمے، قوانین کے نفاذ اور ملکی مفادات کا تحفظ بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ان ذمہ داریوں کی مؤثر ادائیگی سے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
ہزاروں مقدمات کا جواز موجود ہے
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ جون۲۵ء اور فروری۲۶ء میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کئے گئے حملوں میں جاں بحق ہونے والوں، زخمیوں اور ملک کو پہنچنے والے نقصانات کی بنیاد پر سیکڑوں نہیں ہزاروں قانونی مقدمات قائم کئےجا سکتے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے بطور خاص میناب اور لامرد میں بچوں کی ہلاکتوں، طبی مراکز اور عوامی خدمات کی تنصیبات پر حملوں اور نومولود بچوں سے لے کر بزرگ شہریوں تک کی اموات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں سنگین جنگی جرائم قرار دیا۔
اسرائیلی و امریکی لیڈروں کے بیان خود ثبوت
انہوں نے مزید کہا کہ بعض امریکی اور اسرائیلی لیڈروں کی جانب سے ان کارروائیوں کا اعتراف بلکہ ان پر فخر کا اظہار، قانونی اعتبار سے ایسے شواہد ہیں جو ایران کے دعوؤں کو تقویت فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے قانونی اقدامات مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
جنگی جرائم کے مرتکبین کا احتساب ضروری
ایران کے سپریم لیڈر نے اتوار کو عدلیہ سے اس ضمن میں اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیکر کہا کہ جنگ کے دوران ہونے والے جرائم کے ذمہ داروں کا احتساب ضروری ہے۔
آبنائے ہرمز پر کشیدگی
اس بیچ امن معاہدہ کے باوجود آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جو بغداد کے دورہ پر ہیں، نے کہا ہےکہ حالیہ مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی نگرانی اور اسے مکمل طور پر بحال رکھنے کا حق صرف ایران کو ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ’’آئندہ ۳۰؍ دنوں تک آبنائے ہرمز ایران کے مکمل کنٹرول میں رہےگا۔ اس بیچ اتوار کو لگاتار دوسرے دن امریکہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکروں پر ڈرون حملوں کے جواب میں ایران کے متعدد مقامات پر حملے کئے ہیں۔
امریکہ کو پاسداران ِ انقلاب کا انتباہ
اس بیچ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ اس کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز سے گزرنےوالے ٹینکروں پر حملے کے جواب میں ٹرمپ کی دھمکی پر تہران نے کہا ہے کہ ’’جیسا کہ ہم نے کہاتھا، دشمن بار بار عہد شکنی کرتا ہے، وہ ناقابل بھروسہ ہے۔ ہم تیار ہیں اور بات چیت کے کسی بھی مرحلہ میں پاسداران انقلاب ضروری ایکشن لینے کے اہل ہیں۔‘‘