پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس جو ۲۰؍ جولائی کو شروع ہوا تھا جمعرات کو ختم ہو گیا۔ آج بھی دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ لوک سبھا ’وندے ماترم‘ کے ترانے کے بعد ملتوی ہو گئی اور راجیہ سبھا میں تقریباً ایک گھنٹے تک بحث ہوئی اور پھر یہ ملتوی کردیا گیا۔
لوک سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہونے کے بعد اراکین وندے ماترم گاین کے دوران ۔ تصویر: پی ٹی آئی
پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس جو ۲۰؍ جولائی کو شروع ہوا تھا جمعرات کو ختم ہو گیا۔ آج بھی دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ لوک سبھا ’وندے ماترم‘ کے ترانے کے بعد ملتوی ہو گئی اور راجیہ سبھا میں تقریباً ایک گھنٹے تک بحث ہوئی اور پھر یہ ملتوی کردیا گیا۔ اس بار کا مانسون اجلاس پوری طرح سے دھل (washout) گیا۔ چندہ چوری، جنتر منتر پر طلبہ کا احتجاج و لاٹھی چارج اور ایف سی آر اے بل سمیت کئی ایسے مسائل رہے جو بحث کا مرکز بنے۔ حالانکہ لوک سبھا اسپیکر نے ایوان کے کام کاج کے تعلق سے کوئی معلومات نہیں دی لیکن یہ واضح ہو گیا کہ دونوں ایوانوں میں بہت کم کام کاج ہوا۔ اجلاس میں مجموعی طور پر ۱۹؍ میٹنگیں تجویز کی گئی تھیں اور روزانہ ایوان کو تقریباً ۷؍گھنٹے کا کام کرنا تھا۔ اس حساب سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں تقریباً ۱۱۴۔۱۱۴؍ گھنٹے کا کام کاج ہونا تھا، لیکن بار بار کارروائی ملتوی ہونے کے باعث دونوں ایوان اس ہدف کے آس پاس بھی نہیں پہنچ پائے۔ اس دوران ٹیکس دہندگان کے کروڑوں روپے ضائع ہو گئے۔
یہ بھی پڑھئے: مشی گن: سینیٹ امیدوار السید کی پرائمری انتخابات میں فتح کےبعد مسلم مخالف نفرت میں زبردست اضافہ:رپورٹ
امیت شاہ ایوان میں پہنچے لیکن جواب نہیں دیا
نئی دہلی (ایجنسی):جمعرات کو لوک سبھا کی جب کارروائی شروع ہوئی تو سب سے پہلے وزیر داخلہ امیت شاہ ہی ایوان میں پہنچے۔ امیت شاہ کے پہنچتے ہی اپوزیشن کے اراکین نے ’معافی مانگو، معافی مانگو‘ اور ’لاٹھی کس نے چلائی‘ کے نعرے لگائے۔ اس کے بعد حکمراں جماعت کے اراکین نے ہنگامہ شروع کردیا۔ اس پر وزیر داخلہ امیت شاہ نے سب کو اشارہ کر کے بیٹھنے کو کہا لیکن اس دوران انہوں نے کسی سے کچھ نہیں کہا ۔ امیت شاہ کے سامنے کانگریس سمیت اپوزیشن کے اراکین نعرے لگا تے رہے اور جواب کا مطالبہ کرتے رہے لیکن انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔ اسی احتجاج اور ہنگامے کے درمیان وزیر اعظم مودی بھی ایوان میں پہنچ گئے۔ ان کے آتے ہی ’وندے ماترم‘ کا ترانہ ہوا اور لوک سبھا کی کارروائی کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی گئی ۔اس دوران راہل گاندھی بھی موجود تھے۔
اسپیکر کی چائے پارٹی کا بائیکاٹ لیکن کنی موزی کی شرکت
نئی دہلی (ایجنسی): مانسون اجلاس اختتام پذیرہونے کے بعد لوک سبھا اسپیکر کی جانب سے چائے پارٹی کا اہتمام کیا گیا، جس کا اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور ملکارجن کھرگے سمیت کئی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے بائیکاٹ کیا۔ وزیر اعظم مودی، امیت شاہ، راجناتھ سنگھ سمیت کئی لیڈران اس چائے پارٹی میں موجود تھے۔اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باوجود ڈی ایم کے کی لیڈر کنی موزی اسپیکر کی چائے پارٹی میں شامل ہوئیں۔کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر نے حسب روایت لوک سبھا میں اپنی تقریر نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ پارلیمنٹ کا کام کاج کیسا رہا، اس لیے حزب اختلاف نے ان کی روایتی چائے پارٹی کا بائیکاٹ کیا ہے۔ اس سے قبل چائے پارٹی میں پرینکا گاندھی کو بھیجنے کا پروگرام تھا جبکہ سونیا گاندھی اور ملکارجن کھرگے بھی چائے پارٹی میں شرکت کرنے والے تھے۔
ایوان میںکون کون سے بل منظور ہوئے ؟
مانسون اجلاس کے دوران حکومت نے کئی اہم بل منظور کرائے جن میں سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل، ایم ایس ایم ای ترقیاتی ترمیمی بل اورکیرالہ (نام کی تبدیلی) بل سمیت ۷؍ بل بغیر کسی بحث کے منظور کر لئے گئے جبکہ عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل پر ایوان میں تفصیلی بحث ہوئی اور اسے منظور کیا گیا ۔ یہ بل بعد میں راجیہ سبھا سے بھی منظور ہو گیا۔