Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناندیڑ:اکالی دَل کے صدر سکھبیرسنگھ بادل پرکرپان سےحملہ، سیکوریٹی اہلکار بھی زخمی

Updated: August 14, 2026, 9:19 AM IST | Z. A. Khan | Nanded

پنجاب کے سابق نائب وزیر اعلیٰ گردوارہ ماتاصاحب میں مذہبی رسومات میں شرکت کیلئے پہنچے تھے، حملہ آور نہنگ سکھ کے لباس میں تھا، فوراً گرفتار کرلیا گیا۔

Sukhbir Singh Badal being taken to a hospital in Nanded by security personnel. (Photo: Inqilaba)
سکھبیر سنگھ بادل کو سیکوریٹی اہلکار ناندیڑ کے اسپتال لے جاتے ہوئے۔ (تصویر: انقلاب)

پنجاب کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور شرومنی اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل پر جمعرات کو ناندیڑ کے تاریخی گردوارہ میں کرپان سے حملہ کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ شہر سے قریب واقع گردوارہ ماتا صاحب کے احاطے میں پیش آیا، جہاں سکھبیر سنگھ بادل مذہبی رسومات میں شرکت کے لئے پہنچے تھے۔ حملے کے دوران بادل کو ہاتھ پر چوٹ لگی جبکہ ان کی حفاظت پر مامور ایک سیکوریٹی اہلکار بھی زخمی ہوا ہے۔اس حملہ سے جائے وقوع پر تھوڑی دیر کیلئے افرا تفری مچ گئی تھی اور پھر فوراً ہی سکھبیر بادل کو قریب کے یشوسائی اسپتال لے جایا گیا۔ پولیس نے حملہ آور کو حراست میں لے لیا ہے۔اطلاعات کے مطابق سکھبیر سنگھ بادل ناندیڑ کے دورے پر مختلف گردواروں میں حاضری دے رہے تھے۔ جمعرات کو جب وہ ماتا صاحب کے احاطے میں موجود تھے، اسی دوران ایک شخص نے ان کی جانب بڑھ کر کرپان سے ان پر حملہ کردیا۔ موقع پر موجود سیکوریٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو قابو کرلیا، جس کے باعث ایک بڑی واردات ٹل گئی۔ حملے کے دوران سکھبیر سنگھ بادل کے ہاتھ پر چوٹ آئی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔حملہ آور مبینہ طور پر نہنگ سکھ کے لباس میں تھا۔ذرائع نے کہا ہے کہ حملہ آورسکھبیر سنگھ بادل کو پنجاب میں منشیات کا کاروبار بڑھنے کی وجہ مانتا ہے اور اسی لئے اس نے حملہ کیا ہے۔ 

سکھبیر بادل کو زیڈ پلس سیکوریٹی حاصل ہے

 یاد رہے کہ سکھبیر سنگھ بادل کو پہلے ہی زیڈ پلس سطح کی سیکوریٹی حاصل ہے۔اس کے باوجود گردوارہ جیسے حساس مذہبی مقام پر ان تک حملہ آور کے پہنچنے کے واقعے نے سیکوریٹی انتظامات پر بھی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اس معاملے کا فوری طور پر نوٹس لیا ہے اور اعلیٰ سطحی انکوائری کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ 

بادل پر پہلے بھی حملہ ہوچکا ہے

یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب سکھبیر سنگھ بادل پر حملہ کیا گیا ہے۔ ۴؍ دسمبر۲۰۲۴ء کو امرتسر میں واقع سورن مندر کے باہر بھی ان پر ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ اس وقت ان پر گولی چلانے کی کوشش کی گئی تھی جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ سکھ طبقہ میں ان کے خلاف ناراضگی بھی دیکھنے کو ملتی رہی ہے۔ ساتھ ہی انہیں پنجاب میں منشیات کے کاروبار کو بڑھانے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK