کنگنا رناوت کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم

Updated: October 18, 2020, 8:05 AM IST | Staff Reporter | Mumbai

باندرہ میٹروپولیٹن کورٹ کا اہم فیصلہ، فلم اداکارہ اوران کی بہن رنگولی چنڈیلا کے بیانات اور سوشل میڈیا پیغامات کا جائزہ لینے کے بعد جج نے اتفاق کیا کہ جرم کا ارتکاب ہوا جس کی جانچ کی ضرورت ہے۔ فلم انڈسٹری پر ’’اسلام کی بالادستی‘‘ کا مضحکہ خیز الزام لگانےوالی اداکارہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی ملزم

Kangana Ranaut
کنگنا رناوت پر بالی ووڈ کو مسلسل بدنام کرتے رہنے کا بھی الزام عائد کیاگیاہے۔

اپنے غیر ذمہ دارانہ اور نفرت انگیز بیانات کی وجہ سے تنازعات میں گھری رہنے والی فلم اداکارہ کنگنا رناوت کے خلاف کرناٹک کے بعد اب ممبئی کی عدالت نے بھی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ باندرہ میں واقع میٹرو پولیٹن  مجسٹریٹ نے  سماج میں  فرقہ وارانہ منافرت  پھیلانے کے معاملے میں کنگنا اوران کی بہن رنگولی چنڈیلا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت  دی ہے۔  
 کنگنا کے متنازع بیانات  کے خلاف داخل کی گئی شکایت پر شنوائی کرتے ہوئے میٹروپولیٹن  مجسٹریٹ جے دیو گھُلے نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’’شکایت اوراس تعلق سے پیش کی گئی باتوں کا ابتدائی  جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ملزم سے قابل دست اندازی جرم کا ارتکاب ہوا ہے۔‘‘ کورٹ نے کہا ہے کہ ’’تمام الزامات الیکٹرانک میڈیا پر دیئے گئے ان کے بیانات ، ٹویٹس اور انٹرویو پر مبنی ہیں۔ ملزم نے ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا کا استعمال کیا ہے۔اس معاملے میں ماہرین کےذریعہ تفصیلی جانچ کی ضرورت ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی کورٹ نے ایف آئی آر درج کرنے کے حکم کے ساتھ ہی ساتھ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے  کہا ہے کہ ’’اس معاملے میں تلاشی اور ضبطی کی ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے متعلقہ پولیس اسٹیشن کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے کی جانچ کرے۔ 
 کنگنا رناوت کے خلاف  میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کے کورٹ میں یہ نجی شکایت کاسٹنگ ڈائریکٹر  اور فٹ نیس ٹرینر منور علی سید نے داخل کی تھی۔ انہوں  نے کنگنا  اور چنڈیل کے بیانات کاحوالہ دیتے ہوئے کورٹ بتایاکہ دونوں ملزمین نے سوشل میڈیا اور اپنے انٹرویوز کے ذریعہ تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۵۳(اے)، ۲۹۵ (اے)،  دفعہ ۱۲۴؍ جسے دفعہ ۳۴؍ کے ساتھ پڑھا جائے،  کے  تحت جرم کا ارتکاب کیا ہے۔  واضح رہے کہ یہ دفعات  بالترتیب سماج کے مختلف طبقات  کے درمیان  منافرت پھیلانے، جان بوجھ کر  اوربدنیتی کے ساتھ کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے  اور مشترکہ مقصد کے تحت غداری کرنے سے متعلق ہیں۔ 
 عرضی گزار نے اپنی شکایت میں بتایا ہے کہ وہ فلم انڈسٹری کے ممتاز ڈائریکٹرس کے ساتھ کام کرچکے ہیں اور گزشتہ چند مہینوں  سے سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں کہ کنگنا رناوت ’’بالی ووڈ کو مسلسل بدنام کررہی ہیں اور فلم انڈسٹری میں  کام کرنے والوں کو بدنام کرتے ہوئے یہ تاثر دے رہی ہیں کہ فلم انڈسٹری اقرباء پروروں، جانبداروں، منشیات کے عادیوں، فرقہ وارانہ طور جانب دار افراد اور قاتلوں کا گڑھ ہے۔‘‘ منورعلی سید کے مطابق کنگنا نہ صرف  لوگوں کے ذہنوں میں بالی ووڈ کی بہت خراب شبیہ بنارہی ہیں بلکہ ’’فرقہ وارانہ منافرت ا ور دوطبقات  میں دشمنی بھی پیدا کررہی ہیں۔‘‘ عرضی گزار نے کورٹ کو متوجہ کیا  ہے کہ کنگنا  اپنے بیانات کے ذریعہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنےوالے فن کاروں  کے درمیان دوریاں پیدا کررہی ہیں۔
  یادرہے کہ کنگنا رناوت نے اسلام کو بھی اس معاملے میں کھینچتے ہوئے کہاتھا کہ ’’اسلام  کی بالادستی والی انڈسٹری ‘‘میں  اس نے اپنی جان اور کریئر کو داؤ پر لگاکر   شیواجی اور رانی لکشمی بائی جیسی فلمیں بنائی ہیں۔ا س کا حوالہ دیتے ہوئے منور علی نے اپنی شکایت میں واضح کیا ہے کہ ’’مذہب اسلام کا فلموں کے کاروبار سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور دوم یہ کہ ملزم  ہندی فلم انڈسٹری میں ہندو اور مسلم فنکاروں  کے بیچ تفرقہ ڈال کر نفرت پھیلانا چاہ رہی ہے۔اس سے نہ صرف میرے مذہبی جذبات مجروح ہوئےہیں بلکہ میرے کئی ساتھی فنکاروں کے مذہبی جذبات کو بھی ٹھیس پہنچی ہے۔‘‘

ہفتے بھر میں دوسری ایف آئی آر


  ہفتے بھر میں  یہ دوسری ایف آئی آر ہوگی جو عدالت کے حکم پر پولیس کنگنا رناوت کے خلاف درج کرے گی۔  اس  سے قبل زرعی بل کے خلاف مظاہرہ کرنے والے کسانوں  کے تعلق سے بدزبانی کرنے پر کرناٹک کی ایک عدالت کنگنا کے خلاف ایف آئی آردرج کرنے کا حکم دے چکی ہے۔ یہ ایف آئی ۱۳؍ اکتوبر کو درج کی جاچکی ہے۔ کنگنا نے زرعی بل کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانو ں کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتےہوئے ٹویٹ کیاتھا کہ’’ جن لوگوں نے سی اے اے کے تعلق سے غلط فہمیاں پھیلا کرفساد کروایا وہی زرعی بل کے تعلق سے بھی غلط فہمی پھیلاکر ملک میں دہشت کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ لوگ دہشت گرد ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK