کانگریس،ونچت بہوجن اگھاڑی (وی بی اے)، راشٹر سماج پکش اور ریپبلکن پارٹی آف انڈیا (گوَی) کے اس مشترکہ منشور میں میونسپل اسپتالوں میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی جیسی سہولتیں مہیا کرانے، ۲۰؍ فیصد مفت پانی سپلائی، ہر سال ۸؍ فیصد پانی ٹیکس کی شرح میں اضافہ کوختم کرنے، بند اسکولوں کو دوبارہ شروع کرنے، ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے مفت کچرا اٹھانے کی سروس شروع کرنےاور اسمارٹ بجلی میٹر نہ لگانے جیسے اعلانات شامل ہیں۔
پریس کانفرنس میںممبئی کانگریس کی صدر، رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑاوردیگر۔ تصویر: آئی این این
کانگریس،ونچت بہوجن اگھاڑی (وی بی اے)، راشٹر سماج پکش اور ریپبلکن پارٹی آف انڈیا (گوَی) سے مل کر بنائی گئی ’ممبئی وکاس اگھاڑی (ایم وی اے)‘ کا بی ایم سی انتخابات کا مشترکہ منشور ’ ممبئی مشن‘ منگل کو بی ایم سی کے صدر دفتر کے سامنے آزاد میدان کے گیٹ پر منعقدہ پریس کانفرنس میں جاری کیا گیا۔’’تنازع نہیں ترقی چاہئے ‘‘ کے نعرے کے ساتھ متذکرہ ۴؍ پارٹیوں کے لیڈروں نےاپنا ۱۲؍ صفحات پر مشتمل منشور پیش کیا۔منشور میں ۱۸؍ نکات کے تحت سہولتوں میں بہتری لانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس میں خصوصی طور پر میونسپل اسپتالوں میں سی ٹی اسکین ، ایم آر آئی اور ڈیلائیسس جیسی سہولتیں مہیا کرانے، ۲۰؍ فیصد مفت پانی سپلائی، ہر سال ۸؍ فیصد پانی ٹیکس کی شرح میں اضافہ کوختم کرنے، بی ایم سی کی بند اسکولوں کو دوبارہ شروع کرنے، سڑکوں کو گڑھوں سے پاک اور سیمنٹ کا تعمیر کرنے، سوسائٹیوں میں مفت کچرا اٹھانے کی سروس شروع کرنے، بدعنوان کی جانچ کروانے، اسمارٹ بجلی میٹر لگاکر صارفین کی لوٹ کو روکنےاور قبرستان میں جدید مٹی کا استعمال کرنے جیسے کئی وعدے کئے گئے ہیں۔
ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ، رکن اسمبلی اور کمپین کمیٹی کے صدر امین پٹیل،رکن اسمبلی اسلم شیخ، ترجمان سچن ساونت،ری پبلکن پارٹی آف انڈیا (گَوئی) کے سربراہ راجیندر گوَی اور دیگر لیڈر موجود تھے۔
پریس کانفرنس کے شروع میں سچن ساونت نے ممبئی مشن کے طو رپر منشور کا تعارف پیش کیا اور بتایا کہ ’’ممبئی کی پہچان ممبئی اور مہاراشٹر کے دارالحکومت کے ساتھ ساتھ یہاں کے شہریوں سے بھی ہوتی ہے یہاں شہری مل جل کر اتحاد کے ساتھ رہتے ہیں ۔ بھائی چارگی اور سبھی کو ساتھ لے کر چلنے کا جذبہ یہاں پایا جاتا ہے اور ممبئی یہاں کے شہریوں کے اس رویے سے بھی جانی جاتی ہے لیکن اب اس کی یہ پہچان کومذہب، زبان اور علاقائیت کی تفریق پیدا کر کے ختم کرنے کوشش کی جارہی ہے۔آج ممبئی کے شہریوں کو متحد کرنے اور تنازع سے ترقی کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔ممبئی کے شہریوں میں ایک دوسرے کو جذباتی طور پر جوڑنے کا جو جذبہ تھا اسے دوبارہ پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ آج ممبئی میں محض سیٹھ اور امیروں کی سہولت کے کام ہورہے ہیں اور شہری خزانے کا غلط استعمال کیاجارہا ہے۔ اس لوٹ مار کو روکنے اور شہریوں کو ان کے حق کی سہولتیں مہیا کرانے کیلئے ممبئی وکاس اگھاڑی قائم کی گئی اور اس میں شامل پارٹیوں نے مشترکہ طو رپر منشور تیار کیا ہے جسےممبئی کانگریس کی صدر اور دیگر لیڈر پیش کر رہے ہیں۔‘‘
ممبئی کا مشن ۲۰۲۶ء
ممبئی کانگریس کی صدر اور رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نےکہا کہ ’’ہمارا منشور ممبئی کے عام شہریوں کی آواز ہے۔گزشتہ ۳؍ سال ۹؍ مہینے سے زیادہ مدت تک میونسپل الیکشن نہ کرانے سے بی ایم سی میں کوئی کارپوریٹر نہیں جس کی وجہ سے ریاستی حکومت نے شہری خزانے اور اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔‘‘ انہوںنے کہا کہ ہمارے اقتدار میں صحت کی سہولتیں بڑھانے، بند ہونے والی میونسپل اسکولوں کو دوبارہ شروع کرنے ، میونسپل اسکولوں میں سہولتوں میں اضافہ کرنے، کلاس روم، پانی اور بیت الخلاء کی سہولتیںمہیا کرائی جائیں گی۔ اسی طرح بیسٹ کی ملکیت والی بسوں کی تعداد ۶؍ ہزار ۵۰۰؍ تک بڑھانے کا عزم ہم نے کیا ہے۔ اسی طرح اسمارٹ میٹر کے نام پر صارفین پر جو جبر کیا جارہا ہےاور انہیں لوٹا جارہا ہے اسے روکا جائے گا۔اس کے علاوہ ممبئی کے شہریوںکو ہیلتھ کارڈجاری کرنا اور انہیں علاج کی بہتر سہولتیں مہیا کرنے کا عزم بھی ہمارے منشور میں کیا گیا ہے۔اس سے قبل ہم نے بیسٹ سے متعلق اپنا جزوی منشور ممبئی سینٹرل بس ڈپو کے سامنے اور فضائی آلودگی کے تعلق سے اپنا جزوی منشور نریمان پوائنٹ میں پیش کیا ہے۔ممبئی میں تیزی سے بڑھتی آلودگی کو قابو میں کرنےکاعزم بھی کیا تھا۔‘‘
اس دوران ورشا گائیکواڑ نے یہ بھی کہا کہ’’ یہ بی ایم سی کا الیکشن ہے اور اس میں ممبئی کے مسائل پر بات نہ کرتے ہوئے مذہبی منافرت، فرقہ وارانہ تفریق اور علاقائی منافرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے، حالانکہ ہم اور ممبئی کے شہریوں کو تنازع نہیں ترقی چاہئے۔‘‘
پریس کانفرنس میں انتخابی مہم کمیٹی کے صدر امین پٹیلنے کہاکہ’’ گزشتہ ۲۵؍ برسوں سے بی ایم سی میں برسر اقتدار پارٹیوں نے شہر ی خزانے کو لوٹنے اور برباد کرنے کا کام ہی کیا ہے۔آج ممبئی کے شہریوں کو بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں۔ ممبئی وکاس اگھاڑی کے منشور میں بنیادی اور چھوٹی چھوٹی باتوں کابھی دھیان رکھا گیا ہے۔ آج ممبئی کے کئی علاقوں میں شہریوں کو پینے کیلئے صاف پانی میسر نہیں۔ہماری اگھاڑی یومیہ ۵؍ ہزار ملین لیٹر پانی سپلائی کرے گی تاکہ ہر گھر کے نل میں پینے کا صاف پانی میسر ہو سکے۔ پرائیویٹ بسوں کو بند کر کے بیسٹ بسوں کی پروان چڑھایاجائے گا۔ ہر محکمہ سے بدعنوانی ختم کی جائے گی، کلسٹر پالیسی جو ۴؍ ہزار میٹر پر نافذ کی جارہی ہے اسے ، ۳؍ ہزار میٹر پر نافذ کیاجائے گا تا کہ زیادہ سے زیادہ عمارتوں کو اس سےفائدہ مل سکے۔مخدوش عمارتوں کے ری ڈیولپمنٹ کے لئےایف ایس آئی دی جائے گی۔‘‘