جائزہ میں پایا گیا کہ اکثر مقامات پر آلودگی کی پیمائش کے آلات نصب نہیں کئے گئے، ہری جالیوں سے سائٹ کو نہیں ڈھانکا گیا اور پانی کا چھڑکائو نہیں کیا جاتا ہے۔
ممبئی میں فضائی آلودگی کی وجہ سے دھند چھائی ہوئی ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی
فضائی آلودگی کو قابو کرنے کے اصولوں کی خلاف ورزی پر شہر و مضافات کے ۲۳۳؍ تعمیراتی پروجیکٹ پر بی ایم سی نے روک لگادی ہے۔
بی ایم سی افسران کے مطابق یکم دسمبر سے ۳۱؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کے درمیان شہر و مضافات میں جاری تعمیراتی کام کی ۵۵۷؍ سائٹ کو نوٹس بھیج کر ان مقامات پر فضائی آلودگی قابو کرنے کے قواعد کی خلاف ورزی کے تعلق سے انتباہ دیا گیا تھا اور جلد از جلد اصولوں کی پابندی کی ہدایت دی گئی تھی۔
شہری انتظامیہ کے افسران کے مطابق جائزہ کے دوران زیادہ تر مقامات پر جو خلاف ورزیاں پائی گئیں ان میں فضائی آلودگی کی پیمائش کے آلات نصب نہیں کئے گئے تھے، پانی کا چھڑکائو نہیں کیا جاتا، ہری رنگ کی جالیوں سے سائٹ کو ڈھانکا نہیں جاتا اور تعمیرات میں استعمال ہونے والی اشیاء کو ڈھانک کر نہیں رکھا جاتا۔نوٹس جاری کرنے کے بعد جب ان مقامات کا دوبارہ جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ ۲۳۳؍ مقامات پر سدھار نہیں آیا ہے جس کی وجہ سے ان سب جگہوں پر کام بند کرنے کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ یہ کارروائی موسم سرما میں بڑھتی فضائی آلودگی کو قابو کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔
بی ایم سی کے اعداد و شمار کے مطابق ممبئی میں ایک ہزار ۸۰؍ تعمیراتی سائٹ پر فضائی آلودگی کی پیمائش کے آلات نصب ہیں۔ جن جگہوں پر ’ایئر کوالٹی انڈیکس‘ (اے کیو آئی) ۲۰۰؍ سے زائد ریکارڈ کیا گیا ہے وہاں فضائی آلودگی کی خصوصی طور پر نگرانی کی جارہی ہے اور ان مقامات پر جاری تعمیراتی سائٹ پر آلودگی قابو کرنے کے اقدام کی سختی سے جانچ کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ سردیوں میں درجہ حرارت کم رہنے اور ہوائوں کے کم رفتار سے چلنے کی وجہ سے دھول مٹی فضا میں معلق رہ جاتی ہے جس سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے اور عام طور پر اکتوبر سے فروری کے درمیان یہ مسئلہ قائم رہتا ہے۔
بی ایم سی نے وارڈوں کی سطح پر فضائی آلودگی کو قابو کرنے کے اقدامات کی نگرانی کیلئے ’اسپیشل انفورسمنٹ ٹیمیں‘ تشکیل دی ہیں۔ جن سائٹ پر اصولوں کی پابندی نہیں کی جاتی وہاں کام رکوا دیا جاتا ہے اور اگر کوئی بار بار خلاف ورزی کرتا پایا جاتا ہے تو اس پر جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ دیگر قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
اس تعلق سے شہری انتظامیہ کو یہ بھی تشویش ہے کہ کئی نجی ایجنسیاں مختلف مقامات پر آلودگی کی پیمائش کے آلات کو ’کیلیبریٹ‘ کرنے کے بجائے دیگر غیر معتبر ذرائع سے آلودگی کی تفصیل فراہم کردیتی ہیں جن کی وجہ سے صحیح حالات معلوم نہیں ہوپاتے۔ بی ای سی نے متعلقہ افراد اور کنسٹرکشن سائٹ پر ’مہاراشٹر پلوشن کنٹرول بورڈ‘ (ایم پی سی بی) کے ذریعہ بتائے گئے اصولوں پر عملدرآمد کرنے کی درخواست کی ہے۔